ہسپتالوں میں وسائل کی کمی نہیں، انتظامی معاملات کے باعث مسائل کا سامنا ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا

اپ ڈیٹ جون 06 2020

ای میل

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مچاطق کورونا وبا کی صورت حال میں ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے — فوٹو: ڈان نیوز
ڈاکٹر ظفر مرزا کے مچاطق کورونا وبا کی صورت حال میں ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے — فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ملک کے ہسپتالوں میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ انتظامیہ معاملات کی وجہ سے مسائل سامنے آرہے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ کورونا وبا کی صورت حال میں ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت ہفتہ وار بنیادوں پر 450 سے زائد ہسپتالوں کو پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ (پی پی ای) فراہم کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب شکایات ہیں کہ پی پی ایز کا معیار اچھا نہیں یا فراہم نہیں کی گئیں، ہم نے اس کا جائزہ لیا ہے اور ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال، حکومت کی جانب سے دیے گئے وسائل تقسیم نہیں کررہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ دوسری وجہ وسائل کا غیر معقول استعمال ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں 64 ہزار مصدقہ مریضوں میں سے 35 فیصد صحتیاب ہوچکے ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا

ان کا کہنا تھا کہ ایک ہسپتال نے بتایا کہ انہیں پی پی ایز خاص طور پر این-95 ماسک وصول نہیں ہورہے جب میں اجلاس سے باہر آیا ت گارڈ نے این-95 ماسک پہنا ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہسپتالوں میں چوکیدار این 95 ماسک استعمال کررہے تھے جبکہ ڈاکٹرز ہسپتال کے اندر شور مچارہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ سینٹر میں بنائی جانے والی ہماری پہلی اسٹیٹجی یہ ہے کہ مخصوص، غیر متعین اور غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاؤن کہیں بھی حل نہیں ہے، یہاں تک کہ ایسے علاقوں میں بھی کامیاب نہیں جہاں معیشت کی صورت حال بہت اچھی ہے جبکہ ہماری معاشی صورت حال اس وقت بہت خراب ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس صورت میں سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ اس حوالے سے دو مختلف قسم کی آرا موجود ہیں، پہلی یہ کہ ہم نے اپنے رویے میں تبدیلی کرنی ہے اور ایسے رویوں کو اوپر لانا ہے جس کی مدد سے اس وائرس کے خلاف مؤثر اقدمات کیے جاسکیں، یعنی ہمیں ایس او پیز پر عمل درآمد کروانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ایس او پیز پر زندگی کے ہر شعبے اور ہر کام میں عمل درآمد کروانا ضروری ہیں، جو ایک رویہ ہے اور رویوں میں تبدیلی بھی ایک سائنس ہے جو کسی قانون یا سختی کے ذریعے عمل میں نہیں لائی جاسکتی، ان کا کہنا تھا کہ رویوں میں تبدیلی پہلے آپ کے ذہن میں آتی ہے اس کے بعد وہ پالیسی بنتی ہے اور بعد میں اس پر عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر ظفر مرزا کا عوام پر صرف سرجیکل یا کپڑے کے ماسکس پہننے پر زور

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ان رویوں کی تبدیلی سے ہمارا مقصد ہے کہ ہم وائرس کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کریں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کب تک چلے گا یہ طویل مدت کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری آرا یہ ہے کہ ہم مخصوص علاقوں میں لاک ڈاؤن کریں، متاثرین سے رابطوں میں آنے والوں کی نشاندہی کریں اور متاثرین کے ساتھ رہنے اور ان سے رابطوں میں آنے والوں کی نشاندہی کے بعد ان کے ٹیسٹ کریں اور اگر ان میں سے کسی کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو انہیں قرنطینہ میں منتقل کریں، ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کا نام ٹی ٹی کیو ہے جس سے مراد نشاندہی کرنا، ٹیسٹ کرنا اور پھر قرنطینہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں 700 کے قریب علاقوں میں لاک ڈاؤن ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 727 ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے مخصوص کیے جانے والے وینٹیلیٹرز میں سے 24 فیصد پر مریض موجود ہیں، انہوں نے بتایا کہ یہ غور طلب بات ہے اور ہمارے پاس ہر ہسپتال کے اعدادو شمار موجود ہیں اور اس پر ہم نے گزشتہ چند ہفتوں میں کافی محنت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سب کے باوجود شور کیوں ہو رہا ہے جس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ یہ انتظامی ایشوز کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وسائل موجود ہیں تو مسئلہ کہاں ہے؟ اور ساتھ ہی ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ اگر ہمارے گھر میں کوئی فرد انتہائی بیمار ہوجاتا ہے تو ہم اسے شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں داخل کروانے کئی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جہاں وائرس کے پھیلنے کا امکان کم ہے، ان شعبوں کو کھول رہے ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا

ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کی وجہ سے بڑے ہسپتالوں میں بہت زیادہ دباؤ محسوس ہورہا ہے جبکہ دیگر ہسپتالوں میں صورتحال معمول کے مطابق ہے جبکہ اس ساری صورت حال میں ملک کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے مختص وینٹیلیٹرز میں سے 75 فیصد ابھی خالی ہیں۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ اس صورت حال کو دیکھنے کے لیے ہم نے ایک ریسورس مینجمنٹ سسٹم بنایا ہے جو گزشتہ روز لانچ کردیا گیا ہے، اس سسٹم کے تحت آپ پاکستان کے تمام ہسپتالوں کو نقشے پر دیکھ سکتے ہیں اور اگر آپ اس نقشے پر کسی ہسپتال کی نشاندہی کریں گے تو اس کے ساتھ ہی اس ہسپتال میں موجود تمام وسائل کی فہرست آپ کے سامنے آجائے گی۔