چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، سابق وزیر اعظم

اپ ڈیٹ جون 03 2020

ای میل

شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کے خلاف تفتیش کیمرے پر کرنے کا مطالبہ کردیا - فوٹو: ڈان نیوز
شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کے خلاف تفتیش کیمرے پر کرنے کا مطالبہ کردیا - فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کے صدر شباز شریف کی گرفتاری کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم کے ان کے گھر پر پہنچنے کے معاملے پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کی بدنیتی عوام کے سامنے آ چکی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف 20 ماہ سے نیب کو جواب جمع کروا رہے ہیں، 70 روز ریمانڈ اور جوڈیشل حراست میں رہے لیکن ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’چھپن اسکیم اور صاف پانی اسکیم کا کیا ہوا آشیانہ کا کیا ہوا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف نے سب کچھ نیب کو دے دیا ہے اور بھی جو کچھ وہ مانگیں گے وہ بھی دے دیں گے‘۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’نیب کیمرے لگا کر تفتیش کرے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئے جو شخص عوام کی خدمت کرتا رہا ہے اس کی تفتیش بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے‘۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’نیب 20 سال سے بدنیتی سے کام کررہا ہے جس سے ملک کھوکھلا ہوگیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نیب چیئرمین بتائیں 28 مئی کو گرفتاری کے وارنٹ کیوں نکالے تھے کیا نیب بدمعاشی کا اڈہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’احتساب عوام کے سامنے ہونا چاہیے‘۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’اس ملک کو پہلے ہی بہت سی پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے ہر شخص پریشان ہے اور ایسے موقع پر کابینہ میں نوازشریف کی چائے کی پیالی پر بحث ہوتی ہے، کم ظرف حکمران رہیں گے تو ملک نہیں چلے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’چیئرمین نیب حکومت اور عمران خان سے ہدایات لے رہے ہیں، انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے‘۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ملک کے مسائل کا حل نواز شریف کو جیل میں ڈالنا ہے یا ہمیں ڈالنا ہے تو ہم کل ہی جیل میں پیش ہو جائیں گے‘۔

چینی بحران پر چینی کمیٹی کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’میں خود شوگر کیس میں تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوا، اس کی رپورٹ کے 347 صفحے پڑھیں ہر چیز ملے گی لیکن یہ نہیں ملے گا چینی کی قیمت کیوں بڑھی یا ذمہ دار کون ہیں‘۔

نیب حکومتی فرمائش پر کارروائی کرتا ہے، احسن اقبال

اس موقع پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’آج پوری دنیا کے سامنے یہ حقیقت آشکار ہوگئی نیب حکومت کا ذیلی ادارہ ہے اور حکومتی فرمائش پر کارروائی کرتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج بھری عدالت میں عوام نے دیکھ لیا کہ شہبازشریف کو دو جون کو دھوکے سے بلایا گیا جبکہ 28 مئی کو گرفتاری کے وارنٹ پر دستخط کر دیے گئے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب انتقامی ایجنڈے ہر کام کر رہا ہے، حکومت کی سازش ہے کہ بجٹ اجلاس سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاد کو غیر مؤثر کر دیا جائے تاکہ اپوزیشن کے مضبوط ردعمل کا مظاہرہ نہ ہو سکے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو بتانا چاہتا ہوں اپوزیشن بھر پور طریقے سے بجٹ تجاویز کا مقابلہ کرے گی‘۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کو فکر نہیں کسان کے سر پر ہاتھ رکھے اور شہباز شریف کو پکڑنے کے پیچھے پڑی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت سنگ دل اور بے حس ہے جو دوسروں پر کرپشن کا الزام لگا کر تاریخی کرپشن کررہے ہیں‘۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل شہباز شریف نے عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی جسے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم علی خان نے درخواست آج (3 جون کو) سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔

عدالت نے آج درخواست پر سماعت کرتے ہوئے شہباز شریف کو 17 جون تک عبوری ضمانت دے دی۔

نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیس میں تفتیش کے لیے طلب کیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے جس کے بعد نیب کی ٹیم پولیس کے ہمراہ ان کے گھر پہنچ گئی تھی جبکہ انہیں وہاں نہ پانے پرٹیم وہاں سے واپس روانہ ہوگئی تھی۔

قومی احتساب بیورو کی ٹیم شہباز شریف کے گھر میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک موجود رہی جس کے بعد وہ شہباز شریف کی گھر میں عدم موجودگی کے باعث واپس روانہ ہوگئی تھی۔

یاد رہے کہ شہباز شریف 4 مئی کو نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں ان سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔

نیب نے شہباز شریف کے جواب کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 2 جون کو دوبارہ طلب کرلیا تھا۔

لاہور میں شہباز شریف کی نیب میں پیشی کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا تھا کہ پیشی کے دوران شہباز شریف نے ایک بار پھر نیب ٹیم کے سوالوں کے مناسب جواب نہیں دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف احتساب ادارے کے پاس موجود اپنے اثاثوں کی تفصیلات دیکھ کر حیران رہ گئے جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق سوالوں کے جواب دینے سے قاصر رہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شہباز شریف سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک سوالات کیے تاہم وہ نیب کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر مارچ میں لندن سے وطن واپس آئے تھے جس کے بعد سے نیب نے متعدد مرتبہ طلب کرلیا تھا۔

قبل ازیں 17 اور 22 اپریل کو شہباز شریف نے کورونا وائرس کے باعث صحت کو وجہ بناتے ہوئے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب نے انہیں طبی ہدایات کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

شہباز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے مطلوبہ دستاویز قومی احتساب بیورو میں جمع کروادیے تھے تاہم نیب نے ان دستاویزات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