طیارہ حادثہ: وزیر ہوا بازی، پی آئی اے سربراہ کےخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست

اپ ڈیٹ 28 مئ 2020

ای میل

درخواست میں مؤقف اختایر کیا گیا کہ حادثے کی مقامی سطح پر تحقیقات پر بلکل اعتماد نہیں ہے — فائل فوٹو / ڈان
درخواست میں مؤقف اختایر کیا گیا کہ حادثے کی مقامی سطح پر تحقیقات پر بلکل اعتماد نہیں ہے — فائل فوٹو / ڈان

کراچی کی مقامی عدالت میں طیارہ حادثے کا مقدمہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان، پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک اور دیگر کے خلاف درج کرنے کی درخواست دائر کردی گئی۔

وکیل کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں جہاز کی جانچ پڑتال یقینی بنانے میں مبینہ غفلت برتنے پر حادثے کا مقدمہ غلام سرور خان، ایئر مارشل ارشد ملک اور انجینیئرنگ افسران کے خلاف درج کرنے کے لیے پولیس کو ہدایت کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار قادر خان مندوخیل نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ضلعی جج (شرقی) خالد حسین ممکنہ طور پر کل (جمعہ) درخواست کی سماعت کریں گے۔

اپنی درخواست میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) شرقی اور ماڈل کالونی تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو وزیر ہوا بازی، پی آئی اے سربراہ اور دیگر کے خلاف حادثے کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں تباہ ہونے والے طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گیا

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ علامہ اقبال ایئرپورٹ لاہور کے گراؤنڈ انجینیئر اور دیگر اراکین کی ذمہ داری تھی کہ وہ طیارے کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرتے اور کوئی تکنیکی خرابی سامنے آنے پر اسے پرواز سے روکتے، لیکن وہ جہاز کی جانچ پڑتال اور ضروری اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ غلام سرور خان، ارشد ملک، چیف انجینیئر، گراؤنڈ انجینیئر اور عملے کے دیگر ارکان حادثے کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں جس میں جہاز کے عملے سمیت 97 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

قادر خان مندوخیل نے کہا کہ انہوں نے ان افراد کے خلاف ماڈل کالونی تھانے کے ایس ایچ او کو شکایت درج کرائی جو زیر التوا ہے اور ملزمان کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں حادثے کی مقامی سطح پر تحقیقات پر بلکل اعتماد نہیں ہے، اس لیے بین الاقوامی سطح پر اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تحقیقات میں تاخیر سے حادثے کے ذمہ داروں کو فائدہ پہنچے گا اس لیے حادثے کا شکار جہاز کے پائلٹ کا وائس باکس، طیارے کا بلیک باکس، ڈیجیٹل باکس اور ویڈیو ریکارڈنگ، ریکارڈ پر لائی جائیں تاکہ حادثے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: کراچی طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو سامنے لے آئیں گے، وزیر ہوا بازی

خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کا طیارہ 99 مسافروں کو لے کر لاہور سے کراچی پہنچا تھا جو لینڈنگ سے کچھ منٹ پہلے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گرکر تباہ ہوگیا تھا، جس میں 97 افراد (89 مسافر اور 8 عملے کے اراکین) جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔

حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔

اے 320 طیارہ بنانے والی کمپنی ایئر بس کی 11 رکنی ٹیم 'پی کے 8303' کریش کی تحقیقات میں تفتیش کاروں کی معاونت کے لیے منگل کو پاکستان آئی تھی۔

جمعرات کے روز بدقسمت طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی و آر) مل گیا جبکہ حادثے کے دن ہی بدقسمت طیارے کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ (ایف ڈی آر) مل گیا تھا۔