حکومت کا نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت ہوٹل کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ

ای میل

نیویارک میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل — فائل فوٹو / ڈان
نیویارک میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل — فائل فوٹو / ڈان

کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) نے نیویارک میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری نہ کرنے اور اسے مشترکہ وینچر کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیٹی کا اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہوا جس میں نیویارک شہر کے قصبے مین ہٹن میں واقع پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے حوالے سے ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

خزانہ ڈویژن سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی نے اکاؤنٹنگ فرم ڈیلوئٹ کی جولائی 2019 کی رپورٹ کی روشنی میں ٹرانزیکشن کے عمل کے آغاز کے لیے نجکاری کمیشن کو مالی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

اکاؤنٹنگ فرم نے سفارش کی تھی کہ روزویلٹ ہوٹل کی جائیداد کا بہترین استعمال یہ ہوسکتا ہے کہ اسے مشترکہ وینچر کے ذریعے مختلف طریقے سے استعمال کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا نیویارک میں پی آئی اے کے ہوٹل کی فروخت پر بات چیت کا فیصلہ

کمیٹی کا اجلاس حفیظ شیخ کی زیر صدارت ہوا — فوٹو: خزانہ ڈویژن
کمیٹی کا اجلاس حفیظ شیخ کی زیر صدارت ہوا — فوٹو: خزانہ ڈویژن

اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیلوئٹ آئندہ چار ہفتوں میں ہوٹل ٹرانزیکشن سے متعلق اپنی رپورٹ اپ ڈیٹ کرے گی جسے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایوی ایشن ڈویژن کی درخواست پر کابینہ کمیٹی نے روزویلٹ ہوٹل کی جگہ کو لیز پر دینے اور مشترکہ وینچر کے لیے بزنس پلان اور ٹرمز آف ریفرنس تیار کرنے کے لیے گزشتہ سال تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کو ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے گزشتہ سال نومبر میں ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دی تھی جس کے چیئرمین وزیر نجکاری محمد میاں سومرو تھے، جبکہ اراکین میں وزیر اعظم کے معاون خصوسی زلفی بخاری اور دیگر حکام شامل تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز روزویلٹ ہوٹل کی فروخت پر غور کے لیے سی سی او پی اجلاس سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس اقدام کو 'غلط وقت' پر شروع کرنے کی مخالفت کی تھی۔

سینیٹ میں پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا یہ روزویلٹ کی فروخت کا صحیح وقت ہے جب عالمی وبا کی وجہ سے جائیدادوں کی قیمت میں انتہائی کمی آئی ہے؟ جس کے نتیجے میں پاکستان کا نقصان ہوگا اور ہمیں صحیح قیمت نہیں ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اربوں کی اراضی ہے اور جب میں امریکا میں سفیر تھی تو یہ منافع بخش تھا۔