توانائی شعبے کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے کورونا ریلیف فنڈ سے 10 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے غیر ملکی تجارتی قرضوں کی ری شیڈولنگ کے خلاف بھی فیصلہ کیا۔ اے ایف پی:فائل فوٹو
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے غیر ملکی تجارتی قرضوں کی ری شیڈولنگ کے خلاف بھی فیصلہ کیا۔ اے ایف پی:فائل فوٹو

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاور پلانٹس کے قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کے بارے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں مذاکرات اور کورونا ریلیف پیکج سے توانائی کے شعبے میں سود کی ادائیگیوں کے لیے تقریباً 10 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں غیر ملکی تجارتی قرضوں کی ری شیڈولنگ کے خلاف بھی فیصلہ کیا گیا کیونکہ انہوں نے جی-20 ممبران کے ساتھ تقریبا 2.04 ارب ڈالر کی امداد سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ای سی سی نے صلاحیتی چارجز کو کم کرنے کے لیے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) اور جنریشن کمپنیوں سے مذاکرات کے حوالے سے شرائط کی بھی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے 100 ارب روپے کے زرعی پیکج کی منظوری دے دی

ذرائع کے مطابق عہدیداروں نے بجلی پیدا کرنے والوں کی جانب سے لیے گئے قرضوں کے بارے میں ای سی سی کو آگاہ کیا جو موجودہ 10 سال کی مدت سے بڑھا کر 20 سال تک کی جاسکتی ہے اور مصنوعی ری فنانسنگ ڈھانچے کے تحت بانڈز کے اجرا کے ذریعے مالیاتی خلا کو پُر کیا جاسکتا ہے۔

میاں منشا کی سربراہی میں کاروباری برادری کے ایک گروپ نے ابتدائی طور پر یہ تجویز وزارت خزانہ کو پیش کی تھی۔

اس اسکیم میں تقریبا 10 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت شامل ہوگی جو ایسے منصوبوں پر مشتمل ہے جس میں قرضوں کی خدمت کے 3 سے 4 سال کی مدت باقی ہے۔

یہ اسکیم 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل بجلی منصوبوں پر لاگو ہوگی۔

ہر سال اصل قرض کی مدت ختم ہونے پر پائے جانے والے شارٹ فال کو پاور ڈویژن کی ایک شیل کمپنی، پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کی جانب سے بانڈز سے مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ اس وقت تمام پاور پلانٹس فرنٹ لوڈ ہیں، پہلے 10 سالوں میں سارا قرض دوبارہ ادا کیا جاسکتا ہے اگر 25-30 سال منصوبے کی زندگی رہی۔

قرض میں توسیع کی صورت میں قرض کی اصل مدت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی لیکن بینک 10 - 13 سال سے زائد عرصے کے لیے بانڈز کے ذریعے قرض پریمیم پر خریدیں گے۔

موجودہ قرض دینے والے کو وہی ملے گا جس کا اس نے معاہدہ کیا تھا تاہم اس سے بجلی خریدنے والے کی ذمہ داری بڑھ جائے گی۔

اسی طرح صارفین کے لیے طویل مدت میں دیکھا جائے تو قیمت زیادہ ہوگی تاہم ابتدائی برسوں میں انہیں تقریبا 65 پیسے فی یونٹ کم ملے گا۔

ای سی سی نے پاکستان انرجی سکوک۔ 2 کو چھ ماہ کی مدت کے لیے سود کی ادائیگی کے لیے خلا روکنے کے انتظام کے تحت پیکج سے 10 ارب روپے مختص کرنے کی اجازت بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی نے مزدوروں، یومیہ اجرت والوں کیلئے 75 ارب روپے مختص کردیے

اس میں نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کی تجویز بھی پیش کی گئی جس کی سفارش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی ڈاکٹر عشرت حسین تھے۔

کابینہ کی منظوری کے تحت ای سی سی نے اقتصادی امور ڈویژن کو جی -20 گروپ کے قرض سے ریلیف کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کرنے کی اجازت دی۔

اس اقدام کے تحت پاکستان کو جی -20 کے قرض سے نجات کے اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پیرس کلب کے قرض دہندگان سمیت تمام سرکاری دو طرفہ قرض دہندگان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی میں وزیر منصوبہ بندی، وزیراعظم کے مشیر خزانہ، مشیر تجارت، مشیر غربت کا خاتمہ، کورونا کے حوالے سے وزیر اعظم کے فوکل پرسن اور سیکریٹری فنانس شامل تھے۔