پی آئی اے انتظامیہ کی غفلت متاثرہ خاندانوں کیلئے ڈراؤنا خواب ہے، ماہرہ خان

اپ ڈیٹ 05 جون 2020

ای میل

اداکارہ کے مطابق پی آئی اے کی غلطی ناقابل معافی ہے — فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ کے مطابق پی آئی اے کی غلطی ناقابل معافی ہے — فوٹو: انسٹاگرام

اداکارہ ماہرہ خان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ ماہ طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لواحقین کے لیے ایسے رویے عمر بھر کے لیے ڈراؤنے خواب کی طرح ہیں۔

ماہرہ خان نے اپنے ٹوئٹ میں بدقسمت طیارہ حادثے میں جاں بحق کراچی کے اہل خانہ کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے پی آئی اے انتظامیہ کی غفلت اور رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔

ماہرہ خان نے پی آئی اے انتظامیہ کو ٹوئٹ میں مینشن کرتے ہوئے لکھا کہ قومی ایئرلائن انتظامیہ کی غفلت اور غلطی ناقابل معافی ہے۔

اداکارہ نے اپنے ٹوئٹ میں کمیل پولانی کا ٹوئٹ شیئر کیا، جنہوں نے انکشاف کیا کہ طیارے حادثے میں جاں بحق ہونے والے ان کے بھائی زین پولانی کے ایک بچے کی لاش کو پی آئی اے انتظامیہ نے کسی دوسرے خاندان کے حوالے کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق

کمیل پولانی نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے زین پولانی کے 2 بچوں کی تدفین کردی گئی، ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ زین پولانی کے ایک بچے کی لاش کو پی آئی اے انتظامیہ نے کسی اور خاندان کے حوالے کردیا تھا، جس کی 11 روز قبل انہوں نے تدفین بھی کردی۔

کمیل پولانی نے پی آئی اے انتظامیہ کی ایسی غفلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مذکورہ معاملے کی تفتیش کا مطالبہ کیا۔

کمیل پولانی نے اپنے ٹوئٹ میں پی آئی اے، وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سمیت میڈیا ہاؤسز کو بھی مینشن کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ معاملے پر ان کا ساتھ دیں۔

مزید پڑھیں: حادثے کا شکار طیارے میں سوار افراد کی تفصیلات

کمیل پولانی کے اسی ٹوئٹ کو کئی افراد نے ری ٹوئٹ کیا اور پی آئی اے انتظامیہ کی غفلت پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔

اداکارہ ماہرہ خان نے بھی ان کے ٹوئٹ کو شیئر کرتے ہوئے پی آئی اے انتظامیہ کی غفلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ غلطی کو متاثرہ خاندانوں کے لیے ڈراؤنا خواب قرار دیا۔

خیال رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے آنے والا پی آئی اے کا طیارہ اے 320 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوا تھا۔

طیارے میں مسافر اور عملے کے ارکان سمیت 99 افراد سوار تھے، جس میں سے 97 جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔

خیال رہے کہ چند دن قبل سندھ حکومت نے اعلان کیا کہ حادثے کا شکار ہونے والے 97 افراد میں سے 95 افراد کی لاشوں کی شناخت ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کو سفارشی ٹولا چلا رہا ہے، اب اس پر سفر نہیں کروں گی، ماہین خان

بدقسمت طیارے میں کراچی کے زین پولانی بھی اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ہمراہ سفر کر رہے تھے اور ان کا پورا خاندان اس حادثے کا شکار ہوگیا۔

حادثے کے حوالے سے ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر حادثہ پیش آیا تاہم حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔

حادثے کے باعث مقامی آبادی کو بھی نقصان پہنچا تھا اور طیارہ گرنے کے باعث جہاں متعدد گھر تباہ ہوگئے تھے، وہیں کچھ افراد بھی زخمی ہوگئے تھے۔

طیارہ گرنے کے بعد آگ لگنے کے باعث ایک 12 سالہ لڑکی سمیت 3 گھریلو خواتین ملازمین بھی جھلس گئی تھیں، جن میں سے 12 سالہ لڑکی دوران علاج یکم جون کو چل بسی۔