وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان یونٹ سے منسلک کمپنی نے تنازع کھڑا کردیا

اپ ڈیٹ 24 جون 2020

ای میل

سوشل میڈیا پر ہونے والے حالیہ انکشاف کے مطابق معاون خصوصی تانیہ ایدروس  ایک نجی فاؤنڈیشن کی بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی ہیں—فائل فوٹو:ڈان نیوز
سوشل میڈیا پر ہونے والے حالیہ انکشاف کے مطابق معاون خصوصی تانیہ ایدروس ایک نجی فاؤنڈیشن کی بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی ہیں—فائل فوٹو:ڈان نیوز

کراچی: وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے تخلیق کردہ ڈیجیٹل پاکستان اقدام سے متعلق سوشل میڈیا پر اس وقت تنازع کھڑا ہوگیا جب اس سے منسلک ایک کمپنی میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی اور اس کمپنی کی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تانیہ ایدروس کی شمولیت پر سوال اٹھادیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم خان نے گزشتہ سال 5 دسمبر کو ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کا آغاز کیا تھا اور اس اقدام کی قیادت کرنے کے لیے گوگل کی ایگزیکٹو تانیہ ایدروس کو نامزد کیا تھا جنہوں نے گوگل سے اپنا عہدہ چھوڑ کر اس کی قیادت کرنے کے لیے یہاں آئیں تھیں۔

خیال رہے کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام براہ راست وزیر اعظم آفس کے تحت کام کرتا ہے جبکہ رولز آف بزنس 1973 کے قواعد 4 کی شرائط کے مطابق فروری میں تانیہ ایدروس کو ڈیجیٹل پاکستان کے بارے میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی مقرر کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں اسی ماہ میں سوشل میڈیا پر ہونے والے انکشافات جس کی ڈان نے تصدیق بھی کی ہے، اس کے مطابق اسی مہینے ڈیجیٹل پاکستان فاؤنڈیشن (ڈی پی ایف) کے نام سے غیر منافع بخش کمپنی کو حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان اقدام کی تعریف کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے سیکشن 42 کے تحت رجسٹرڈ کرایا گیا تھا۔

ایس ای سی پی کی ویب سائٹ کے مطابق فاؤنڈیشن کے بانی ڈائریکٹرز میں تانیہ ایدروس، پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین (جنہیں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا)، آن لائن ٹیکسی کمپنی کریم کے سی ای او مدثر الیاس شیخا اور جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند شامل ہیں۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تانیہ ایدروس کی شمولیت اور فاؤنڈیشن کے فنڈز اور کاموں کے حوالے سے شفافیت کی کمی نے خدشات کو جنم دیا اور یہ خاص طور پر مفاد کے تصادم کا باعث بنا۔

مزید پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی سربراہ تانیہ ایدروس کون ہیں؟

ان خدشات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تانیہ ایدروس نے ڈان کو بتایا کہ ’کسی بھی معاون خصوصی کے غیر منافع بخش کمپنی کے بورڈ میں شامل ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی نہیں ہے مسئلہ اس وقت پیدا ہوگا جب کمپنی منافع بخش ہوتی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’فاؤنڈیشن کا مقصد حکومت کو ڈیجیٹلائزیشن اقدامات میں بلا معاوضہ مدد فراہم کرنا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح فاؤنڈیشن کا حکومت سے کوئی پیسے وصول کرنے کا ارادہ نہیں ہے اسی طرح یہ فاؤنڈیشن حکومت پر بوجھ بڑھانے کا بھی ارادہ نہیں رکھتی بلکہ بیرونی عطیات دہندگان (ڈونرز) سے مالی اعانت کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرکے فنڈز بڑھانا چاہتی ہے، قرضوں کو نہیں‘۔

جہانگیر ترین کی شمولیت

تانیہ ایدروس نے ڈان کو اس بات کی تصدیق کی کہ جہانگیر ترین ’ایک ایسے شخص کے طور پر جو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈا سے جڑے ہوئے ہیں‘ اس کپنی کے بانی ٹیم کا حصہ تھے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ذاتی اور کاروباری مصروفیات جہاں اپریل میں انہیں مکمل وقت دینے کی ضرورت تھی، انہوں نے بورڈ سے استعفیٰ دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’15 اپریل 2020 کو جہانگیر ترین نے ممبر اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے استعفی دینے کا انتخاب کیا اور اس کے مطابق بورڈ کو آگاہ کیا، بعد ازاں ایس ای سی پی نے جہانگیر ترین کی 23 اپریل کو رکنیت کی حیثیت سے استعفی دینے کی درخواست کو منظور کیا تھا۔

گوگل کی سابق ایگزیکٹو نے کہا کہ فاؤنڈیشن کی ٹیم متعدد گرانٹز دینے والوں کے ساتھ رابطے میں ہے جس میں امیر ترین پاکستانی بھی شامل ہیں جو پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ جہانگیر ترین کا فاؤنڈیشن کی قیادت، انتظامیہ یا کارروائیوں میں کوئی کردار یا مصروفیات جاری نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان سے نوجوان آبادی ہماری طاقت بن جائے گی، عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین اور ان کے وکیل کے استعفیٰ دینے کے بعد بورڈ کی جانب سے نئی تقرریاں کرنا ابھی باقی ہیں، بورڈ کی توسیع کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگئی ہے لیکن نئے مالی سال کے آغاز پر اس کام کو ہوجانا چاہیے۔

ان کے مطابق کمپنی نے ابھی باضابطہ طور پر کام اور فنڈز حاصل کرنا شروع نہیں کیے۔

معاشی فوائد

ادھر تانیہ ایدروس نے کہا کہ کسی بھی سرکاری عہدے پر فائز ہوتے ہوئے کسی دوسرے ادارے میں جز وقتی یا کُل وقتی کردار ادا کرتے ہوئے کسی بھی ڈائریکٹر یا چیئرپرسن کو تنظیم سے تنخواہ یا وظیفہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقام پر کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے اور نہ ہی اس کا تبادلہ ہوا ہے۔

معاون خصوصی نے ڈان کو بتایا کہ ڈیجیٹل پاکستان فاؤنڈیشن کو بھی غیر منافع بخش کسی بھی تنظیم کی طرح حکومت/ ریگولیٹر کی منظوری کے مطلوبہ عمل سے گزرنا ہوگا۔

مفادات کا تصادم؟

علاوہ ازیں وکلا کے مطابق کمپنی کے کاموں اور حکومت سے روابط کی قانونی حیثیت کے معاملے میں بہت ساری چیزوں کی معلومات کرنا ابھی باقی ہیں۔

آئینی وکیل وقاص میر نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں ذاتی مالی فوائد حاصل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تاہم ایک طرف حکومتی عہدیدار کی حیثیت سے کردار ادا کرنے اور دوسری طرف نجی کنٹرولڈ ادارے کے لیے بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے کام کرنے کے درمیان بہتر عمل یہ ہے کہ اس طرح کے مفادات کے تصادم سے بچا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ‘معاون خصوصی کی حیثیت سے ان کو حکومت سے کسی نجی ادارے جہاں وہ بورڈ کی رکن کی حیثیت سے کام کرتی ہیں، مشاورت نہیں کرنی چاہیے‘۔