طیارہ حادثہ: پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، سی اے اے

اپ ڈیٹ جون 04 2020

ای میل

مسافر طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے گنجان آباد علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی
مسافر طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے گنجان آباد علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی

کراچی/راولپنڈی: فرانسیسی ایئر سیفٹی آرگنائزیشن نے ایک طرف اعلان کیا ہے کہ پی کے-8303 پرواز کے بلیک باکس کا ڈیٹا کامیابی سے ڈاؤن لوڈ کرلیا گیا ہے وہیں دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو لکھے ایک خط میں کہا کہ پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

خیال رہے کہ 22 مئی کو قومی ایئرلائن(پی آئی اے) کا مسافر طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے گنجان آباد علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جس میں عملے کے ارکان بھی شامل تھے جبکہ 2مسافر معجزاتی طور پر بچ گئےتھے۔

سی اے اے عہدیدار افتخار احمد کے پی آئی اے کے سیفٹی اینڈ کوالٹی انشورنس ڈیپارٹمنٹ کو لکھے گئے خط میں ’ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کے ساتھ کہا گیا کہ ’پرواز کے تحفظ کے خاطر اس قسم کا واقعہ دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس پر پی آئی اے کے ترجمان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایئر لائن ضوابط کے مطابق اس کا جواب دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ تحقیقات: فرانسیسی ٹیم نے اپنا کام مکمل کرلیا

دوسری جانب پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے حوالے سے مختصر تفصیلات جاری کرنا جاری تفتیش اور تحقیقات کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔

ادھر سی اے اے کے خط میں کہا گیا کہ ڈیوٹی پر موجود کنٹرولر نے پی کے 8303 کے پائلٹ کے حوالے سے عدم تعمیل کی رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ کو 2 مرتبہ طیارے کی رفتار اور اونچائی کے بارے میں خبردار کیا گیا لیکن اس نے عمل نہیں کیا۔

خط میں مزید کہا گیا کہ پی کے-8303 کو 25 ناٹیکل مائلز کے کنٹرول زون میں داخلے کے وقت 3 ہزار فٹ کی بلندی پر کلیئر کردیا گیا تھا لیکن مکلی پر طیارہ 5 ہزار فٹ کی بلندی پر دیکھا گیا۔

مذکورہ خط کے مطابق ’یہی بات پائلٹ کو بھی بتائی گئی جس نے رپورٹ کیا کہ آسانی سے اتر جائیں گے تاہم 10 ناٹیکل مائلز پر پائلٹ کو ایک مرتبہ پھر بلندی کم کرنے کے انتباہ کے ساتھ چکر لگانے کا کہا گیا جسے اس نے قبول نہیں کیا‘۔

مزید پڑھیں: حادثے کا شکار طیارے کے بلیک باکس پر 2 جون کو فرانس میں کام شروع ہوگا، بی ای اے

کنٹرولر کی بات کا ذکر کرتے ہوئے خط میں کہا گیا کہ ’جب طیارہ رن وے25 ایل کو چھونے سے 7 ناٹیکل مائل پر تھا تب اس کی بلندی 5 ہزار 200 فٹ تھی جو طے شدہ معیار سے زائد تھی‘۔

ساتھ ہی کنٹرولر کا کہنا تھا کہ ’میں نے پائلٹ کو 2 مرتبہ ہدایت کی کہ اس راہ کو چھوڑ کر 180 کے زاویے پر بائیں جانب مڑیں لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور اپنی صوابدید پر رن وے 25 ایل کی طرف بڑھتے گئے‘۔

کنٹرولر نے کہا کہ ’میں نے 5ناٹیکل مائل پر ایک مرتبہ پھر طیارے کو خبردار کیا جو 3 ہزار 500 فٹ کی بلندی سے گزر رہا تھا جبکہ 4 ناٹیکل مائیل پر طیارے کو زمین سے 13 سو فٹ کی بلندی پر دیکھا گیا اور اس کی رفتار 250 ناٹ تھی، بعد ازاں جہاز کو 210 ناٹ کی رفتار کے ساتھ رن وے کے دہانے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا‘۔

سی اے اے کا کہنا تھا کہ طیارے کو رن وے سے اٹھایا گیا اور رن وے 25 ایل پر دوبارہ اترنے کی کوشش میں ماڈل کالونی پر تباہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثے میں 20 گھر، 24 گاڑیاں تباہ ہوئیں، سروے رپورٹ

اپروچ ٹاور جہاز کے اترنے کے آغاز سے لے کر 5 ناٹیکل مائلز تک ڈیل کرتا ہے اور اترنے کی حتمی کوشش کے بعد اسے مقامی ٹاور (اس کیس میں کراچی کے ٹاور) کے حوالے کرتا ہے، مقامی ٹاور لینڈنگ گیئرز وغیرہ کے لیے جہاز کو آنکھوں سے دیکھتا ہے اور لینڈنگ کے حوالے سے ہدایت دیتا ہے اور زمین پر اترنے کے بعد پائلٹ کو زمینی کنٹرول کے حوالے کردیا جاتا ہے جو پائلٹ کو پارکنگ سے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

تاہم یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپروچ ٹاور نے طیارے کو کراچی کے ٹاور کے حوالے کیوں نہیں کیا جہاں سے خود دیکھا جاتا کہ جب طیارہ پہلے لینڈنگ کے لیے آیا تو اس کے لینڈنگ گیئرز کھلے ہوئے تھے یا نہیں۔

دوسری جانب فرانسیسی بیورو آف انکوائری اینڈ اینالسز فار سول ایوی ایشن سیفٹی (بی ای اے) نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ طیارے کے بلیک باکس کے 32 عناصر فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) اور کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) کے ڈیٹا کو کامیابی سے ڈاؤن لوڈ کرلیا گیا ہے۔

قبل ازیں ادارے نے کہا تھا کہ اے اے آئی بی کے صدر کی موجودگی میں ان کی لیبارٹری میں تکنیکی کام کا آغاز ہوگیا ہے۔