کورونا کے سونامی سے پاکستان کا نظام صحت کمزور پڑنے لگا

ملک کے بڑے شہروں کے متعدد ہسپتالوں نے جگہ کی کمی کے باعث نئے مریضوں کو داخل کرنے سے معذرت کرلی۔

اپ ڈیٹ جون 06 2020 07:37pm

پاکستان کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی اموات میں اضافے اور نئے مریضوں میں تیزی کے بعد پاکستان کا نظام صحت کمزور پڑنے لگا ہے۔

پاکستان میں پہلے ہی کورونا کے مرکز سمجھے جانے والے ملک چین سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں مگر اس کے باوجود حکومتی عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔

لیکن دوسری جانب نظام صحت سے وابستہ افراد مانتے ہیں کہ صحت کا شعبہ کورونا وائرس کے سونامی کو روکنے میں کمزور پڑ چکا ہے۔

پاکستان کے بڑی آبادی والے 2 شہر کراچی اور لاہور کے ہسپتال مریضوں سے تقریباً بھر چکے ہیں اور وہاں کے ہسپتال مزید انتظامات کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

دونوں شہروں کے بعض بڑے ہسپتالوں نے جگہ کی کمی کے باعث مریضوں کو داخل کرنے سے ہی معذرت کرلی ہے۔

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر فیض عالم نے ترک خبر رساں ادارے اناطولو کو بتایا کہ زیادہ تر ہسپتالوں کے بستر مریضوں سے بھر چکے ہیں اور خاص طور پر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں بستروں کی کمی نے ہماری کورونا سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو محدود کردیا ہے۔

ہسپتالوں میں بستروں کی قلت

ڈاکٹرز نے وسط جون کے بعد حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کردیا—فائل فوٹو: اے پی
ڈاکٹرز نے وسط جون کے بعد حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کردیا—فائل فوٹو: اے پی

ملک کے سب سے بڑے شہر اور صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں، جو ڈیڑھ کروڑ افراد کا مسکن ہے اور کورونا میں پاکستان کا مرکز ہے، وہاں 15 سرکاری و نجی ہسپتال کورونا کے مریضوں کے لیے مختص ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ ہسپتالوں میں صرف 136 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔

پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں مجموعی طور پر کورونا کے مریضوں کے لیے 539 بستر اور 200 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔

صوبہ سندھ اور پنجاب میں مجموعی طور پر 70 ہزار سے زائد کورونا کے مریض ہیں اور دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر ہر طرح کے ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے 14 ہزار بستر مختص ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد 95 ہزار سے تجاوز کرگئی

ڈاکٹر فیض عالم بتاتے ہیں کہ یومیہ ان سے درجنوں کورونا کے مریض ہسپتال میں داخلے کے لیے رابطہ کرتے ہیں مگر وہ ان کی مدد کرنے سے قاصر ہیں، کیوں کہ ہسپتالوں میں جنرل سمیت انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) سمیت ہر جگہ بستر بھرے ہوئے ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ملک میں کیسز کی رفتاری یوں ہی بڑھتی رہی تو ملک کے ہسپتال صورتحال نہیں سنبھال سکیں گے۔

انڈس ہسپتال کراچی کے عہدیدار ڈاکٹر شموئیل اشرف نے بتایا کہ ان کا ہسپتال مریضوں سے بھرے ہونے کے باوجود معاملات کو درست انداز میں چلا رہا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ کیسز بڑھنے کی وجہ سے بعض اوقات ان کے ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کی جگہ نہیں ہوتی اور اس صورتحال میں وہ عوام کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیں گے۔

ملک میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خوف

کورونا سے 2200 ڈاکٹرز، طبی عملے کے ارکان اور تکنیکی رضاکار بھی مبتلا ہوچکے—فائل فوٹو: اے ایف پی
کورونا سے 2200 ڈاکٹرز، طبی عملے کے ارکان اور تکنیکی رضاکار بھی مبتلا ہوچکے—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان میں حالیہ دنوں میں کورونا کیسز میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور 6 جون کی شام تک ملک میں کیسز کی تعداد 95 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

