معروف اسٹیج و ٹی وی اداکار صغیر الٰہی کورونا کے باعث انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

صغیر الہٰی کے قریبی رشتہ دار بھی کورونا کے باعث فوت ہوچکے ہیں—فوٹو: فیس بک
صغیر الہٰی کے قریبی رشتہ دار بھی کورونا کے باعث فوت ہوچکے ہیں—فوٹو: فیس بک

سندھی و اردو اسٹیج تھیٹرز اور ڈراموں کے معروف اداکار صغیر الہٰی کھچی کئی دن تک کورونا میں مبتلا رہنے کے بعد چل بسے۔

صغیر الہیٰ کچھی نے ریڈیو اور ٹی وی سمیت اسٹیج تھیٹرز میں بھی شاندار کردار ادا کیے جب کہ انہوں نے گانوں میں ماڈلنگ بھی کی۔

صغیر الہٰی کچھی کو ان کے مزاحیہ اور تاریخی کردار ادا کرنے کے باعث شہرت حاصل تھی، وہ سندھ کے ان چند فنکاروں میں سے تھے جنہوں نے خود سے بڑی عمر کے اداکاروں سمیت خود سے انتہائی کم عمر اور نئے اداکاروں کے ساتھ بھی کام کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کی۔

صغیر الٰہی کو تاریخی اور مزاحیہ کرداروں کی وجہ سے کافی شہرت حاصل رہی اور انہیں ان کی اداکاری کے عوض متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

صغیر الہٰی کھچی کا تعلق صوبہ سندھ کے شمالی ضلع لاڑکانہ سے تھا اور وہ جس علاقے میں رہتے تھے، وہاں کورونا وائرس کے درجنوں کیسز سامنے آئے اور اسی محلے کے کم از کم 11 افراد کورونا کے باعث چل بسے ہیں۔

سندھی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صغیر الہٰی کچھی کورونا کے باعث فوت ہوگئے، ان کی تدفین بھی کورونا اقدامات کے تحت کی گئی۔

صغیر الہٰی کچھی میں ایک ماہ قبل کورونا کی تشخیص ہوئی تھی اور ان سے قبل ان کے قریبی رشتہ داروں اور اہل محلہ میں بھی کورونا کی تشخیص ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں ایک روز میں ریکارڈ 20 اموات، ملک میں متاثرین 48 ہزار سے زائد

صغیر الٰہی سے قبل ان کی ہی برادری کے 11 کھچی افراد بھی کورونا سے چل بسے تھے، جن میں سے ایک ہی گھر کے 4 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔

ان کے محلے سمیت لاڑکانہ کے دیگر محلوں میں بھی کورونا کے نئے کیسز میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، اس وقت ملک میں سب سے زیادہ کیسز بھی صوبہ سندھ میں ہے اور لاڑکانہ کیسز کے حوالے سے صوبے کے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں شامل ہے۔

سندھ میں 21 مئی کی سہ پہر تک کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 19 ہزار 924 تک جا پہنچی تھی جب کہ سندھ میں اموات کی تعداد 336 تک جا پہنچی تھی۔

سندھ میں 21 مئی کو پہلی بار ریکارڈ 20 اموات ہوئیں اور نئے 960 کیسز بھی سامنے آئے۔

اسی طرح ملک بھر میں 21 مئی کی سہ پہر تک کیسز کی مجموعی تعداد 48 ہزار 354 جبکہ اموات 1030 ہوچکی تھیں۔