نئی بھارتی سڑکیں چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کی وجہ بنیں، مبصرین

اپ ڈیٹ 27 مئ 2020

ای میل

دونوں اطراف کے فوجی لداخ کی وادی گالوان میں کیمپ کرچکے ہیں اور ایک دوسرے پر متنازع سرحد پار کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ — فوٹو:اے ایف پی
دونوں اطراف کے فوجی لداخ کی وادی گالوان میں کیمپ کرچکے ہیں اور ایک دوسرے پر متنازع سرحد پار کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ — فوٹو:اے ایف پی

نئی دہلی: مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحدی تنازع پر کشیدگی بھارت کی نئی سڑکوں اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر کی وجہ سے سامنے آئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دونوں اطراف کے فوجی لداخ کی وادی گالوان میں کیمپ کرچکے ہیں اور ایک دوسرے پر متنازع سرحد پار کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

نئی دہلی میں بھارتی حکام نے معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چین کی جانب تقریباً 80 سے 100 ٹینٹ نصب کردیے گئے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے بھی 60 ٹینٹس لگائے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت، چین کے درمیان سرحدی علاقے میں جھڑپ، دونوں ممالک کے متعدد فوجی زخمی

حکام کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اپنے دفاع کی تیاری کر رہے ہیں اور چینی ٹرک علاقے میں آلات کی نقل و حرکت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آمنا سامنا ہونے کی تشویش بڑھ رہی ہے۔

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’چین اپنی علاقائی خود مختاری کے تحفظ سمیت چین اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے پر عزم ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سرحدی علاقوں میں صورتحال مستحکم ہے، سرحدی امور پر بات چیت کے لیے میکانزم موجود ہے اور دونوں اطراف متعلقہ امور بات چیت اور مشاورت سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی رائے سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر بھارت کو جواب

اس نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ چینی فوجیوں نے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ بھارت کی معمول کی گشت کو روکا تھا۔

تاہم سابق فوجی عہدیداروں اور سفارت کاروں کے انٹرویو سے معلوم ہوا کہ کشیدگی کی وجہ بھارت کی سڑکوں اور رن ویز کی تعمیر ہے۔

سابق ہندوستانی سیکریٹری خارجہ نیروپما راؤ نے کہا کہ ‘آج جب ہمارے انفرا اسٹرکچر ایل اے سی کے ساتھ علاقوں میں آہستہ آہستہ پھیل رہا ہے تو چینی خطرے کے بارے میں خیال پیدا ہوتا ہے‘۔