پاکستان خطے میں کورونا کے حوالے سے بھارت کے بعد بدترین ملک ہے اوریہاں چند اراکین پارلیمنٹ، ڈاکٹرز اور طبی عملے کے ارکان بھی وبا سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

پاکستان کے زیادہ تر ڈاکٹرز، جو لاک ڈاؤن نرم کرنے کے مخالف بھی تھے، ان کا خیال ہے کہ ملک کی صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا کیسز میں اضافے کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے، وزیراعلیٰ سندھ

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق ملک میں کیسز کی بڑھتی حالیہ تعداد کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ جون اور جولائی میں معاملات زیادہ سنگین ہوں گے۔

انہوں نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے نظام صحت مفلوج بن سکتا ہے، ان کے مطابق دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ نظام صحت کو غیر تربیت یافتہ طبی عملے کی قلت بھی معاملے کو سنگین بنا سکتی ہے۔

ان کے مطابق ملک میں اس وقت 2200 ڈاکٹرز، طبی عملے کے ارکان اور تکنیکی رضاکار کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد قرنطینہ ہوچکے ہیں اور ہسپتالوں کے معاملات بہت ہی اچھا تجربہ نہ رکھنے والے ینگ ڈاکٹرز نے سنبھال رکھے ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) پنجاب کے صدر سلمان حسیب نے بھی ڈاکٹر قیصر سجاد کے خیال سے اتفاق کیا اور کہا کہ انہیں بھی لگتا ہے کہ وسط جون کے مریضوں میں زیادہ اضافہ ہوگا۔

موبائل یونٹ

کورونا مریضوں کے لیے موبائل ہسپتال بنانا ہی واحد آپشن بچ گیا—فوٹو: اے پی
کورونا مریضوں کے لیے موبائل ہسپتال بنانا ہی واحد آپشن بچ گیا—فوٹو: اے پی

حکومت نے حال ہی میں ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی دستیابی کے لیے ایپلی کیشن متعارف بھی کرائی ہے۔

کورونا ایکسپرٹ ایڈوائیزری گروپ پنجاب کے رکن ڈاکٹر اسد اسلم کا کہنا تھا کہ کیسز میں اضافے کے بعد حکومت سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے جب کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے وینٹی لیٹرز کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر اسد اسلم مایو ہسپتال کے سربراہ بھی ہیں، انہوں نے اناطولو کو بتایا کہ اس وقت صرف لاہور میں کورونا کے مریضوں کے لیے 200 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں جب کہ 30 جون تک ان میں مزید 100 وینٹی لیٹرز کا اضافہ کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے شہریوں، ڈاکٹروں کی زندگی خطرے میں ڈال دی، بلاول بھٹو

سندھ حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صوبے میں وینٹی لیٹرز کی تعداد 49 فیصد تک ہے۔

پنجاب حکومت جہاں وینٹی لیٹرز بڑھانے کا دعویٰ کرتی ہے، وہیں پنجاب ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صدر ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت اس ضمن میں غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔

انہوں نے دلیل دی کہ ایک روز قبل ہی لاہور میں ایک ڈاکٹر وینٹی لیٹر نہ ملنے کی وجہ سے چل بسا تھا۔

ملک میں نظام صحت کے حوالے سے جاننے کے لیے اناطولو نے وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے رابطے کی کوشش کی مگر ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

ڈاکٹر فیض عالم نے مشورہ دیا کہ موجودہ حالات میں موبائل یونٹ یا ہسپتال اچھا فائدہ دے سکتے ہیں، کیوں کہ اس وقت ہسپتالوں میں جگہ کی کمی کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق مریضوں کے علاج کے لیے دوسرا راستہ ان کے گھروں میں علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