افغانستان: ہلمند کی مویشی مارکیٹ میں راکٹ حملہ، 23 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ جون 29 2020

ای میل

حملہ مویشی مارکیٹ میں کیا گیا—فوٹو:طلوع نیوز
حملہ مویشی مارکیٹ میں کیا گیا—فوٹو:طلوع نیوز

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کی مویشی مارکیٹ میں کار بم دھماکے کے بعد راکٹ حملوں کے نتیجے میں کم از کم 23 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

افغان نیوز ایجنسی طلوع کی رپورٹ کے مطابق صوبائی گورنر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 23 شہریوں کی ہلاکت کے علاوہ دیگر 15 افراد زخمی بھی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ واقعہ زول بازار کے علاقے میں پیش آیا جہاں دہشت گردوں نے کار بم دھماکے کے بعد راکٹ فائر کیے۔

مزید پڑھیں:طالبان کے حملوں میں ایک ہفتے میں 400 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے، افغان حکومت

صوبائی گورنر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق کار بم دھماکا شہریوں کے گھروں کے قریب ہوا جس میں دو حملہ آور بھی مارے گئے۔

کار حملے میں متعدد شہری زخمی ہوئے اور کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

بیان میں افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کی رپورٹس کو بھی مسترد کردیا گیا اور کہا کہ حملے میں طالبان ملوث ہیں۔

ہلمند کے گورنر محمد یاسین نے واقعے کی تحقیقات کے لیے سیکیورٹی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق حملہ ہلمند میں لگنے والی ہفتہ وار مویشی مارکیٹ میں ہوا جہاں سیکڑوں شہری موجود تھے، دوسری جانب طالبان اور حکومت، دونوں فریقین اس حملے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر الزام عائد کررہے ہیں۔

ہلمند کے گورنر کے ترجمان نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں نے مویشی مارکیٹ کے قریب کئی راکٹ داغے جس کے باعث بچوں سمیت 23 شہری ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کا کہنا تھا کہ افغان فوج نے شہریوں کے گھروں اور مویشی مارکیٹ پر کئی مارٹر بم فائر کیے اور کئی شہری جاں بحق ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: گردیز میں دھماکے سے 5 افراد ہلاک، طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی

طالبان کے زیر اثر سمجھے جانے والے صوبے ہلمند متعدد رہائشیوں کا کہنا تھا کہ شیلنگ اس وقت ہوئی جب طالبان جنگجوؤں اور حکومتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان رہائشی علاقے میں جھڑپ کا خدشہ تھا۔

اس سے قبل گزشتہ روز ہلمند کے علاقے واشر میں سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرانے کے نتیجے میں کار حادثہ پیش آیاتھا، جس میں کم ازکم 6 شہری جان سے گئے تھے۔

افغان طالبان کی جانب سے امریکا کے ساتھ امن معاہدے کے بعد حکومتی سیکیورٹی فورسزکے خلاف حملوں میں تیزی آئی ہے اور کئی حملے کیے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے اپریل کے آخر میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ 2020 کے پہلے تین ماہ میں 500 سے زائد شہری ہلاک اور 760 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

افغانستان کی وزارت داخلہ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایک ہفتے کے دوران طالبان کے حملوں میں 400 سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ 'گزشتہ ایک ہفتے کے دوران طالبان کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف 222 حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں 422 اہلکار ہلاک ہوئے'۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے طالبان مذہبی اسکالرز کو بھی نشانہ بنارہے ہیں۔

طارق آریان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کابل کی مساجد پر حملوں میں دونوں امام قتل کردیئے گئے اور یہ کام طالبان کا تھا، 'مذہبی اسکالرز کو نشانہ بنانا طالبان کا ہدف ہے خاص کر گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نشانہ بنایا گیا'۔

مزید پڑھیں:کابل: مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکا، امام سمیت 4 افراد جاں بحق

طالبان کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ 'ان کی چھتری تلے دیگر دہشت گرد نیٹ ورک کام کر رہے ہیں'۔

حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی تھی تاہم ایک ہفتہ قبل گرین زون میں قائم مسجد میں داعش کے حملے میں مشہور عالم کو قتل کیا گیا تھا۔

طالبان نے مساجد پر ہونے والے دونوں حملوں کی مذمت کی تھی۔

افغان قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا تھا کہ 'طالبان نے کارروائیاں کم نہیں کی ہیں بلکہ ملک بھر میں ان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے'۔