امریکا میں زیر تعلیم چینی طلبہ کو ملک بدر کیے جانے کا امکان

اپ ڈیٹ مئ 30 2020

ای میل

—فوٹو: اے پی
—فوٹو: اے پی

امریکا نے چین کے ساتھ تجارت، کورونا وائرس، انسانی حقوق اور ہانگ کانگ میں سیاسی بحران کے تنازع پر امریکی جامعات میں زیر تعلیم ہزاروں چینی طلبہ کو ملک بدر کرنے کا عندیہ دے دیا۔

علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے متعدد چینی عہدیداروں کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کا بھی قوی امکان ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا چین اور روس پر وائرس کی سازشوں میں ’ہم آہنگی‘ کا الزام

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین سے متعلق اہم اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔

دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا کہ امریکی صدر چینی طلبہ کے ویزا منسوخ کرنے سے متعلق ایک ماہ پرانی تجویز پر غور کر رہے ہیں، جو پیپلز لبریشن آرمی یا چینی انٹیلی جنس سے منسلک ہیں۔

امریکی حکام نے خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ہانگ کانگ میں بیجنگ کی کارروائیوں کے نتیجے میں چینی حکام کے خلاف سفری اور اقتصادی پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’وہ چین کے حوالے سے آئندہ روز اعلان کریں گے کیونکہ ہم چین سے خوش نہیں ہیں‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’جو کچھ ہوا ہم اس پر خوش نہیں، دنیا کے 186 ممالک کورونا وائرس سے متاثر ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی امریکی خاتون کورونا کو چین لے کر گئی تھیں؟

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ٹرمپ، امریکا میں چینی طلبہ کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔

مائیک پومپیو نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ’بیجنگ میں حکومت سے رابطہ رکھنے والے چینی گریجویٹ طلبہ کو ’ہمارے اسکولوں میں جاسوسی نہیں کرنا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ یہ چیلنج ہے، امریکی صدر اس کو قبول کریں گے‘۔

دوسری جانب امریکن کونسل آن ایجوکیشن کی ڈائریکٹر سارہ سپریٹزر نے کہا کہ ’ہم اس بارے میں بہت پریشان ہیں کہ اس کا اطلاق کس حد تک ہوگا اور ہمیں فکر ہے کہ اس سے یہ پیغام جاسکتا ہے کہ اب ہم دنیا بھر کے ہونہار طلبہ اور اسکالرز کا خیر مقدم نہیں کریں گے‘۔

مزید پڑھیں: چین کا مجوزہ قانون: تائیوان کا ہانگ کانگ کے لوگوں کو 'ضروری مدد' فراہم کرنے کا اعلان

اس سے قبل چین نے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی بل کے معاملے میں امریکا پر اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔

بیجنگ نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے نیشنل سیکیورٹی بل پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کرسکیں گی۔

چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون ہانگ کانگ میں آزادی کی ضمانت کے لیے چین کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ ’براہ راست متصادم‘ ہے۔

خیال رہے کہ یہ قانون چین کے مرکزی حصے کے حکام کی جانب سے ہانگ کانگ حکومت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے براہِ راست نافذ کیا جائے گا۔