حادثے کا شکار طیارے کے بلیک باکس پر 2 جون کو فرانس میں کام شروع ہوگا، بی ای اے

ای میل

ہینگر میں لی گئی تصویر جہاں طیارے کے اہم پرزہ جات کو رکھا گیا ہے—تصویر بی ای اے
ہینگر میں لی گئی تصویر جہاں طیارے کے اہم پرزہ جات کو رکھا گیا ہے—تصویر بی ای اے

کراچی میں کریش ہونے والے طیارے کی تحقیقات کے سلسلے میں شواہد اکٹھے کرنے کے لیے آئی ہوئی غیر ملکی تفتیش کاروں کی ٹیم کا کام تقریباً مکمل ہوگیا اور وہ جلد واپس فرانس روانہ ہوجائے گی۔

بدقسمت طیارے اے 320 بنانے والی کمپنی ایئر بس کی 11 رکنی تفتیشی ٹیم 26 مئی کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی پرواز پی کے-8303 کی تحقیقات میں تکنیکی معاونت کرنے کے لیے پاکستان پہنچی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوال کیبن عملے کے 8 ارکین سمیت 97 مسافر لقمہ اجل بن گئے تھے البتہ 2 افراد معجزانہ طور پر اس حادثے سے بچنے میں کامیاب رہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے ایئر کرافٹ ایکسیڈینٹ اینڈ انویسٹیگیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے ہم منصبوں کے ساتھ ہفتہ کے روز بھی کام جاری رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثے کے بعد اٹھنے والے سوالات اور ان کے جوابات

فرانس بیورو آف انکوائری اینڈ اینالسز فار سول ایوی ایشن سیفٹی (بی ای اے) کے ایک ٹوئٹر پیغام کے مطابق ’سائٹ پر جاری مشن تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے‘۔

مذکورہ ٹیم طیارے کے بلیک باکس کے 2 اجزا یعنی فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) اور کاکپٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) ڈی کوڈنگ کے لیے فرانس لے کر جائے گی تا کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ پی آئی اے کا جہاز کریش ہونے کی کیا وجوہات تھیں۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس قسم کی تحقیقات کے لیے قائم کیے معیار کے مطابق اے اے آئی بی کا ایک رکن فرینچ ٹیم کے ہمراہ فرانس جائے گا ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ طیارہ حادثے کے 23 متاثرین کی لاشوں کی شناخت ابھی ہونا باقی ہے۔

بی ای اے نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کام مکمل ہونے کے بعد بی ای اے، ایئر بس اور انجن بنانے والی کمپنی سفران ایئر کرافٹ انجنز اور سی ایف ایم انٹرنیشنل کے ماہرین پاکستان کے اے اے آئی بی رکن کے ہمراہ فرانس اڑان بھریں گے۔

مزید پڑھیں: طیارہ حادثہ: تحقیقاتی ٹیم میں ماہرینِ طب، نفسیات کی شمولیت کا فیصلہ

ٹوئٹ میں یہ بھی کہا گیا کہہ فرانس میں بدقسمت طیارے کے ایف ڈی آر اور سی وی آر پر تکنیکی کام 2 جون کو شروع ہوگا اس پر جب ایک ٹوئٹر صارف نے پوچھا کہ سی وی آر اور ایف ڈی آر کی مرمت اور اس سے مواد ڈاؤن لوڈ کرنے کا کام کتتا وقت لیتا ہے؟ تو بی ای اے نے جواب دیا کہ ’کم از کم کئی دن‘۔

فرنچ ائر سیفٹی آرگنائزیشن نے فرانسیسی ماہرین کو ’تعاون، تنظیم اور سپورٹ فراہم کرنے پر‘ اے اے آئی بی کا شکریہ ادا کیا۔

بی ای اے نے فرانسیسی اور پاکستانی تفتیش کاروں کی تصویر بھی پوسٹ کی جس پر بعد میں وضاحت کی گئی کہ یہ حادثے کے مقام پر نہیں بلکہ ہینگر میں لی گئی جہاں طیارے کے اہم پرزہ جات کو رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت سندھ کے ترجمان مرتضٰی وہاب نے بتایا کہ کہ ڈی این اے ذریعے طیارہ حادثے میں جاں بحق 7 لاشوں کی شناخت پنجاب کی لیبارٹری میں ہوئی جبکہ کراچی یونیورسٹی کی لیب میں 22 نعشوں کی شناخت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ: فرانسیسی ماہرین، مقامی تفتیش کاروں کا دوسرے روز بھی جائے وقوع کا دورہ

انہوں نے بتایا کہ سندھ فرانزیک ڈی این اے اینڈ سیرولوجی لیبارٹری میں اب تک 34 ڈی این اے کا کراس میچ مکمل ہوگیا ہے اور ان کی رپورٹ سندھ پولیس کو بھجوادی گئی ہے۔