اسرائیل، فلسطینی سرزمین کے انضمام کی باتیں بند کرے، متحدہ عرب امارات

اپ ڈیٹ 02 جون 2020

ای میل

انور قرقاش نے یک طرفہ فیصلے کو خطے کے امن کے لیے دھچکا قرار دیا—فوٹو:رائٹرز
انور قرقاش نے یک طرفہ فیصلے کو خطے کے امن کے لیے دھچکا قرار دیا—فوٹو:رائٹرز

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام کے لیے یکطرفہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لیے خطرناک دھچکا ہوگا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع کے انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام کیا گیا تو معاہدہ ختم کردیں گے، فلسطینی صدر

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ 'فلسطینی سرزمین کے انضمام سے متعلق اسرائیل کی باتیں بند ہونی چاہیے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسرائیل کا کوئی بھی یکطرفہ قدم امن عمل کے لیے دھچکا ہوگا'۔

انور قرقاش نے کہا کہ فلسطینیوں کی خود ارادیت کو نظرانداز کرنے، امن و استحکام کی جانب عالمی اور عرب ممالک کے اتفاق رائے کو مسترد کرنے سے شدید نقصان ہوگا۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات خلیج میں ایران کے خلاف امریکا کا اہم اتحادی ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکنا ضروری ہے۔

خلیجی ممالک کا خیال ہے کہ ایران روایتی پالیسی کے تحت فلسیطینیوں کی حمایت کرکے خطے میں اپنا اثر بڑھانا چاہتا ہے جس کے توڑ کے لیے مضبوط اتحاد کی ضرورت ہے۔

متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عرب ممالک امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تجویز کردہ نام نہاد مڈل ایسٹ پلان کی پرزور حمایت کرتے ہیں، جس میں اسرائیل سے منسلک سرحد میں فلسطین کو غیر مسلح کردیا جائے۔

ٹرمپ کے منصوبے میں متنازع شق یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی اجازت دینا تھی۔

اس مجوزہ منصوبے میں اسرائیلی عوام کے دہائیوں پرانے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطین کو محدود اختیارات کے ساتھ اقتدار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

دوسری جانب فلسطینی حکام سے اس پلان کی تیاری میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی جس کے نتیجے میں انہوں نے اس منصوبے کو مسترد کردیا تھا۔

حالیہ برسوں میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بھی کئی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے گزشتہ برس مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ عرب ممالک نے ماضی میں اسرائیل سے باقاعدہ تعلقات یا رابطہ نہ رکھنے کا ایک انتہائی غلط فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ درحقیقت ہمیں امن کی جانب پیش رفت کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:فلسطین نے ٹرمپ کے امن منصوبے پر اسرائیل، امریکا کو خبردار کردیا

یاد رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے 23 اپریل کو کہا تھا کہ اگر مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام کیا گیا تو فلسطینی حکام کے اسرائیل اور امریکا سے ہوئے معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ تصور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا اور اسرائیلی حکومت سمیت متعلقہ بین الاقوامی فریقین کو آگاہ کردیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ہماری زمین کے کسی حصے کا انضمام کرنے کی کوشش کی تو ہم ہاتھ باندھے نہیں کھڑے رہیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا۔

فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے۔