نیپال کی پارلیمنٹ نے بھارت سے تنازع کے باوجود نئے نقشے کی منظوری دے دی

اپ ڈیٹ 13 جون 2020

ای میل

قومی اسمبلی اور صدر کی منظوری کے بعد نیا نقشہ آئین کا حصہ بن جائے گا—فوٹو:رائٹرز
قومی اسمبلی اور صدر کی منظوری کے بعد نیا نقشہ آئین کا حصہ بن جائے گا—فوٹو:رائٹرز

نیپال کی پارلیمنٹ نے ملک کے نئے نقشے کی منظوری دے دی جس میں بھارت کے ساتھ متنازع کہلانے والے علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نیپال کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ ایوان زیریں میں متنازع علاقوں کو بھی شامل کرکے نئے نقشے کی منظوری دے دی ہے۔

نیپالی پارلیمنٹ کے اس اقدام کے بعد ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ سرحد پر دہائیوں پرانے تنازع میں شدت آنے کا خطرہ ہے اور نیپال کی سخت پالیسی کی جانب اشارہ ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت اور نیپال کے درمیان کالا پانی تنازع شدت اختیار کرگیا

دوسری جانب بھارت نے نیپال کے نئے نقشے کو مسترد کرتے ہوئے اس کو یک طرفہ قدم قرار دیا اور کہا کہ اس کی بنیاد تاریخی حقائق یا ثبوت پر نہیں ہے۔

نیپال نے بھارت کی جانب سے شمالی ریاست اترکھنڈ کو تبت کی سرحد پر لیپالیکھ سے منسلک کرنے والے 80 کلومیٹر سڑک کے افتتاح کے بعد گزشتہ ماہ تجدید شدہ نقشہ جاری کیا تھا۔

نیپال کا دعویٰ ہے کہ سڑک جس علاقے سے گزر رہی ہے وہ بھارت کا حصہ نہیں بلکہ نیپال کا حصہ ہے۔

نقشے میں نیپال کے شمال مغربی علاقے کی پٹی کو نیپالی خطہ دکھایا گیا ہے۔

نیپال کی پارلیمنٹ کے اسپیکر آگنی پراساد سیپکوٹا کا کہنا تھا کہ نئے نقشے کی منظوری 275 اراکین میں سے 258 نے دی جو دو تہائی سے زیادہ تعداد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نقشے کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔

ایوان زیریں سے منظور ہونے والے نقشے کو آئین کا حصہ بننے کے لیے قومی اسمبلی سے بھی منظوری لی جائے گی جس کے بعد صدر بدھیا دیوی بھنداری کی توثیق درکار ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:نیپال کی حمایت کرنے پر منیشا کوئرالہ کو بھارت میں طعنے

حکمران جماعت نیپال کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم پراچندا کا کہنا تھا کہ نیپال معاملے کو پیچیدہ نہیں کرنا چاہتا ہے اور ایک پرامن حل کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم مسئلے کو بھارت کے ساتھ سیاسی اور سفارتی سطح پر پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں'۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے نئے نقشے کے لیے نیپال کی پارلیمنٹ میں ہونے والی ووٹنگ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کیا ہے؟

بھارت اور نیپال کے درمیان کم از کم 200 سال سے دونوں ممالک کی سرحد پر موجود (کالا پانی علاقہ) کے نام سے موجود علاقے پر کشیدگی جاری ہے۔

تاریخی لحاظ سے یہ علاقہ نیپال کا حصہ تھا مگر 1816 میں ریاست نیپال اور اس وقت متحدہ ہندوستان کی برٹش انڈین حکومت کے درمیان اس علاقے سے متعلق ایک معاہدہ ہوا جسے سگولی معاہدے کا نام دیا گیا۔

اس معاہدے کے تحت نیپال کی ریاست، کالاپانی کے علاقے پر اپنی ملکیت کے دعوے سے دستبرداری ہوگئی تھی مگر ساتھ ہی معاہدے کے تحت کچھ حقوق نیپال کو بھی دیے گئے تھے، علاوہ ازیں نیپال کی ریاست کو برٹش انڈین حکومت نے بدلے میں دوسرے علاقوں تک بھی رسائی دی تھی۔

مگر 150 سال بعد جب متحدہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور بھارت ایک الگ ملک بنا تو اس نے دیگر علاقوں کی طرح اس علاقے کو بھی اپنی حدود میں شامل کرلیا مگر نیپال نے اس وقت سے ہی اس پر احتجاج شروع کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کالاپانی سے اپنی فوج واپس بلائے، نیپالی وزیراعظم

بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ 1816 میں ہونے والے معاہدے کے تحت اب کالا پانی کا علاقہ اس کی ملکیت ہے جب کہ نیپال کا مؤقف ہے کہ اس علاقے کی اصل ملکیت نیپال کے پاس ہی ہے مگر معاہدے کےتحت اس کے بعض انتظامات بھارت سنبھال سکتا ہے۔

لیکن حال ہی میں اس معاملے پر اس وقت دونوں ممالک میں کشیدگی دیکھی گئی جب بھارتی حکومت نے اس علاقے میں ایک روڈ بنانے کا افتتاح کیا تھا جو چین اور بھارت کو ملاتا ہے۔

بھارت کی جانب سے متنازع علاقے کو اپنی ملکیت سمجھ کر نیپال سے تجویز لیے بغیر ہی روڈ بنانے پر نیپال نے برہمی کا اظہار کیا اور نیپالی حکومت نے ایک ایسا نقشہ جاری کردیا جس میں کالاپانی کے علاقے کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا تھا۔

کالا پانی کا علاقہ زمینی طور پر بھارت کی ریاست اترا کھنڈ اور نیپال کے صوبے سدر پشچم پردیش کے درمیان واقع ہے اور دلچسپ بات ہے کہ ان دونوں ممالک کی سرحد کے ساتھ چین کا متنازع علاقہ تبت بھی واقع ہے، جس پر بھی بھارت اور چین کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔

کالا پانی کا علاقہ لمپیادھورا اور لپولیکھ نامی علاقوں کا ایک مجموعہ ہے اور یہ علاقے ہمالیہ پہاڑوں کے دامن میں تین ممالک یعنی نیپال، بھارت اور چین کی سرحد پر واقع ہے، جس کی وجہ سے تینوں ممالک میں کشیدگی جاری رہتی ہے۔