'کیا اپوزیشن اس بات کو رد کر رہی ہے کہ حکومت نے بجٹ میں نئے ٹیکسز نہیں لگائے'

اپ ڈیٹ 28 جون, 2020

ای میل

حماد اظہر نے کورونا کے بحران کے دوران سیاسی محاذ آرائی پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا— فوٹو: اسکرین ڈان
حماد اظہر نے کورونا کے بحران کے دوران سیاسی محاذ آرائی پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا— فوٹو: اسکرین ڈان

وفاقی وزرا نے متحدہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں بجٹ کو مسترد کیے جانے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں حکومت نے کوئی نئے ٹیکسز نہیں لگائے تو اپوزیشن کس بات کو مسترد کر رہی ہے۔

اس سے قبل متحدہ اپوزیشن نے آج مسترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2020 کے بجٹ نے موجودہ حکومت کے خلاف پورے پاکستان کو متحد کردیا ہے اور متحدہ حزب اختلاف نے اس بجٹ کو مسترد' کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کے بجٹ کو مسترد کردیا

اپوزیشن کی پریس کانفرنس کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے وزیر صنعت حماد اظہر اور وزیر مواصلات مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی معاشی صورتحال، اداروں اور عوام کی حالت زار ان دو پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ادوار میں اپنے ذاتی کاروبار کو فروغ دیا، ملک کے اداروں کو تباہ کیا اور لوٹ کھسوٹ کر کے ملک سے باہر جائیدادیں بنائیں اور ملک سے باہر جا کر بیٹھ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اس منافقت کا ثبوت یہی ہے کہ ایک طرف تو انہوں نے اپنے لیے اربوں کی جائیدادیں بنائیں اور ادھر آ کر غریبوں کا رونا رو رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لاک ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں اس وجہ سے کہ ان کے پاس سب کچھ ہے ، ان کو وزیر اعظم عمران خان کی طرح غریب عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، وزیر اعظم نے جس ثابت قدمی اور واضح سوچ کے ساتھ اس وبا کا مقابلہ کیا ہے، جس طرح سے پاکستان کا عالمی تشخص دوبارہ بحال کیا ہے لیکن یہ سیاسی جماعتیں یہ دیکھ نہیں سکتیں کہ کوئی ایسا شخص بھی آئے جس کا نہ کوئی کاروبار ہو نہ کوئی ذاتی ایجنڈا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں انہیں اس طرح کی گفتگو کرتے ہوئے شرمندگی کا احساس ہونا چاہیے کیونکہ جن حالات سے ملک دوچار ہے، جو ہماری اور عالمی مشکلات ہیں اس میں انتخابات اور بجٹ پر تنقید کرنا درست نہیں اور زمینی حقائق جاننے کے باوجود وہ لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وبا: سندھ میں کیسز 80 ہزار سے زائد، ملک میں متاثرین 2 لاکھ 5 ہزار 134 ہوگئے

شبلی فراز نے واضح کیا کہ ہم عمران خان کی قیادت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اس ملک کا اگر کوئی نجات دہندہ ہے تو وہ وزیر اعظم عمران خان ہیں اور وہ ہی اس ملک کو اس بلندی پر لے جائیں گے جس کے لیے یہ ملک بنا تھا۔

اس موقع پر وزیر انڈسٹریز حماد اظہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اپوزیشن نے اپنی روایت کو قائم رکھتے ہوئے دوبارہ بجٹ کو رد کردیا اور مجھے سمجھ نہیں آئی کہ انہوں نے کس چیز کو رد کیا ہے کیونکہ اس بجٹ میں تو کوئی نئے ٹیکسز لگائے ہی نہیں گئے بلکہ ریلیف دیے گئے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن اس بات کو رد کر رہی ہے کہ حکومت نے نئے ٹیکسز نہیں لگائے اور ان کو مایوسی ہوئی کہ وہ پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ہم نے ریلیف دیا، ایک کروڑ 60 لاکھ گھرانوں کو امداد پہنچا رہے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، 30 لاکھ چھوٹے کاروبار کے بجلی کے بل معاف کیے، کیا اس کو رد کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین کا وادی گلوان میں بھارت سے سرحدی تصادم کے بعد مارشل آرٹس ٹرینرز بھیجنے کا فیصلہ

حماد اظہر نے کہا کہ جو لاکھوں کاروبار کو اسٹیٹ بینک کی سہولت کے ذریعے ان کے قرضوں کو دوبارہ سے شیڈول کردیا گیا، کیا یہ اسے رد کر رہے ہیں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے لاکھوں کی تعداد میں امداد صوبوں کے ہسپتالوں کی دہلیز تک پہنچائی، تو یہ کس چیز کو مسترد کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید تھی کہ اس مرتبہ کم از کم اس وبا میں یہ ذمے داری کا ثبوت دیں گے لیکن لگتا ایسے ہے کہ ان کو صرف اپنے سرمائے کی فکر ہے، ان کو صرف این آر او چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو قیمت اوپر گئی ہے، یہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت اوپر جانے کی وجہ سے گئی ہے۔

وزیر صنعت نے مزید کہا کہ تاریخ میں کبھی اتنی تیزی سے تیل کی قیمت نیچے نہیں آئی اور اسی لیے ہم نے آگے ریلیف فراہم کیا، کوئی خطے میں دوسرا ایسا ملک نہیں ہو گا جس نے تیل کی قیمتوں کو اتنا کم کیا جتنا ہم نے کم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں بہت تیزی سے تیل کی قیمت واپس اوپر گئی، 20 ڈالر برینٹ کی قیمت 43 ڈالر ہو گئی تو یہاں بھی وہ قیمت بڑھنی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں سے جھڑپ کے دوران ترک فوجی ہلاک

انہوں نے کہا کہ ہم نے کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے جس حکمت عملی سے کام لیا، آج آپ ہندوستان سمیت اپنے اردگرد ممالک میں دیکھیں کہ کیسز کس رفتار سے بڑھ رہے ہیں لیکن یہاں ایک بہتر حکمت عملی اپنائی گئی جس سے معیشت کے نقصانات کو کم اور وبا پر بھی قابو پانے کی کوشش کی گئی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد سعید نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 30-35 سالوں تک انہوں نے پاکستان پر حکومت کی لیکن کبھی عام طبقے، غربت کے خاتمے، بیواہ خواتین، بزرگ شہریوں کے لیے جامع پروگرام نہیں لے کر آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھے تھے کہ بات ہوگی تو فرزندِ زرداری کچھ نہ کچھ سیکھ کر عالمی وبا کے دوران ان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتائیں گے، کوئی ڈیٹا سامنے رکھیں گے کہ انہوں نے بھاشن کے سوا کسی کو راشن دیا یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید تھی کہ وہ 8سالوں میں انہیں سوا 5ارب کھرپ روپے ملے اسے انہوں نے صحت کے لیے کونسے ایسے اقدامات کیے ، اس پربات کریں گے لیکن اس پر بات نہیں کرنی کیونکہ جب آپ سندھ کے پیسے کی بات کرتے ہیں تو جعلی اکاؤنٹس کی جے آئی ٹی میں جواب مل جائیں گے کہ یہ پیسہ کہاں لگ رہا تھا۔