ملک میں آئندہ ہفتے کورونا کیسز میں 15 سے 20 فیصد اضافے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 22 مئ 2020

ای میل

کیسز میں اضافے کی فیصد کا تعین کرنے کے لیے آئندہ ہفتے ہم بہتر پوزیشن میں ہوں گے—فاائل فوٹو: اے ایف پی
کیسز میں اضافے کی فیصد کا تعین کرنے کے لیے آئندہ ہفتے ہم بہتر پوزیشن میں ہوں گے—فاائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: حکام نے جہاں ایک روز کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ ٹیسٹس کیے وہیں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ لاک ڈاؤن ہٹانے کی وجہ سے آئندہ ہفتے سے روزانہ کے کیسز میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 15 ہزار 346 ٹیسٹس کیے گئے جس میں سے 6 ہزار 165 سندھ، 5 ہزار 439 پنجاب، ایک ہزار 644 خیبرپختونخوا اور ایک ہزار 331 ٹیسٹ سلام آباد میں کیے گئے۔

مجموعی طور پر ملک میں اب تک کووِڈ 19 کی تشخیص کے لیے 4 لاکھ 29 ہزار 600 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک روز کے دوران ملک میں 2 ہزار 132 نئے کیسز اور 42 اموات رپورٹ ہوئیں جن میں سے 350 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 10 ہزار 900 ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں ایک روز میں ریکارڈ 20 اموات، ملک میں متاثرین 49 ہزار سے زائد

اس حوالے سے قومی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عامر اکرم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اندازوں کے مطابق حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن ہٹانے کے فیصلے کے نتیجے میں روزانہ کے کیسز میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وائرس کے ظاہر ہونے کا عرصہ 5 سے 7 دن ہے اس لیے ہمیں خدشہ ہے کہ عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے روزانہ کی کیسز کی تعداد بھی بڑھے گی۔

تاہم ان کے بقول کیسز میں اضافے کی فیصد کا تعین کرنے کے لیے آئندہ ہفتے ہم بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کووِڈ 19 کے کیسز میں تھوڑے سے لے کر تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کیسز میں اضافہ 15 سے 20 فیصد ہوا تو ہمارے کے لیے یہ اطمینان کی بات ہوگی کیوں کہ ہم اس صورتحال سے نمٹ سکیں گے لیکن اس میں مزید تیزی مسئلہ بن سکتی ہے جو ہوسکتا ہے حکومت کو لاک ڈاؤن ہٹانے کے فیصلے پر دوبارہ غور کے لیے مجبور کرے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کا علاج جون میں دستیاب ہونے کا امکان

انہوں نے عوام کو ہدایت کی کہ عید کے موقع پردوست احباب سے ملاقاتوں میں، مارکیٹ اور کام کی جگہوں پر جاتے ہوئے احتیاطی اقدامات اپنائیں۔

یہ بات مد نظر رہے کہ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر بھی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر عوام احتیاط کرنے میں ناکام رہے تو حکومت کاروباری اور صنعتی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر عامر اکرام کا کہنا تھا کہ عید کی تعطیلات کے باجود این سی او سی ملک میں وبا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے روزانہ اجلاس کرے گی ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے عملے کی دستیابی کے انتظامات کرلیے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے وزیراعظم عمان خان اور صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے نام خطوط ارسال کر کے ملک میں وائرس کی موجودہ صورتحال سے ڈاکٹروں، نرسز اور طبی عملے کی جانوں کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہیلتھ ورکرز کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں اور پُر تشدد حادثات سے انہیں محفوظ رکھنے کے لیے ہسپتالوں میں سیکیورٹی فراہم کی جائے۔