یوٹیلیٹی اسٹورز نے 3 لاکھ 65 ہزار ٹن چینی مہنگے داموں کس کے ایما پر خریدی؟مرتضیٰ وہاب

اپ ڈیٹ 09 جون 2020

ای میل

مرتضٰ وہاب نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت میں بھی سندھ کے پی آر سی کی بنیاد پر بہت سی آسامیاں بھری گئی ہیں—تصویر: ڈان نیوز
مرتضٰ وہاب نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت میں بھی سندھ کے پی آر سی کی بنیاد پر بہت سی آسامیاں بھری گئی ہیں—تصویر: ڈان نیوز

ترجمان حکومت سندھ مرتضٰی وہاب نےچینی بحران کے حوالے سے ایک اور سوال پوچھتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز میں مہنگی قیمت پر چینی خریدنے کی منظوری دی اور اس سے کس کو فائدہ پہنچایا گیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی وفاقی حکومت، وزرا اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر سے چینی برآمد کرنے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے کردار کے بارے میں سوالات کیے تھے جس کے جوابات نہیں دیے گئے۔

صوبائی مشیر قانون کا کہنا تھا کہ جب سے شوگر کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آئی سندھ کے صوبائی وزرا نے اس حوالے سے وزیراعظم کے کردار کے بارے میں سوالات پوچھے تھے کہ شوگر کمیشن خود کہتا ہے کہ ملک میں چینی کی قیمت میں اضافہ اس لیے ہوا کہ وفاقی حکومت نے چینی کی برآمد کی اجازت دی۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم کاغذات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چینی کی برآمد کا فیصلہ کامرس ڈویژن کی درخواست پر کیا گیا اور وہ درخواست وزیراعظم اور مشیر تجارت کی منظوری سے جمع کروائی گئی جسے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظور کیا اور اس کی توثیق وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: شفاف انکوائری میں وزیر اعظم قانون سے بالاتر نہیں، مرتضیٰ وہاب

انہوں نے کہا کہ یہ اہم فیصلے وزیراعظم کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتے تھے لیکن ان کے کردار کے حوالے سے سوالات کا جواب ہمیں کمیشن کی رپورٹ میں ملا نہ ہمارے پوچھنے پر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’شہنشائے احتساب‘ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرکے اعلان کیا کہ شوگر کمیشن کا معاملہ نیب کو بھجوایا جارہا ہے، ہمیں امید تھی کہ اس پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ وزیراعظم سے تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں، وزیراعلیٰ سندھ، پیپلز پارٹی کی قیادت اپوزیشن کی قیادت سے آپ سوالات پوچھ سکتے ہیں تو کیا وزیراعظم قانون سے بالاتر ہیں جن کی منظوری کے بعد چینی برآمد کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ میں چینی کی قیمت کے حوالے سے پہلے 2 سوالوں کے بعد ایک اور سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ یوٹیلیٹی اسٹورز وزارت صنعت کے ماتحت ہے اور اپریل میں جب چینی کا بحران ہوچکا تھا ساڑھے 3 لاکھ ٹن چینی خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے ایم ڈی نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ چینی 80 سے 82 فی کلو روپے قیمت میں خریدی گئی جبکہ اپریل میں اس کی ایکس مل قیمت 76 فی کلو روپے تھی۔

انہوں نے کہ اس وقت وزارت صنعت کا وزیر کوئی نہیں تھا اور اس کے منسٹر ان چارج وزیر اعظم خود تھے جبکہ عبدالرزاق داؤد اس کے مشیر تھے، انہوں نے کہا کہ کس کے کہنے پر یہ چینی خریدی گئی اور کس کو ریلیف دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے 3 لاکھ 65 ہزار ٹن چینی مہنگے داموں کیوں خریدی گئی، کس کے ایما پر یہ کام کیا جارہا ہے کس کو ریلیف دیا جارہا تھا پوری پاکستانی قوم یہ سوالات پوچھنے پر حق بجانب ہے۔

مزید پڑھیں: چینی اسکینڈل: 'شہزاد اکبر اور وفاقی حکومت ،وزیراعظم کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں'

انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے سوالات دہراتے ہوئے پوچھا کہ کسی کی منظوری سے چینی برآمد کا فیصلہ ہوا، کس کی تجویز اور سفارش پر برآمد کا فیصلہ ہوا، جس نے فیصلہ کیا کیا اس سے سوال جواب نہیں ہونا چاہیے، اس کا احتساب نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا صرف سوال کررہا ہوں جس کا جواب ملنا چاہیے کس کی اجازت نے یوٹیلیٹی اسٹورز نے خریداری کا فیصلہ کیا، کیا اس خریداری کی ضرورت تھی جو شاید مہنگے داموں کی گئی۔

