دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کر گئی

29 جون 2020

ای میل

یورپ میں صرف روس میں برطانیہ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں— فوٹو: اے پی
یورپ میں صرف روس میں برطانیہ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں— فوٹو: اے پی

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کی تعداد اکثر ملکوں اور خطوں میں بڑھتی جا رہی ہے اور دنیا بھر میں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

سانس اور پھیپھڑوں کی یہ بیماری خصوصاً زائد العمر اور بوڑھے افراد کے لیے زیادہ خطرناک ہے جس سے اب تک دنیا بھر میں کم از کم 5لاکھ ایک ہزار افراد ہلاک اور ایک کروڑ سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یکم سے 27جون کے دوران کورونا وائرس سے دنیا بھر میں روزانہ اوسطاً 4ہزار 700 افراد ہلاک ہوئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ کئی ملکوں کو وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ ہے۔

حالیہ ہفتوں میں جہاں اموات کی مجموعی شرح کم ہوگئی ہے ماہرین صحت نے امریکا، بھارت اور برازیل جیسے ممالک میں ریکارڈ ہونے والے نئے کیسز کے ساتھ ساتھ ایشیا کے کچھ حصوں میں نئی لہر پھیلنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

قطر میں کورونا کے سبب لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے— فوٹو: اے ایف پی
قطر میں کورونا کے سبب لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے— فوٹو: اے ایف پی

اس مطلب یہ ہوا کہ ہر گھنٹے میں دنیا میں 196 افراد ہلاک ہو رہے ہیں یعنی ہر 18سیکنڈز میں ایک شخص کی موت واقع ہو رہی ہے۔

دنیا بھر میں ہونے والی اموات میں سے اب تک ایک تہائی اموات امریکا میں ہوئی ہیں جہاں جن مغربی اور جنوبی ریاستوں کو کھولا گیا تھا اب وہاں وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے ایک کروڑ کیسوں میں سے آدھے سے زائد کیسز یورپ اور امریکا میں سامنے آئے لیکن اب یہ امریکی خطے میں انتہائی تیزی سے پھیل ہا ہے۔

اسی طرح یہ وائرس جنوبی ایشیا اور افریقہ کو بھی متاثر کر رہا ہے لیکن وہاں اس وائرس کے جولائی سے قبل عروج پر پہنچنے کا امکان نہیں۔

یہ وائرس دنیا کے اکثر ملکوں میں پھیل رہا ہے اور صرف گزشتہ چھ دنوں میں 10 لاکھ سے زائد افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

اتوار کو امریکی آفیشلز نے کہا تھا کہ ایک دن میں مزید 44ہزار 700کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور 508 موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

ایران میں کورونا سے ہلاک ایک شخص کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے— فوٹو: اے ایف پی
ایران میں کورونا سے ہلاک ایک شخص کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے— فوٹو: اے ایف پی

لاطینی امریکا میں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب وہاں کیسز کی تعداد یورپ سے بھی تجاوز کر گئی ہے جس کے بعد یہ شمالی امریکا کے بعد دنیا بھر میں سب سے متاثرہ خطہ بن گیا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلین آفیشلز نے دو ماہ میں پہلی مرتبہ زیادہ تعداد میں کیسز زیادہ رپورٹ ہونے پر کچھ علاقوں میں دوبارہ سے سماجی فاصلوں پر پابندی عائد کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جہاں بہت ساری ریاستوں اور علاقوں تازہ ترین اعداد و شمار آنے باقی ہیں وہیں آسٹریلیائی ریاست وکٹوریہ کا کہنا ہے کہ وہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 75 کیسز سامنے آئے-

یہ 11 اپریل کے بعد سے ملک میں ایک روز میں سامنے آنے والے کیسز میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اس سے قبل ریاست میں ایک روز میں 20 سے کم نئے کیسز سامنے آتے تھے جس کے بعد آسٹریلیا میں بڑھتی ہوئی تعداد نے دوسری لہر کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس نے سب سے زیادہ تباہی پھیلائی تاہم اب وہاں کیسز اور ہلاکتوں میں واضح کمی آگئی ہے۔

نیویارک کے گورنراینڈریو کوومو نے کہا کہ 'جب سے کورونا وائرس سامنے آیا اس کے بعد پہلی مرتبہ سب سے کم اموات ہوئی ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم بالکل مخالف سمت میں ہیں'۔

نیویارک میں کورونا وائرس سے 5 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

