قبل از وقت بالوں کی سفیدی کو ریورس کرنا ممکن ہے؟

جون 04 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

ایسا مانا جاتا ہے کہ بالوں کی سفیدی اور ذہنی تناؤ کے درمیان تعلق موجود ہے اور اب طبی سائنس نے بھی ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جو اس خیال کو درست ثابت کرتے ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کولمبیا یونیورستی اور میامی یونیورسٹی کے ملر اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ تناؤ سے بالوں کا قدرتی رنگ بدل کر سفید ہوجاتا ہے۔

تاہم اب تک مانا جاتا تھا کہ تناؤ کے باعث بالوں میں آنے والی سفیدی کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا مگر سائنسدانوں نے اب دریافت کیا ہے کہ اس کو ریورس کرکے قدرتی رنگت کو واپس لانا ممکن ہے۔

تحقیق کے دوران میلانین اور مخصوص پروٹینز کے کردار کو دیکھا گیا جو بالوں کو قدرتی رنگت فراہم کرتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے 14 رضاکاروں کے بالوں کو لیا گیا اور سیکڑوں نمونوں کا تجزیہ ایک نئی امیجنگ تیکنیک کے ذریعے کرکے بالوں کے مختلف حصوں میں رنگت کی سطح کو دیکھا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ بیشتر بال کے سرے سفید ہوئے تھے جڑیں نہیں۔

جیسا آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ بال جڑوں سے ہی اگتے ہیں اور تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر بال کسی پرتناؤ واقعے کے نتیجے میں سفید ہوجاتے ہیں تو ان ی قدرتی رنگت واپس آسکتی ہے۔

اس کو مزید جانچنے کے لیے 14 رضاکاروں کی خدمات پھر حاصل کرکے ان سے کچھ سوالات پوچھے گئے اور چونکہ بال ایک مخصوص رفتار سے بڑھتے ہیں تو سائنسدان یہ تخمینہ لگانے کے قابل تھے کہ جس فرد کے بال سفید ہوگئے ہیں وہ دوبارہ قدرتی رنگت کب تک اختیار کرلیں گے۔

ان رضاکاروں سے پوچھا گیا کہ جب ان کے بال سفید ہوئے تو کیا انہیں کسی پرتناؤ واقعے کا سامنا ہا تھا جبکہ انہوں نے ایک ایسے فرد کو بھی دریافت کیا کہ جس کے بالوں کی اصل رنگت لوٹ آئی تھی۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ تناؤ یقیناً بالوں کو سفید کرسکتا ہے مگر اس تناؤ پر قابو پاکر بالوں کی اصل رنگت واپس لانا بھی ممکن ہے۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ ایسا اسی وقت ممکن ہے جب بال تناؤ کے نتیجے میں سفید ہوئے ہوں اور بہت جلد اس پر قابو پالیا جائے۔

رواں سال کے شروع میں ایک تحقیق میں بھی تصدیق کی گئی تھی کہ تناؤ لوگوں کے بالوں کو جوانی میں ہی سفید کرسکتا ہے۔

سائنسدانوں نے حیاتیاتی وجہ دریافت کی جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ تناﺅ سے آخر بالوں کی سیاہ رنگت کیوں ختم ہوجاتی ہے۔

جریدے جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عمل سیمپیتھک اعصابی نظام سے شروع ہوتا ہے جو اہم جسمانی افعال جیسے دل کی دھڑکن، سانس، غذا کو ہضم کرنے اور جراثیموں سے لڑنے وغیرہ میں مدد دیتا ہے۔

یہ اعصابی نظام تناﺅ کے ردعمل سے بھی منسلک ہے اور اس لیے یہ زیادہ حیران کن نہیں کہ وہ بالوں کو سفید کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

تاہم تناﺅ پر یہ اعصابی نظام اس وقت ہی متحرک ہوتا ہے جب دیگر جسمانی نظام سست یا ناکام ہوجاتے ہیں یعنی جسم کے آخری ہتھیاروں میں سے ایک سمجھ لیں اور انتہائی ایمرجنسی میں ہی جسم اسے متحرک کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ محققین نے اس پر سب سے پہلے توجہ مرکوز کی، ان کا خیال تھا کہ اگر تناﺅ بالوں کو سفید کرتا ہے تو یہ کام ممکنہ طور پر مدافعتی نظام سے ہوتا ہوگا جو ایسے خلیات خارج کرسکتا ہے جو بالوں کی جڑوں میں رنگ بنانے والے خلیات پر حملہ آور ہوتے ہیں یا ہارمونز جیسے کورٹیسول کا اخراج ایڈرینل گلینڈز میں کرتا ہوگا جسے اسٹریس ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔

مگر سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ایسا ہوتا ہی نہیں۔

انہوں نے چوہوں میں ایسے مرکب کو جسم میں داخل کیا جو تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح میں اضافہ کرتا ہے اور انہوں نے دریافت کیا کہ مدافعتی خلیات سے محروم اور ایڈرینل گلینڈز سے محروم چوہوں کے بال بھی قبل از وقت سفید ہوگئے۔

اس کے بعد سائنسدانوں نے سیمپیتھک اعصابی نظام پر توجہ دی اور دریافت کیا کہ اس سے ایسے خلیات کو نقصان پہنچتا ہے جو بالوں کی رنگت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ جان کر حقیقی معنوں میں حیران رہ گئے، کیونکہ ہم بالوں کی قبل از سفیدی بننے والی وجہوات میں سیمپیتھک اعصابی نظام کو سب سے آخر میں سمجھتے تھے، ہم جانتے تھے کہ یہ تناﺅ کے نتیجے میں متحرک ہوتا ہے مگر ہم اسے ایمرجنسی نظام سمجھتے تھے، اور مسئلے کے حل کے بعد ریورس ایبل سمجھا جاتا تھا، مگر ہم نے دریافت کیا کہ اس کے نتیجے میں خلیات کی آبادی کو ہمیشہ کے لیے نقصان پہنچ جاتا ہے۔

درحقیقت تحقیق میں سائنسدان یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یہ اعصابی نظام عام ذہنی تناﺅ کی صورت میں بھی متحرک ہوکر norepinephrine کیمیکل بناتا ہے جو مسلز کے کھچاﺅ کا باعث بنتا ہے۔

اس کیمیکل کے ردعمل میں بالوں کی جڑوں میں موجود خلیات پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جو نئے بالوں کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں اور بتدریج بالوں کی رنگت خشک ہونے لگتی ہے اور خلیات نیا رنگ بنانا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے بعد بالوں کی رنگت سفید ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

محققین کو توقع ہے کہ تحقیق کے نتائج سے مستقبل قریب میں بالوں کے ان خلیات کے تحفظ یا اعصابی نظام کے ردعمل کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار تشکیل دیا جاسکے گا، تاہم فی الحال ایسا کوئی علاج موجود نہیں جو یہ کام کرسکے۔

تاہم ایک آسان حل ذہنی تناؤ کو کنٹرول میں رکھنا ہوسکتا ہے جس کے لیے آپ ڈاکٹر سے مدد لے سکتے ہیں یا طرز زندگی میں چند تبدیلیوں سے بھی ایسا ممکن ہے۔