افغانستان: 'شہریوں نے 2018 میں حکومتی سرمائے سے زیادہ رشوت دی'

01 جولائ, 2020

ای میل

—فوٹو:بشکریہ طلوع نیوز
—فوٹو:بشکریہ طلوع نیوز

افغانستان میں بدعنوانی پر تحقیقات کرنے والے ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شہریوں نے 2018 میں 1.65 ارب ڈالر رشوت دی جو حکومت کے ایک سال کے سرمائے سے زیادہ ہے۔

نیوزایجنسی طلوع کی رپورٹ کے مطابق جوائنٹ اینٹی کرپشن مانیٹرنگ اور ایوالوششن کمیٹی (ایم ای سی) نے اپنے اعداد وشمارمیں کہا ہے کہ افغانستان کے شہریوں نے 2018 میں 1.65 ارب رشور ادا کی جو 2016 کے مقابلے میں 2.88 ارب ڈالر کم تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی جانب سے دی گئی یہ رشوت حکومت کے اس سرمایے سے زیادہ تھی جو وہ سال بھر جمع نہیں کرپائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان: ہلمند کی مویشی مارکیٹ میں راکٹ حملہ، 23 افراد ہلاک

مزید کہا گیا کہ شہریوں کا ماننا ہے کہ ملک میں کرپشن بری طرح سرائیت کرگئی ہے اور انہیں سرکاری عہدیداروں پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق 2018 میں ٹیکس دہندگان سے جمع ہونے والا حکومتی سرمایہ 86.5 ارب افغانی تھا جو 1.12 ارب ڈالر بنتا ہے۔

افغان حکومت نے 2019 میں ٹیکس سے 88 کروڑ 90 لاکھ ڈالر جمع کیا اور دونوں سال جمع ہونے والی رقم ایک سال کی رشوت سے بھی کم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018 میں ملک کا مجموعی سرمایہ 2.45 ارب ڈالر تھا۔

ایم ای سی کے سربراہ موائند روحانی کا کہنا تھا کہ انٹیگریٹی واچ افغانستان کی رپورٹ کے مطابق 2018 میں ملک بھر میں شہریوں نے 1.65 ارب ڈالر رشوت کے عوض ادا کیا۔

ایم ای سی نے 8 بنیادی شعبوں میں اصلاحات کو ازحد ضروری قرار دے دیا ہے، جس میں وزارت خزانہ، کسٹم اور ریونیو کا محکمہ شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پرسرکاری عہدیداروں، اراکین اسمبلی اور وار لارڈز کی دونوں محکموں میں مداخلت ہے اور وہ دونوں محکموں میں کرپشن کا باعث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ ایک ارب ڈالر کسٹم کے محکمہ میں ضائع کردیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:طالبان کے حملوں میں ایک ہفتے میں 400 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے، افغان حکومت

انٹیگرٹی واچ ڈاگ افغانستان کے محقق ناصر تیموری کا کہنا تھا کہ 'شہریوں سے کم از کم 2 ارب ڈالر رشوت لی گئی ہے اور اس کرپشن میں زمینوں پر قبضے شامل نہیں ہے'۔

چیمبر آف کامرس اینڈ انوسٹمنٹ کے رکن کا کہنا تھا کہ کسٹم میں سالانہ رشورت اورکرپشن کے نتیجے میں سالانہ بڑی رقم ضائع کی جاتی ہے۔

ننگرہار چیمبرآف کامرس اینڈ انوسٹمنٹ کے نائب سربراہ زلمے اعظمی کا کہنا تھا کہ 'انتظامیہ کی جانب سے ایک تعیناتی 5 لاکھ ڈالر ادائیگی کے بعد کی جاتی ہے یا ان کی تعیناتی مافیا کرتی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس ظاہر ہے کہ وہ اپنے لیے کام کرتا ہے اور قومی سرمائے میں غبن کرتا ہے'۔