ڈومیسائل کے حوالے سے قانونی ابہام دور کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سندھ کے جعلی ڈومیسائل کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دی ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ نے ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں ناصر حسین شاہ مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، بورڈ کے سینئر اراکین اور دو سینئر افسران شامل ہیں اور صوبائی سیکریٹری داخلہ اس پر کارروائی کریں گے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی نہ کسی کو زیادتی کرنے گے، کسی کی حق تلفی نہیں ہونے دیں گے نہ کسی کو حق تلفی کرنے دیں گے۔

پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جو رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کے پاس جمع کروائی گئی تھی اس میں 2 بنیادی پہلو ہیں جس پر ہم توجہ دے رہے ہیں۔

ایک پہلو یہ کہ قانون میں جو خامیاں ہیں اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اس سلسلے میں تشکیل دی گئی کمیٹی سندھ کے پی آر سی رولز برائے سال 1971 میں موجود قانونی ابہام کو دور کرے گی اور ایسی تجاویز دے گی لوگ اس ابہام کے ذریعے سندھ کے حصے کی نوکریاں یا تعلیمی اداروں میں داخلوں کی صورت میں فائدہ نہ اٹھا سکیں اس سلسلے میں اصلاحات کی تجاویز دینے کے لیے کمیٹی کو 3 دن کا وقت دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'جعلی' ڈومیسائلز: پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی کا کورونا میں کمی کے بعد دھرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جہاں یہ غلطیاں ہوچکی ہیں انہیں کیسے دور کیا جائے اور گزشتہ 28 مہینوں کے حوالے سے 4 ڈسٹرکٹس میں جاری کردہ ڈومیسائل اور پی آر سی پر کمیٹی اپنی فائنڈنگز دے چکی ہے۔

ہمارا ہدف ہے کہ کہ کمیٹی سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں قائم ایپلیٹ فورم میں شکایت درج کروائے گی اور وہ فورم اس بات کا فیصلہ کرے گا مشتبہ یا غلط پی آر سیز پر کیا کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ہر ضلع کے کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے تا کہ سندھ کے تمام اضلاع کا ریکارڈ چیک کیا جاسکے اور جہاں جہاں غلط پی آر سی جاری کیا گیا ہو اس کی نشاندہی ہوسکے اور جس کے پی آر سی کی غلط ہونے کی نشاندہی ہو اس کی اپیل ایپلیٹ فورم میں کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اور اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ سندھ کا کوئی شہری بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے یا اس کے مطابق کسی شخص نے غلط طریقے سے پی آر سی حاصل کر کے اس کی حق تلفی کی ہے تو وہ بھی اس ایپلیٹ فورم میں اپیل کرسکتا ہے جس پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کا 'جعلی' ڈومیسائل، پی آر سی پر بھرتیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

مرتضٰی وہاب نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت میں بھی سندھ کے پی آر سی کی بنیاد پر بہت سی اسامیاں بھری گئی ہیں اس لیے سندھ حکومت وفاقی حکومت سے درخواست کرے گی کہ گزشتہ 20 سال کے عرصے میں سندھ کے پی آر سی پر جو داخلے اور نوکریاں دی گئیں اس کی رپورٹ صوبائی حکومت کو فراہم کی جائے تا کہ ہم اسے چیک کرسکیں کہ وہ پی آر سی درست تھا یا نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جن سرکاری افسران نے غلط طریقے سے پی آر سی جاری کیے ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی تا کہ یہ مثال قائم ہوں کہ کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی نہ کرے اور سندھ کے شہریوں کا حق سلب نہ کرے۔

لاک ڈاؤن لگانے کا وقت گزرچکا، ناصر حسین شاہ

کورونا وائرس کی بگڑتی ہوئے صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ نے کہا ہے کہ اب لاک ڈاؤن لگانے کا وقت گزر چکا ہے اور اب شہریوں کو کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ جب یہ وبا پھیلنا شروع ہوئی اس وقت کی مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا جانا چاہیے تھا جب کیسز آنا شروع ہوئے اسی وقت وائرس کو سنجیدگی سے لے لیا جاتا تو اس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگ اسے سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہے؟ کیوں کہ انہیں ایک جانب سے یہ بتایا گیا کہ اس وائرس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعلیٰ سندھ ٹی وی پر آکر صوبے کی صورتحال سے آگاہ کرتے تھے تو انہیں افراتفری پھیلانے کا الزام عائد کیا جاتا تھا۔