اب فیس ماسک بھی 'اسمارٹ' ہوگئے

جون 27 2020

ای میل

— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

کورونا وائرس کے نتیجے میں فیس ماسک کا استعمال اب دنیا بھر میں معمول کا حصہ بنتا جارہا ہے اور اس کو دیکھتے ہوئے انٹرنیٹ سے کنکٹڈ 'اسمارٹ ماسک' متعارف کرادیا گیا ہے۔

جاپانی کمپنی ڈونٹ روبوٹیکس نے یہ اسمارٹ ماسک متعارف کرایا ہے جو میسسجز کی ترسیل کے ساتھ جاپانی زبان کو 8 دیگر زبانوں میں ترجمہ کرسکتا ہے۔

سفید پلاسٹک کے 'س ماسک' کو کسی عام فیس ماسک کے اوپر فٹ کیا جاتا ہے اور اسمارٹ فون یا ٹیبلیٹ پر بلیوٹوتھ کے ذریعے منسلک کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد اپلیکیشنز کے ذریعے باتوں کو تحریری پیغام میں بدلنے، کالز کرنے یا دیگر کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ٹیسیوک اونو نے بتایا 'ہم برسوں سے روبوٹ تیار کرنے کے لیے محنت کررہے ہیں اور ہم نے اس ٹیکنالوجی کو ایسی پراڈکٹ کی تیاری کے لیے استعمال کیا جو کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہے'۔

اس وبا کے دوران کمپنی نے اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ا ماسک کی تیاری پر کام شروع کیا۔

کمپنی کے ابتدائی 5 ہزار فیس ماسک ستمبر میں سب سے پہلے جاپان میں صارفین کو دستیاب ہوں گے جبکہ چین، امریکا اور یورپ میں بھی انہیں فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

اس ماسک کی قیمت 40 ڈالرز رکھی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر اس کی فروخت آئندہ چند ماہ میں شروع ہوگی، جبکہ کمپنی صارفین کی جانب سے ایپ کے ذریعے سبسکرائبر پیشکش کے ذریعے بھی آمدنی حاصل کی جائے گی۔

کمپنی کی جانب سے ایک پروٹوٹائپ ماسک تیار کرکے اس میں ٹرانسلیشن سافٹ وئیر کو دیا گیا جو روبوٹس کے لیے تیار کیا گیا تھا اور ماسک کا ڈیزائن کمپنی کے ایک انجنیئر کا تیار کردہ تھا جو اس نے 4 سال قبل ایک اسٹوڈنٹ پراجیکٹ کے لیے تیار کیا تھا۔