نیب کی ظفر مرزا کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال، عامر کیانی سے متعلق انکوائری کی منظوری

اپ ڈیٹ 10 جون 2020

ای میل

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور سابق وزیر صحت عامر کیانی—تصاویر بشکریہ ٹوئٹر/ قومی اسمبلی ویب سائٹ
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور سابق وزیر صحت عامر کیانی—تصاویر بشکریہ ٹوئٹر/ قومی اسمبلی ویب سائٹ

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر صحت عامر محمود کیانی کے خلاف انکوائری اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی منظوری دے دی۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ہوا، جہاں ڈپٹی چیئرمین نیب سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔

اس حوالے سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو اجلاس میں 3 انکوائریوں کی منظوری دی گئی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ظفر مرزا پر پاکستان سے 2 کروڑ ماسک کی اسمگلنگ کا الزام

ان 3 انکوائریز کے حوالے سے نیب اعلامیے میں بتایا گیا کہ سابق وزیر برائے قومی ہیلتھ سروسز اینڈ کوآرڈینیشن اور دیگر، سول ایوی ایشن کے افسران/ اہلکاروں اور سی ڈی اے کے افسران و اہلکاروں کے خلاف انکوائریز شامل ہیں۔

اس کے علاوہ نیب اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ بورڈ نے ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی بھی منظوری دی۔

مزید یہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں وفاقی وزارت پیٹرولیم اور قومی وسائل کے افسران و اہلکاروں اور دیگر کے خلاف انکوائری آڈٹ پیراز کے جائزے کے بعد وزارت پیٹرولیم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے بھجوانے کی منظوری دی گئی۔

بیان میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب کی قیادت میں احتساب سب کے لیے کی پالیسی کے تحت 2 برس میں 178 ارب روپے بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ نیب کے اس وقت ایک ہزار 229 بدعنوانی کے ریفرنسز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جن کی مالیت تقریباً 900 ارب روپے سے زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'نیب کے ادارے کو ختم کر دینا چاہیے'

علاوہ ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عامر محمود کیانی جنہیں وزیراعظم عمران خان کی پہلی کابینہ میں وزیر صحت نامزد کیا گیا تھا، انہیں ادویات کی قیمتوں میں نامناسب اضافے سے متعلق تنازع کے بعد اپریل 2019 میں ہٹادیا گیا تھا اور ان کی جگہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو معاون خصوصی برائے صحت تعینات کیا گیا تھا۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے عامر محمود کیانی نے نیب کی جانب سے انکوائری کے آغاز کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ اس مسئلے پر خاموش رہے تھے لیکن انکوائری انہیں خود کو بے گناہ ثابت کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی فورم پر تمام سوالوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

مخالفین کو انکوائری کا انتظار کرنے کا کہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب صرف انکوائری کررہا ہے میرے خلاف تحقیقات نہیں کررہا۔

انہوں نے نیب پر یقین کا اظہار کیا اور شفاف انکوائری کی امید ظاہر کی۔

عامر محمود کیانی کے مطابق ان کے ہاتھ صاف ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ نیب شفاف انکوائری کرے گا۔

اپنے خلاف الزامات سے متعلق جواب دیتے ہوئے عامر محمود کیانی نے کہا کہ ادویہ ساز کمپنیوں کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ کہ ادویات کی قیمتوں میں منظوری کی اجازت وفاقی کابینہ کی جانب سے بھی دی گئی تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں عامر محمود کیانی نے دعویٰ کیا کہ انہیں قیمتوں کے مسئلے کے باعث وفاقی کابینہ سے نہیں ہٹایا گیا تھا بلکہ وزیراعظم عمران خان انہیں حکمراں جماعت کا جنرل سیکریٹری بنانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جنرل سیکیریٹری کا عہدہ وزیر سے بڑا تھا ساتھ ہی سابق وزیر نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کا صرف ایک جنرل سیکریٹری ہے جبکہ درجنوں وزرا ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر ظفر مرزا نے مذکورہ پیشرفت پر فوری طور پر ردعمل نہیں دیا لیکن وزارت قومی صحت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ہر کسی کو کسی کے خلاف شکایت کے اندراج کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی برائے صحت کسی بھی فورم پر سوال جواب کے لیے پیش ہونے کے لیے تیار ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا جنہیں پہلے ملک میں کورونا وائرس سے نمٹنے پر سپریم کورٹ کی برہمی کا سامنا ہوا تھا اب ان پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران 2 کروڑ فیس ماسکس اور دیگر پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ(پی پی ای)کی اسمگلنگ اور بھارت سے جان بچانے والی ادویات کی درآمد کی آڑ میں وٹامنز، ادویات اور سالٹس کی درآمد میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان ینگ فارماسسٹس ایسوسی ایش(پی وائے پی اے) کے نمائندے نے باضابطہ طور پر چیف جسٹس پاکستان کو ملک سے فیس ماسکس اور پی پی ایز کی اسمگلنگ کا نوٹس لینے کے خط لکھا تھا۔

اسی خط میں پی وائے پی اے کے نمائندے نے الزام لگایا تھا وزیراعظم عمران خان کی جانب سے معاون خصوصی برائے صحت کی جانب سے 72 گھنٹے میں ادویات کی قیمتوں میں کمی کی ہدایت دی گئی لیکن ایک برس بعد بھی اس ہدایت پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

بعدازاں مارچ میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈریپ غضنفر علی کے خلاف مبینہ طور پر مالی فائدے کے لیے ایسے وقت میں فیس ماسکس اور پی پی ای کی برآمد کی اجازت دینے کی شکایت کے خلاف تحقیقات کا آغازکیا تھا جب ملک کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

اس کے بعد وزارت صحت کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں چینی سفارت خانے کی درخواست پر ماسکس کی برآمد کی اجازت دی گئی تھی۔

گزشتہ ماہ وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو وزارت کے دستاویز کی بنیاد پر بھارت سے 450 ادویات کی درآمد کی تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔

اس دستاویز سے ظاہر تھا کہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق 5 اگست، 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد حکومت کی جانب سے پابندی کے نفاد کے باوجود بھارت سے وٹامنز، ادویات اور سالٹس بڑی تعداد میں درآمد کیے گئے۔

ابتدائی طور پر فارماسیوٹیکل انڈسٹری نے حکومت کے فیصلے سے قبل بھارت سے پہلے ہی درآمد کی گئی اور ملک کے ایئرپورٹ یا بندرگاہوں پر پہنچنے والے سامان کی کلیئرنس کی اپیل کی تھی۔

اپیل کے باعث حکومت نے قوانین میں نرمی کی تھی اور سامان کلیئر کردیا تھا۔

چونکہ ادویات کی ایک بڑی تعداد اور ان کا خام مال بھارت سے درآمد کیا جاتا تھا تو فارماسیوٹیکلل کمپنیوں نے مطالبہ شروع کردیا تھا کہ بھارتی ادویات اور خام مال سے پابندی ہٹائی جائے ورنہ ملک میں چند ہفتوں میں ادویات خاص طور پر جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہوسکتی ہے۔

لہذا جان بچانے والی دواؤں کی قلت سے بچاؤ کےلیے وفاقی حکومت نے بھارت سے ادویات اور خام مال کی درآمد پر پابندی ہٹادی تھی۔

بعدازاں جان بچانے والی ادویات کے نام پر ہر قسم کی ادویات کی درآمد کی درخواست کی گئی تھی۔