صحافی عزیز کا قتل، گرفتار ملزم نے اعتراف جرم کرلیا

اپ ڈیٹ مئ 29 2020

ای میل

عزیز میمن کو 16 فروری کو قتل کیا گیا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
عزیز میمن کو 16 فروری کو قتل کیا گیا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

صحافی عزیز میمن کے قتل کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اے آئی جی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ کیس میں مرکزی ملزم کی نشان دہی ہوئی ہے اور گرفتار کیے گئے ایک ملزمان نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرلیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے نواب شاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی عزیز میمن کی موت حادثاتی نہیں تھی بلکہ ان کو قتل کیا گیا۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے 7 مارچ کو وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد نوشہروفیروز میں ایک نہر میں مردہ پائے گئے صحافی عزیز میمن کے مبینہ قتل کی تحقیقات کے لیے 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

مزید پڑھیں:صحافی عزیز میمن کے مبینہ قتل کی تحقیقات، جے آئی ٹی کے سربراہ تبدیل

صحافی عزیز میمن کی لاش 16 فروری کو نوشہروفیروز میں نہر سے برآمد ہوئی تھی جس پر ان کے اہل خانہ نے کہا تھا کہ ان کو قتل کیا گیا ہے۔

اے آئی جی کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پہلے ہی اجلاس میں خود کشی، قتل سمیت ہر پہلو کا جائزہ لیا اور حکومت نے جے آئی ٹی میں 3 سینئر ڈاکٹروں اور ایک پی ایچ ڈی کو شامل کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں میڈیکو لیگل رپورٹ کا جائزہ لیا اور جس میڈیکل افسر نے پوسٹ مارٹم کیا تھا اس کا بھی تفصیلی انٹرویو کیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'میڈیکو لیگل رپورٹ اور انٹرویو سے ہم نے اخذ کیا اور ابہام دور ہوا جبکہ واضح ہوگیا کہ یہ قتل ہے اور جے آئی ٹی کو بھی آگاہ کیا گیا، آج بھی ہم سی نتیجے پر ہیں کہ یہ ایک قتل تھا'۔

اے آئی جی نے بتایا کہ 'ایک فیصلہ قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنا تھا اور 11 مارچ کو فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد 15 مارچ کو پورسٹ مارٹم ہوا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ٹیم کے رکن ڈاکٹر جو پوسٹ مارٹم ٹیم کا حصہ نہیں تھے لیکن وہ وہاں گئے اور ان کو بتایا کہ ہمیں ان پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں اور آپ اس طرح نمونے لیں اور اسی طرح ہوا، جس کے نتیجے میں مرحوم کی لاش سے ایک ڈی این اے ملا'۔

میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 'ڈی این اے کو خاندان اور مشتبہ افراد کے ساتھ جائزہ لیا جبکہ ٹیم نے مشتبہ افراد کی فہرست بنائی جس کے لیے مقتول کے اہل خانہ نے تعاون کیا اور 86 افراد کا ڈین این اے کروایا'۔

غلام نبی میمن نے کہا کہ 'ڈاکٹروں نے ڈی این اے کے نتائج مرتب کرنے میں محنت کی اور رزلٹ ہم تک پہنچ گئے ہیں، ایک مشتبہ شخص نذیر سہتو کا ڈی این اے میچ کرگیا اور جو ہمارے فائل کا حصہ ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ڈی این اے کے بعد ہم نے مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا اور تفتیش کی جبکہ انہوں نے قتل کا اعتراف کرکے ملزمان کے نام بتائے، اسی کی بنیاد پر ہم نے چھاپے مارے اور تین ملزمان کو پکڑ لیا جبکہ دیگر 5 ملزمان کو گرفتار کرنا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:’عزیز میمن قتل کیس کی جے آئی ٹی اہلِ خانہ کی تجویز پر تشکیل دی گئی‘

پولیس افسر نے کہا کہ 'نذیر سہتو کو عدالت کے سامنے پیش کیا جہاں انہوں نے جرم کا اعتراف کرلیا جس کو ہم اعترافی بیان کہتے ہیں'۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ 'اس کا مرکزی ملزم مشتاق سہتو ہے، جس نے قتل کا منصوبہ تیار کیا اور ہماری تحقیقات سے یہ واضح ہوا ہے کہ انہوں نے اس قتل کا منصوبہ کافی پہلے بنایا تھا'۔

