ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا ’مداخلت‘ سے باز رہیں، چین

اپ ڈیٹ 29 مئ 2020

ای میل

1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا—فوٹو: اے ایف پی
1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا—فوٹو: اے ایف پی

چین نے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی بل کے معاملے میں امریکا پر اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کردیا۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بیجنگ نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

مزید پڑھیں: چین کی پارلیمنٹ نے ہانگ کانگ نیشنل سیکیورٹی بل منظور کرلیا

واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے نیشنل سیکیورٹی بل پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کرسکیں گی۔

چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون ہانگ کانگ میں آزادی کی ضمانت کے لیے چین کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ ’براہ راست متصادم‘ ہے۔

خیال رہے کہ قانون چین کے مرکزی حصے کے حکام کی جانب سے ہانگ کانگ حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست نافذ کیا جائے گا۔

گزشتہ روز چین کی پارلیمان نے کثرت رائے سے ہانگ کانگ پر قومی سلامتی کی قانون سازی کے براہ راست نفاذ کی منظوری دے دی تھی تاکہ شورش، بغاوت، دہشت گردی اور غیر ملکی مداخلت سے نمٹا جاسکے۔

اس ضمن میں بیجنگ نے کہا کہ اس نے چاروں ممالک کے خلاف باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا مجوزہ قانون: تائیوان کا ہانگ کانگ کے لوگوں کو 'ضروری مدد' فراہم کرنے کا اعلان

وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم متعلقہ ممالک سے چین کی خودمختاری کا احترام کرنے (اور) ہانگ کانگ اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

انہوں نے امریکی نقطہ نظر کو ’بالکل غیر معقول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین، امریکا کو ’محض اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بے ہودہ سیاسی جوڑ توڑ کو فوری طور پر بند کرے۔

خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا جس کے بعد سے چین نے یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کی ہے۔

مزید پڑھیں: چین کا ہانگ کانگ کیلئے نئے سیکیورٹی قوانین لانے کا منصوبہ

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں کچھ لوگوں کو جاری کردہ خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے مزید حقوق پر غور کررہا ہے۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ میں 1997 سے قبل پیدا ہونے والے شہری برطانوی نیشنل (اوورسیز) پاسپورٹ کے لیے درخواستیں دے سکتے ہیں اور اس پاسپورٹ کو ’بی این او‘ کہتے ہیں۔

برطانیہ نے کہا کہ اگر چین متنازع قانون پر عمل درآمد کرتا ہے تو بی این او کے حامل افراد کو 'شہریت کا راستہ' مل سکتا ہے۔

جس پر چین نے برطانیہ کو دھمکی دی کہ چین ’اس کے جواب میں جوابی اقدامات‘ کا پورا حق رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ چین متعدد مرتبہ برطانیہ کو خبردار کرچکا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں مداخلت سے دور رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں سیاسی بحران: چین کےخلاف احتجاج پر 300 افراد گرفتار

برطانیہ میں چینی سفیر لیو ژاؤومنگ نے اس سے قبل کچھ برطانوی سیاستدانوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ ہانگ کانگ کو آج بھی ’برطانوی سلطنت کا حصہ‘ سمجھتے ہیں۔

خیال رہے کہ چینی حکومت نے گزشتہ ہفتے نیشنل پیپلز کانگریس میں قانون پیش کیا تھا جس کے بارے میں پارلیمان کے ترجمان نے کہا تھا کہ یہ قانون مالیات کے گڑھ کہلائے جانے والے شہر میں ’میکانزم کے نفاذ‘ کو مضبوط کرے گا۔

قانون کی منظوری سے ایک روز قبل ہی امریکا نے اپنے قوانین کے تحت ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی جس سے اس شہر کے لیے تجارتی مراعات ختم کرنے کا راستہ ہموار ہوگا کیوں کہ امریکا نے چین پر اس علاقے کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کا الزام بھی لگایا۔