بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی، عالمی سطح پر چوتھا بڑا متاثرہ ملک ہوگیا

اپ ڈیٹ 17 جون 2020

ای میل

بھارت میں ایک روز میں 10 ہزار 965 کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی تعداد 2 لاکھ 97ہزار 535 ہوگئی۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
بھارت میں ایک روز میں 10 ہزار 965 کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی تعداد 2 لاکھ 97ہزار 535 ہوگئی۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں ایک روز میں 10 ہزار 965 کا اضافے ریکارڈ ہوا جس کے بعد وہ برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا میں چوتھے نمبر پر آگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگوا نے بتایا کہ ایک ارب 30 کروڑ سے زائد کی آبادی والے ملک بھارت میں دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے دوران وائرس کی منتقلی کم دیکھی گئی تھی تاہم عوام کو اب بھی خطروں کا سامنا ہے اور وائرس کے خلاف مہم مہینوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

بھارت میں ملک گیر لاک ڈاؤن کا نفاذ مارچ کے آخر میں ہوا تھا تاہم اس کے بعد اس میں نرمی کردی گئی اور اب اسے زیادہ متاثرہ علاقوں میں نافذ کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا مریضوں کے علاج سے انکار پر 35 ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کی درخواست

بھارت کی جانب سے دکانوں، شاپنگ مالز، فیکٹریوں اور مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولنے کی اجازت ملنے کے بعد کیسز میں تیزی سامنے آرہی ہے۔

تاہم ملک بھر میں سب ویز، اسکولز، کالجز اور سینما گھر اب بھی بند ہیں۔

بھارت کے وزارت صحت کے مطابق مذکورہ کیسز میں اضافے کے بعد بھارت میں مجموعی کیسز کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار 535 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 8 ہزار 498 افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں ہلاکتوں کی تعداد میں 396 کا اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹرز نے کیسز میں اضافے کے بعد لاک ڈاؤن کو بے سود قرار دے دیا

بھارت کی تصدیق شدہ کیسز کی تعداد اب صرف امریکا، برازیل اور روس سے پیچھے ہے۔

ممبئی، نئی دہلی اور چنئی ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہیں۔

بلرام بھارگوا نے کہا کہ شہروں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہے تاہم دیہی علاقوں میں بھی انفیکشن میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’شہروں سے ملازمت سے محروم ہونے کے کئی لوگ اپنے آبائی علاقوں میں واپس گئے ہیں جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں بھی اس وائرس کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس مہلک کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

تقریباً 6 ماہ کے اس عرصے میں اس کورونا وائرس سے نہ صرف لوگ متاثر ہوئے اور ان کی اموات ہوئیں بلکہ اس نے دنیا بھر کی معیشت کو بھی بری طرح متاثر کیا کیونکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف ممالک نے پابندیاں اور لاک ڈاؤن کیے۔

اگر کورونا وائرس کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 17 جون کی شام تک دنیا بھر میں تقریباً 82 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 4 لاکھ 44 ہزار سے زائد افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