موبائل اور رنگین ٹی وی سے پہلے ہم نے زندگی کیسے گزاری؟

25 جون 2020

ای میل

ہمارے بچپن میں بلکہ لڑکپن تک موبائل ایجاد نہیں ہوا تھا، ٹی وی کے نام پر بھی بس پی ٹی وی تھا، جو ’بلیک اینڈ وائٹ‘ تھا مگر سرکاری ہونے کی وجہ سے سیاہ و سفید دکھانے کے بجائے حکومت کو سفید ہی دکھاتا تھا۔

اس لیے کہانیاں اور بچوں کے رسالے ہی ہماری دلچسپی کا سامان تھے، اس دلچسپی کے باعث کہانیوں کے بہت سے کردار دماغ پر ایسے چسپاں ہوئے کہ مٹائے نہیں مٹتے۔

ہم نے سوچا جن بچوں نے موبائل اور ٹی وی اسکرین میں آنکھ کھولی ہے، اور ایسی کھولی کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، اتنی کہ سونے کے لیے بڑی مشکل سے بند کروانی پڑتی ہیں، انہیں اپنے بچپن اور لڑکپن کے کچھ کرداروں سے ملوائیں، تو بھئی ملیے:

مزید پڑھیے: اب شروع کرو ’خبروں سے پاک شوز‘

ٹارزن

یہ صاحب جنگل میں پلے بڑھے اور وہیں رہتے تھے۔ واضح کردیں کہ یہ قیس نہیں تھے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا ’قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو‘۔ اگرچہ قیس المعروف بہ مجنوں، لیلیٰ کے غم میں شہر چھوڑ کر صحرا میں جابسا تھا، لیکن شاعر شاید انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسے صحرا کے بجائے جنگل میں دیکھنا چاہتا تھا، تاکہ پینے کو پانی اور کھانے کو پھل تو مل جائیں۔

ممکن ہے شاعر ’ٹمبر مافیا‘ کے لیے لکڑیاں کاٹنے خود جنگل جانا چاہتا ہو اور بہانا کردیا ہو اس لیے جارہا ہوں کہ وہاں قیس ہے، میرے پہنچتے ہی ’خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو‘۔

بہرحال، ٹارزن صاحب کے جنگل کے ہر جانور سے ذاتی تعلقات تھے، اور وہ ہر جانور سے اس کی مادری زبان میں باآسانی گفت وشنید کرلیتے تھے، انہیں کوئی ایسا پچھتاوا نہیں تھا کہ زبانِ یار مَن ’جنگلی‘ ومَن ’جنگلی‘ نمی دانم۔

کبھی کبھی شہر سے کوئی شکاری آجائے تو اس سے انگریزی بھی بول لیتے تھے، جس سے پتا چلتا ہے کہ جنگل میں کوئی انگلش سکھانے کا مرکز بھی تھا جو شرطیہ 3 ماہ میں انگریزی سکھا دیتا تھا۔ ہم نے ٹارزن کی جتنی تصویریں دیکھیں ان میں انہیں بنا داڑھی مونچھ کے پایا، تو طے پایا کہ جنگل میں نائی بھی تھا۔ نائی ہی نہیں ٹارزن کی کہانیوں میں چھپنے والی تصویروں سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگل میں درزی بھی تھا، تبھی تو ٹارزن صاحب سیلقے سے سلی مختصر سی جانگیا میں نظر آتے ہیں، اگرچہ ان کا جسم ان کی مرضی، مگر کپڑا اور درزی میسر تھا تو بھیا پوری پتلون ہی سلوا لیتے، لیکن ہمارے خیال میں کچھ کفایت شعاری اور باقی کودنے، پھاندنے اور ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ پر چھلانگیں مارنے کی مجبوری کے باعث انہوں نے اس چڈی ہی کو پیراہن بنانا مناسب سمجھا۔

ٹوٹ بٹوٹ

اس کی خوراک سے پتا چلتا ہے کہ کسی امیر کبیر آدمی کا نورِ نظر تھا
اس کی خوراک سے پتا چلتا ہے کہ کسی امیر کبیر آدمی کا نورِ نظر تھا

یہ ایک لڑکا تھا، وہ لڑکا نہیں جو چھوٹا سا تھا اور کام بڑے بڑے کرنا چاہتا تھا، یہ بڑے نہیں نرالے کام کرتا تھا، جیسے ’پیتا تھا وہ سوڈا واٹر، کھاتا تھا بادام اخروٹ‘، اس خوراک سے پتا چلتا ہے کہ کسی امیر کبیر آدمی کا نورِ نظر تھا، بعض حرکتوں سے لگتا ہے کہ والد صاحب سیاستدان تھے، کردار کے خالق نے کہا ہے ’باپ تھا اس کا میر سلوٹ‘ اور بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ سلوٹ دراصل ’سلیوٹ‘ ہے، جس کا ’ی‘ شعری ضرورت کے تحت شاعر نے حذف کردیا۔

ٹوٹ بٹوٹ کے کھیر پکانے میں جس طرح ابّا، امّی، خالہ، پھوپھی، بھائی، بہنوں اور خالو نے ہاتھ بٹایا، اس سے محققین کی اس رائے کو تقویت ملتی ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب خود کو ’ایک خاندان‘ سمجھتے تھے، کھیر ہو یا کچھڑی مل جُل کر پکاتے تھے۔