ملزمان کی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ '16 فروری کو قتل سے دو ہفتے قبل بھی انہوں نے اسی طرح کی منصوبہ بندی کی تھی اور 14 تاریخ کو اپنے منصوبے کو سارے ملزمان کے ساتھ مل کر حتمی شکل دی اور 16 تاریخ کو قتل کردیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس تحقیقات کے لیے بری مشکلات تھیں کیونکہ ایک شخص نہر میں تھا اور اس کے جسم پر کوئی نشان بھی نہیں ہے، ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے'۔

صحافی کے قتل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ملزم نے ہمیں بتایا کہ جب عزیز میمن وہاں آئے تو ہم نے انہیں پکڑ کر پہلے مشتاق نے ان کا منہ کپڑے سے دبایا اور تھوڑی دیر میں وہ گر گیا اور دم گھٹنے سے ان کا انتقال ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد لاش کو نہر میں بہادیا'۔

ملزم کا اعترافی بیان سناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں کیونکہ اس قتل کو میڈیا زیادہ اجاگر کیا اور ہم نہیں چاہیں گے کہ غیر مصدقہ بات کریں'۔

اے آئی جی نے کہا کہ 'ان کو کیوں مارا گیا، میں اس وقت اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ان کی دشمنی تھی لیکن مزید تفتیش کررہے ہیں، مشتاق سہتو اور دیگر ملزمان کو گرفتار کرنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جب ہم 100 فیصد تسلی کرلیں گے تو پھر تفصیلات سے آگاہ کریں گے'۔

پولیس افسر نے کہا کہ 'ایس ایس پی بینظیر آباد نے اور پولیس نے بہت محنت کی اور مقتول کے اہل خانہ اور حفیظ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مکمل تعاون کیا'۔

یاد رہے کہ نوشہروفیروز میں ایک نہر میں مردہ پائے گئے صحافی عزیز میمن کے مبینہ قتل کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے 7 مارچ کو وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری جے آئی ٹی کی نئی فہرست میں بتایا گیا تھا کہ ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی غلام نبی میمن سربراہ ہوں گے اور اراکین میں سینئر سپرینٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ضلع نوشہروفیروز اور شہید بینظیر آباد کے ساتھ ساتھ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نمائندے جن کا عہدہ میجر سے کم نہ ہو اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا نمائندہ بھی شامل ہوگا جس کا عہدہ ڈپٹی ڈائریکٹر سے کم نہیں ہوگا۔

جے آئی ٹی کے دیگر اراکین میں اسپیشل برانچ کے نمائندے کے علاوہ لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو کے کلیہ بیسک میڈیکل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر اکرام الدین عجان، چیئرمین شعبہ فارنزک سائنسز اینڈ ٹوکسیکالوجی محمد اکبر قاضی، سینئر ریسرچ افسر انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بیالوجیکل سائنسز یونیورسٹی آف کراچی شکیل احمد اورلیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد کے پولیس سرجن ڈاکٹر بنسدھر بھی شامل ہیں۔

جے آئی ٹی کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی ایجنسی یا ادارے سے معاونت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

عزیر میمن کی پراسرار موت

واضح رہے کہ سندھی نیوز چینل ’کے ٹی این‘ اور اخبار ’کاوش‘ سے وابستہ سینئر صحافی عزیز میمن کی لاش 16 فروری کی سہ پہر نوشہرو فیروز کے نواحی شہر محراب پور کی ایک نہر سے برآمد ہوئی تھی۔

عزیز میمن کے بھائی حافظ میمن نے مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کے بھائی صبح اپنے کیمرامین اویس قریشی کے ساتھ محراب پور کے قریبی گاؤں میں رپورٹنگ کا کہہ کر گھر سے نکلے تھے تاہم سہ پہر کو ان کی لاش کی اطلاع ملی۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ عزیز میمن کے گلے میں الیکٹرک تار تھی تاہم فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی کہ ان کی ہلاکت کیسے ہوئی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نوشہروفیروز پولیس سے جلد رپورٹ طلب کی تھی اور صحافی کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی

رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ 56 سالہ صحافی کو 30 سالہ کیریئر میں اکثر جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوتی رہی تھیں۔

گزشتہ برس انہیں مبینہ طور پر ایک رکن قومی اسمبلی کی جانب سے اسی طرح کی دھمکیاں دی گئی تھیں جس کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے سے اسلام آباد منتقل ہوگئے تھے اور کچھ عرصہ وہیں مقیم رہے۔

نوشہرو فیروز سے عزیز میمن کی لاش ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں رپورٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا تھا اور اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو صحافی کے مبینہ قتل کی شفاف تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔

وزیرداخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ صحافی عزیز میمن کا قتل انتہائی شرم ناک اور قابل مذمت فعل ہے، قتل کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا۔