گورنر نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت ہسپتالوں میں 800 سے کم متاثرین موجود ہیں جو شروع دن سے کم ترین تعداد ہے۔

ایران میں فروری میں کورونا وائرس رپورٹ ہونے کے بعد اب تک ایک روز میں سب سے زیادہ 162 ہلاکتوں کی تصدیق ہوگئی ہے۔

ایران میں 162 ہلاکتوں کے بعد کورونا وائرس سے ہلاک فراد کی مجموعی تعداد 10 ہزار 670 تک پہنچ گئی ہے۔

ایران میں مزید 2 ہزار سے زائد کیسز بھی رپورٹ ہوئے اور کیسز کی تعداد 2 لاکھ 25 ہزار 205 ہوچکی ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان سیماسادات لاری کا کہنا تھا کہ 'یہ اضافہ مجموعی طور پر ہماری کارکردگی کا مظہر ہے، لاک ڈاؤن ختم کرنے اور حفاظتی تدابیر سے متعلق دونوں سطح پر کارکردگی کا اظہار ہے'۔

ادھر اسرائیل نے کورونا وائرس کی دوسری لہر آئی ہے اور اس سلسلے میں نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر صحت یولی ایڈلسٹن نے کہا کہ ہمارے ملک میں کورونا وائرس کی نئی لہر کا آغاز ہو رہا ہے ، ہمیں نئی پابندیاں متعارف کرانا ہوں گی یہ نئی پابندیاں مجمعوں، شادی کی تقریبات اور عبادت گاہوں کا احاطہ کریں گی۔

اس بات کا اعلان اس وقت کیا گی جب جمعرات سے اسرائیل میں کورونا وائرس کی نئی لہر سامنے آئی تھی اور صرف 24 گھنٹے میں ساڑھے 600 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

اسرائیل میں اب تک 23ہزار 755 افراد وائرس سے متاثر اور 318افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 17ہزار افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

دنیا میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت 9جنوری کو ہوئی تھی جب چین کے شہر ووہان میں ایک 61سالہ شخص ہلاک ہو گئے تھے جو گوشت کی مارکیٹ میں روزانہ جاتے ہیں اور اسی مارکیٹ کو وائرس کی جڑ قرار دیا گیا تھا۔

نئی دہلی میں کورونا سے ہلاک ایک شخص کی لاش کو مکمل حفاظتی اقدامات کے ساتھ آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے لے جائی جا رہی ہے— فوٹو: اے ایف پی
نئی دہلی میں کورونا سے ہلاک ایک شخص کی لاش کو مکمل حفاظتی اقدامات کے ساتھ آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے لے جائی جا رہی ہے— فوٹو: اے ایف پی

صرف پانچ ماہ کے عرصے میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد سالانہ بنیادوں پر ملیریا سے مرنے والوں سے تجاوز کر گئی ہے۔

ہر ماہ مرنے والوں کی تعداد اوسطاً 78ہزار ہے جبکہ 2018 کے عالمی ادارہ صحت کے 2018 کے اعدادوشمار کے مطابق ایڈز سے اوسطاً ماہانہ 64ہزار اور ملیریا سے 36ہزار مرتے ہیں۔

مرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی کے طریقہ کار ہی دنیا بھر میں بدل گئے اور اکثر ممالک میں لوگوں کی اکثریت کو آخری رسومات میں ادائیگی سے روک دیا گیا ہے۔

اسرائیل میں مسلمانوں کی لاشوں کو کورونا کے سبب غسل دینے سے روک دیا گیا ہے اور کفن کے بجائے انہیں پلاسٹک باڈی بیگ میں ڈال کر دفن کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ یہودیوں کی روایت کے تحت لوگ مرنے والوں کے اہلخانہ سے تعزیت کے لیے لگاتار 7دن تک ان کے گھر جاتے ہیں لیکن کورونا کے سبب یہ روایت بھی بدل چکی ہے۔

اٹلی میں کیتھولکس کو پادریوں کے دعائیہ کلمات اور آخری رسومات کی ادائیگی کے بغیر ہی دفن کیا جا رہا ہے جبکہ نیویارک میں ایک موقع پر گورکن اوورٹائم میں کام کر رہے تھے۔

عراق میں سابق ملیشیا نے اپنی بندوقیں رکھ کر قبرستانوں میں کورونا سے مرنے والوں کے لیے قبریں کھود رہے ہیں اور اب سیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اور یہودیوں کی تدفین کے طریقہ کار سیکھ رہے ہیں۔