سی پیک پاکستانی معیشت کیلئے فائدہ مند ہے، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 22 مئ 2020

ای میل

چین نے سی پیک پر امریکی بیان کو مسترد کردیا—فائل/فوٹو:ڈان
چین نے سی پیک پر امریکی بیان کو مسترد کردیا—فائل/فوٹو:ڈان

دفترخارجہ نے امریکی سفیر ایلس ویلز کی جانب سے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر کی گئی تنقید کے بعد اپنے بیان میں واضح کردیا ہے کہ پاکستانی معیشت پر اس کے مثبت اثرات ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'چین اور پاکستان سدابہار اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور ہم باہمی احترام، سود مند تعاون اور مشترکہ ترقی کے اصولوں کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کو بڑھانے میں مصروف ہیں'۔

چین سے تعلقات پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 'ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر قائم ہیں'۔

مزید پڑھیں:امریکا نے پاک چین تعلقات خراب کرنے کی ناکام کوشش کی، چین

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 'اقتصادی ترقی اور عوام کی پائیدار فلاح ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام (بی آر آئی) کا فیگ شپ منصوبہ ہے، جو پاکستان کی قومی ترقی میں شفاف اور مثبت تعاون کرنے والا اصلاحاتی منصوبہ ہے'۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'پاکستان سمجھتا ہے کہ علاقائی معاشی رابطہ کاری سے پورے خطے میں وسیع پیمانے پر بہتری کے لیے ایک تحریک پیدا ہوگی'۔

قرضوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'سی پیک کے منصوبوں سے متعلق قرضوں پر پہلے بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ اس کی شرح مجموعی قرضوں سے 10 فیصد سے بھی کم ہے'۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'چین سے حاصل کیا گیا قرض 20 سال پر محیط ہے اور اس پر سود 2.34 فیصد ہے اور اگر گرانٹس کو بھی شامل کرلیا جائے تو سود مزید فیصد کے قریب کم ہوجاتا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:پاک چین اقتصادی راہداری کا ماسٹر پلان کیا ہے؟

بیان میں کہا گیا کہ 'سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرضوں پر چند ماہرین اور سرکاری عہدیداروں کے بیانات حقائق کے برخلاف ہیں'۔

دفترخارجہ نے کہا کہ 'ہم اس بات کو دہراتے ہیں کہ سی پیک ایک طویل مدتی منصوبہ ہے، جس نے توانائی، انفرا اسٹرکچر، صنعتوں اور روزگار کی تخلیق کے لیے پایا جانے والے خلا کو پر کرنے میں مدد کی ہے'۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اور چین کو باہمی مفاد کے کئی معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے کئی طریقے ہیں اور دونوں ممالک مسائل کو حل کرنے کے لیے باہمی طور پر مسلسل رابطے میں ہیں'۔

خیال رہے کہ جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے لیے امریکا کی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے آن لائن میڈیا بریفنگ میں سی پیک او بی آر آئی پر چین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے شکاری قرض کی شرائط سے ممالک کو آزاد کرے۔

انہوں نے کہا تھا کہ چین کے بی آر آئی شکاری قرضوں سے جو ملک مشکلات کا شکار ہیں، چین انہیں شفاف طریقے سے ریلیف فراہم کرے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شفافیت کی کمی اور اس منصوبے میں شریک چینی کمپنیوں کو منافع کی جس نامناسب شرح کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اس کی وجہ سے امریکا کو پاک-چین اقتصادی راہداری پر تحفظات ہیں۔

دوسری جانب چین نے امریکی سفیر کے بیانات کو مسترد کردیا تھا اور اس بیان کی مذمت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:2020 میں پاک ۔ چین تعلقات صرف سی پیک تک محدود نہیں رہیں گے،چینی سفیر

پاکستان میں تعینات چین کے سفیر نے ردعمل میں ایلس ویلز کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر بے بنیاد اور ان کے پرانے مؤقف کا تسلسل قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو برابر کا شراکت دار سمجھتے ہیں اور ہم نے پاکستان سے کبھی بھی 'ڈومور' کا مطالبہ نہیں کیا، پاکستان کے ترقی کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی، ہم نے ہمیشہ خطے میں پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو اجاگر کیا اور کبھی بھی ان پر دباؤ نہیں ڈالا۔

چین کے سفیر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری دراصل پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی ایک منصوبہ ہے، اس میں ہمیشہ باہمی فوائد، تعاون اور شفافیت کا مظاہرہ کیا گیا۔

ان کا مزیدکہنا تھا کہ دونوں فریقین نے سائنسی تحقیق اور برابری کی بنیاد پر مشاورت کے بعد منصوبہ بندی کی اور اس پر عمل درآمد شروع کیا، اس منصوبے میں کام کرنے والی تمام چینی کمپنیاں اپنے اپنے شعبوں میں صف اول کی حیثیت رکھتی ہیں اور مقامی قوانین کی مکمل طور پر پاسداری کرتے ہوئے کام کررہی ہیں۔

چین نے واضح کیا کہ وہ پاکستان پر قرض کی واپسی کے لیے کبھی بھی دباؤ نہیں ڈالے گا اور قرض کے حوالے سے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئیں۔