شہباز شریف کا وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 22 مئ 2020

ای میل

شہباز شریف کے مطابق عمران خان نے عوام کا آٹا،چینی چوری کرنے  کے تمام فیصلوں کی منظوری دی—فائل فوٹو: رائٹرز
شہباز شریف کے مطابق عمران خان نے عوام کا آٹا،چینی چوری کرنے کے تمام فیصلوں کی منظوری دی—فائل فوٹو: رائٹرز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہباز شریف نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ قوم کو لوٹنے کی اجازت دینے والے وزیراعظم عمران خان مستعفی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ذمہ دار نہ ٹھہرا کر رپورٹ میں سیاہ کو سفید ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے پہلے قومی خزانہ لوٹنے کی اجازت دی پھر کہا کہ جنہوں نے لوٹا ہے انہیں گرفتار کرلو۔

مزید پڑھیں: خود پر لگنے والے ہر الزام کو غلط ثابت کروں گا، جہانگیر ترین

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عوام کا آٹا، چینی چوری کرنے کے تمام فیصلوں کی منظوری دی، اب وہ اس کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈال سکتے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قوم کو لوٹنے کا لائسنس دیا، اس پر دستخط عمران خان نے کیے، عوام کی چینی چوری کرنے والے گروہ کے سرغنہ کا نام وزیراعظم عمران خان ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں چینی کا ذخیرہ تھا ہی نہیں، پھر وزیراعظم نے اجازت کیوں دی؟

اپوزیشن لیڈر نے شوگر ایڈوائزری بورڈ اور سیکریٹری خوراک نے مخالفت کی تو پھر وزیراعظم عمران خان نے چینی کی برآمد کی اجازت کیوں دی؟

ان کا کہنا تھا کہ قوم کو 2، 2 مرتبہ لُوٹا گیا، ایک مرتبہ برآمد کی اجازت دے کر اور پھر 36 روپے فی کلو مہنگی چینی فروخت کرکے لوٹا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ چینی باہر بھیجنے کی اجازت دینے سے لے کر اس کی ذخیرہ اندوزی اور مقامی مارکیٹ میں مہنگی فروخت ہونے تک، یہ سب عمران خان کے جرائم ہیں۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ دوسروں کو قربانی کا بکرا بنانے سے عمران خان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوگی، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کے سربراہ کے طورپر ہر فیصلے کے ذمہ دار وزیراعظم ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ پبلک کی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے تھے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اکاؤنٹنگ کی مد میں فراڈ ہوا ہے اور گنے کی خریداری میں انڈر رپورٹنگ کی جارہی ہے، پاکستان میں جتنا گنا پیدا ہوتا ہے اور جتنی چینی پیدا ہوتی ہے اور جتنی فروخت ہوتی ہے اس میں 25 سے 30 فیصد کا فرق آرہا ہے۔

مزید پڑھیں: چینی بحران: 'جہانگیر ترین،مونس الہٰی،شہباز شریف فیملی کی ملز نے کھاتوں میں ہیر پھیر کی'

شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ شوگر ملز کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے 6 بڑے گروہ جو پاکستان کی چینی کی 51 فیصد پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کے پیداواری حجم کی بنیاد پر آڈٹ کیا گیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ سب سے بڑا گروپ جے ڈی ڈبلیو ہے جن کا چینی کی پیداوار میں 20 فیصد کے قریب حصہ، آر وائے کے کا 12فیصد، المعیذ گروپ کا 6.8 فیصد، تاندیا والا کا 5 فیصد، شریف گروپ کا 4.5 فیصد اور اومنی گروپ کا 1.6 فیصد حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گندم کی خریداری میں کمی آٹے کے بحران کی وجہ بنی، رپورٹ

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ جے ڈی ڈبلیو شوگر مل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما جہانگیر ترین کے 21 فیصد حصص ہیں، علی خان ترین کے 13 فیصد، احمد محمود صاحب کے 26 فیصد شیئرز ہیں اور یہ واحد کمپنی ہے جس میں 24 فیصد شیئر عوام کا ہے، انہوں نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو نے 2 کھاتے رکھے تھے، اوور انوائسنگ اور انڈر رپورٹنگ بھی پائی گئی۔

شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ جے ڈی ڈبلیو نے کرشنگ یونٹس میں اضافہ کیا، بگاس اور مولیسس کی فروخت کو انڈر انوائس کیا جس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں کارپوریٹ فراڈ بھی سامنے آیا اور جے ڈی ڈبلیو کی جانب سےفارورڈ سیلز، بے نامی فروخت اور سٹہ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