بھارت کے ششانک منوہر آئی سی سی کی چیئرمین شپ سے الگ ہوگئے

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2020

ای میل

ششانک منوہر نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ عہدے سے الگ ہونے کے لیے تیار ہیں — فائل فوٹو / اے ایف پی
ششانک منوہر نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ عہدے سے الگ ہونے کے لیے تیار ہیں — فائل فوٹو / اے ایف پی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بھارتی چیئرمین ششانک منوہر چار سال بعد عہدے سے الگ ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق 62 سالہ ششانک منوہر نے عہدے پر رہتے ہوئے آئی سی سی کی تنظیم نو کی کوشش کی اور کرکٹ کے لیے تین امیر ترین ممالک (بگ تھری) آسٹریلیا، بھارت اور انگلینڈ کی بالادستی کا خاتمہ کیا۔

وہ 2016 میں آئی سی سی کے پہلے آزاد چیئرمین بنے تھے اور دو سال بعد صدارت کی دوسری مدت کے لیے بلامقابلہ منتخب ہوئے۔

تاہم انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ مزید دو سال توسیع نہیں چاہتے اور عہدے سے الگ ہونے کے لیے تیار ہیں۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو منو سواہنے نے کہا کہ 'میں آئی سی سی بورڈ، عملے اور پورے کرکٹ خاندان کی طرف سے ششانک منوہر کی قیادت اور کھیل کی بہتری کے لیے انہوں نے جو کیا اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔'

مزید پڑھیں: آئی سی سی کی چیئرمین شپ کیلئے ڈائریکٹرز نے رابطہ کیا تھا، احسان مانی کی تصدیق

کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ نئے چیئرمین کے انتخاب تک نائب چیئرمین عمران خواجہ چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھا لیں گے۔

آئی سی سی کی جانب سے آئندہ ہفتے الیکشن کے فریم ورک کی منظوری کا امکان ہے اور اس طرح کی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ بھارت کے سابق کپتان سوروو گنگولی کو عہدے کے لیے منتخب کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

جنوبی افریقہ کرکٹ کے ڈائریکٹر گریم اسمتھ بھی سابق ساتھی کھلاڑی کی حمایت کر چکے ہیں، جو اس وقت بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سربراہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ششانک منوہر 2018 تک آئی سی سی کے چیئرمین برقرار

ششانک منوہر بھی ماضی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کی سربراہی کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے دوران چیئرمین احسان مانی نے تصدیق کی تھی کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی چیئرمین شپ کے لیے آئی سی سی کے ڈائریکٹرز نے ان سے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تمام تر توانائیاں پاکستان کرکٹ کے لیے ہیں۔