مزید پڑھیے: ’کے الیکٹرک‘ کی ’غیر نصابی‘ خدمات

پھر دعوت کے لیے دسترخواں لگاتے ہی گاﺅں کے گاﺅں کے دوڑے آنے، یہاں تک کہ مینڈکوں، چوہوں، بلی، کوے اور طوطے کی بھاگم بھاگم آمد سے بھی پتا چلتا ہے کہ سب ٹوٹ بٹوٹ اینڈ فیملی کے کیسے تابعدار تھے۔ ایک اور نظم میں بتایا گیا ہے کہ ٹوٹ بٹوٹ نے مرغے پالے ہوئے تھے بس اب کیا رہ گیا، میر سلوٹ صاحب کے پیشے کا مسئلہ حل ہوا۔

عمران

نہیں نہیں آپ غلط سمجھے، ہم کسی اور کے نہیں ابنِ صفی کے تخلیق کردہ کردار کی بات کر رہے ہیں، جو کھلاڑی نہیں شریر اور کھلنڈرا تھا۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھا تھا اور لگتا بھی تھا۔ عمران مارشل آرٹ، جمناسٹک، میک اپ اور کسی کی بھی آواز کی نقل اتارنے میں ماہر تھا، گویا ہر فن مولا تھا۔

اپنی ان صلاحیتوں کی وجہ سے جانا تو اسے فلموں میں چاہیے تھا لیکن اپنی ذہانت کے باعث پاکستانی فلموں کا مستقبل تاڑ گیا اور سیکرٹ سروس میں آکر اس کا سربراہ بن گیا۔ عجیب سربراہ تھا، منصوبے بناتا نہیں تھا بلکہ ملک دشمنوں کے منصوبے ناکام بناتا تھا۔ پاک باز ایسا کہ اسکینڈل تو کیا کسی حسینہ کے ساتھ سیلفی بھی نہ بن سکے۔

عمرو عیار

یہ کردار نہایت طویل داستان ’طلسم ہوش ربا‘ اور ’داستان امیر حمزہ‘ کا ہے
یہ کردار نہایت طویل داستان ’طلسم ہوش ربا‘ اور ’داستان امیر حمزہ‘ کا ہے

عمران کی طرح عمرو عیار کا پیشہ بھی جاسوسی تھا۔ یہ کردار نہایت طویل داستان ’طلسم ہوش ربا‘ اور ’داستان امیر حمزہ‘ کا ہے۔ مصنفوں کو پتا تھا کہ جلد بڑے بڑے بستوں سے بچوں کے ہوش اڑائے جانے والے ہیں، اس لیے وہ یہ کردار طویل داستانوں سے نکال کر بچوں کے چھوٹے چھوٹے ناولوں میں لے آئے۔ گویا یہ اصل کردار کا ’ساشے پیک‘ تھا۔

اس کے پاس ایک زنبیل تھی، جس میں سے کچھ بھی نکل آتا تھا، ہمارے ہاں بہت سے آئینی ماہرین ٹھیک یہی کرتب دکھاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر سیاستدان کے پاس ایسی ہی زنبیل ہوتی ہے، جن میں سے وقت آنے پر قطری شہزادے کا خط نکل آتا ہے، بعض سیاستدان اپنی زنبیل سے ٹائیگر نکالنا چاہتے ہیں، لیکن یا تو کچھ نہیں نکلتا یا کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا معاملہ ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیے: غیبت اور بابو ٹینشن کا قول

انسپیکٹر جمشید، محمود، فاروق، فرزانہ

یہ ابّا اور بچے مل کر وارداتوں کا پتا چلاتے اور سازشیں اور منصوبے ناکام بناتے تھے۔ لوگ انہیں دیکھ کر پوچھتے ہوں گے ’یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا‘۔

تینوں بچے اتنے ذہین تھے کہ اگر جاسوسی کرنے کے بجائے کاروبار شروع کرتے تو اپنے ابّا کو کروڑوں روپے تحفے میں دے ڈالتے
تینوں بچے اتنے ذہین تھے کہ اگر جاسوسی کرنے کے بجائے کاروبار شروع کرتے تو اپنے ابّا کو کروڑوں روپے تحفے میں دے ڈالتے

انسپیکٹر جمشید بہت دیانتدار، ذہین اور بہادر تھے، شاید اس لیے ترقی نہیں کرپائے، انسپیکٹر کے انسپیکٹر ہی رہے۔ کہا جاتا ہے کہ کبھی کوئی پولیس مقابلہ نہ کرنے کی وجہ سے ترقی نہیں ملی۔ اس وقت تک کیوں کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ ایجاد نہیں ہوا تھا، اور اسکولوں میں بچوں کو اسائنمنٹس وغیرہ دینے کا سلسلہ نہیں تھا، اس لیے بچوں کو فراغت ہی فراغت تھی، لہٰذا محمود، فاروق اور فرزانہ اپنے والد صاحب کے ساتھ سرکاری امور انجام دینے میں لگے رہتے تھے۔ انہیں ملک کے قوم کا اتنا خیال تھا کہ ہمیشہ اسکول ہی میں رہے، یہ سوچ کر کہ آگے پڑھنا شروع کیا تو ابّا کے ساتھ مل کر ملک وقوم کی خدمت کا موقع نہیں ملے گا۔ تینوں بچے اتنے ذہین تھے کہ اگر جاسوسی کرنے کے بجائے کاروبار شروع کرتے تو اپنے ابّا کو کروڑوں روپے تحفے میں دے ڈالتے۔

ایسے اور بھی کردار ہیں، ان پر پھر کبھی لکھیں گے۔