سندھ: پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دینا بہت خطرناک ہے، صوبائی وزیر

مئ 31 2020

ای میل

اویس شاہ کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے سے متعلق اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
اویس شاہ کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے سے متعلق اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: عید کی تعطیلات کے بعد صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے کے اعلان کے بعد حکومت سندھ نے کہا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دینا اب بھی بہت خطرناک ہے کیونکہ یہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ بن سکتی ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور سفری سہولیات کی دیگر سروسز پر پابندیاں نافذ کیے ہوئے 2 ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس شاہ نے رمضان کے آخری دنوں میں اعلان کیا تھا کہ حکومت سندھ عید کی تعطیلات کے بعد صوبے بھر میں بسیں اور سفری سہولیات کی دیگر سروسز چلانے کی اجازت دے گی۔

تاہم اب اپنے نئے خیالات میں انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ یہ خطرہ نہیں لے سکتے۔

مزید پڑھیں: حکومت سندھ کا پبلک ٹرانسپورٹ اور سفری سہولیات کی دیگر سروسز پر پابندی ہٹانے سے انکار

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے سے متعلق اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

سید اویس شاہ نے کہا کہ یہ اب بھی بہت خطرناک ہے کیونکہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے لہٰذا اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ کی اجازت دینا وائرس کے پھیلاؤ میں تعاون کرنے کے برابر ہے۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ ہم ٹرانسپورٹ کی تمام تنظیموں اور یونینز سے رابطے میں ہیں اور کسی فیصلے پر پہنچنے سے قبل سب کو اعتماد میں لیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی(این سی سی) کے اجلاس میں ملک میں لاک ڈاؤن سے متعلق پلان کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ سروز پر پابندی سے متعلق فیصلہ بھی کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ قومی سطح پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے فیصلہ کرے گی۔

خیال رہے کہ حکومت سندھ مسلسل کہہ رہی ہے کہ این سی سی کے اجلاس میں لاک ڈاؤن اور اس کی پابندیوں سے متعلق اتفاق رائے سے لیے جانے والے فیصلوں پر عمل کیا جائے گا جبکہ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی) کے وزرا پابندیوں میں نرمی کے باعث کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر خدشات کا اظہار بھی کررہے ہیں۔

تاہم صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کوئی مطالبہ نہیں کیا لیکن انہوں نے ہیلتھ ورکرز اور طبی ماہرین کے مطالبات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے ڈاکٹرز وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے بجائے اور سخت کرفیو نافذ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اویس شاہ نے کہا کہ ہم نے ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی ہدایت پر لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا، ہم پیسہ کمانے اور کاروبار چلانے کے بجائے لوگوں کی زندگیوں اور صحت کے لیے زیادہ پریشان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ عید کی تعطیلات کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ چلانے پر رضامند

خیال رہے کہ حکومت سندھ نے 23 مارچ کو باضابطہ طور پر لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ سروس پر پابندی لگادی تھی جو بدستور برقرار ہے۔

لاک ڈاؤن کے نفاذ سے رائیڈ-شیئرنگ سروسز کے آپریشنز بھی معطل ہیں جس کے باعث لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے نجی یا ذاتی گاڑیوں پر انحصار کررہے ہیں۔

علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے ایک سے دوسرے شہر لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے انٹرسٹی بس سروس پر بھی پابندی لگائی ہوئی ہے۔


یہ خبر 31 مئی، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی