دہلی فسادات: 'جے شری رام کے نعرے نہ لگانے پر 9مسلمانوں کو قتل کیا گیا'

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2020

ای میل

دہلی میں مسلم اکثریتی علاقے میں فسادات کے بعد جلی ہوئی املاک کا ایک منظر— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
دہلی میں مسلم اکثریتی علاقے میں فسادات کے بعد جلی ہوئی املاک کا ایک منظر— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

رواں سال بھارتی دارالحکومت دہلی میں ہوئے مسلم کش فسادات کی چارج شیٹ پولیس نے عدالت میں جمع کرادی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں نے 'جے شری رام' کے نعرے نہ لگانے پر مسلمانوں پر حملہ کر کے 9 افراد کو قتل کردیا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق قتل کیے گئے 9افراد میں سے ایک حمزہ کے قتل کے سلسلے میں گوکال پوری پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کی چارچ شیٹ پر پولیس نے کہا کہ دہلی میں فسادات کے دوسرے دن 25فروری کو 'کٹر ہندو ایکتا' کے نام سے انتہا پسند ہندوؤں نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا تھا۔

مزید پڑھیں: دہلی فسادات: 'عالمی برادری مداخلت نہیں کرتی تو ایسے واقعات دنیا کیلئے تباہ کن ہوں گے'

دہلی پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی چارج شیٹ میں پولیس نے انکشاف کیا کہ واٹس ایپ پر ایک دوسرے سے رابطے میں موجود ان انتہا پسند ہندوؤں سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا کہا گیا اور ایک دوسرے کو لوگ، ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے کا کہا گیا۔

خیال رہے کہ دہلی پولیس نے دہلی میں پرتشدد واقعات کے سلسلے میں قتل کیے گئے 3 افراد امین، بھورے علی اور حمزہ کے معاملے میں 3 چارج شیٹ داخل کی ہیں۔

ان چارج شیٹ میں فسادات بھڑکانے اور قتل کے لیے 9 افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں لوکیش سولنکی، پنکج شرما، انکت چوہدری، پرنس، جیتن شرما، ہمانشو ٹھاکر، وکاس پانچال، ریشبھ چوہدری اور سیت چوہدری شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی فسادات: عام آدمی پارٹی کے مسلمان رکن کےخلاف انٹیلی جنس افسر کے قتل کا الزام

چارج شیٹ میں کہا گیا کہ واٹس ایپ گروپ بنانے والا ملزم اب بھی مفرور ہے اور پولیس نے 26 اور 27 فروری کی رات واٹس ایپ گروپ پر مبینہ طور پر لوکیش کے کچھ پیغامات کا حوالہ دیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ لوکیش نے مبینہ طور پر پہلا پیغام 11 بجکر 39منٹ پر بھیجا جس میں کہا گیا کہ 'بھائی میں گنگا وہاڑ سے لوکیش سولنگی، اگر کوئی وقت ہو یا لوگوں کی کمی ہو تو مجھے بتاؤ، میں پوری گنگا وہاڑ ٹیم کے ساتھ آ جاؤں گا ، ہمارے پاس سب کچھ ہے، گولیاں بندوق، سب کچھ'۔

اس کے بعد 11 بجکر 44منٹ پر سولنکی نے گروپ میں پھر پیغام بھیجا کہ 'رات 9بجے کے لگ بھگ وہار کے پاس تمہارے بھائی نے دو مسلمانوں کو مار دیا اور انہیں اپنی ٹیم کی مدد سے نالے میں پھینک دیا، ونے تمہیں پتہ ہے ناں تمہارا بھائی ہمیشہ اس طرح کے کام میں آگے رہتا ہے'۔

مزید پڑھیں: بھارت: مذہبی فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی

چارج شیٹ کے مطابق یہ گروپ 25دسمبر کو رات 12 بجکر 49منٹ پر بنایا گیا، شروعات میں گروپ میں 125 ممبر تھے لیکن 8مارچ 2020 کو 47لوگوں نے گروپ چھوڑ دیا۔

پولیس نے اس واٹس ایپ شیٹ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم اور ان کے معاونین مشتعل تھے کیونکہ ہندو کو نشانہ اور مسلمانوں کے ذریعے مارے جانے کی خبریں ہر طرف عام تھیں، انہوں نے ہندوؤں پر حملہ کرنے پر مسلمانوں کو سبق سکھانے کی سازش کی اور لاٹھی، ڈنڈے، چھڑی، تلوار اور بندوق وغیرہ کے ساتھ گلیوں میں گھومنے لگے، ان کا واضح مقصد مسلمانوں کے گھر، جائیداد، مساجد جلانے اور تباہ کرنے کا تھا، ان کا مقصد لوگوں کو پکڑ کر ان کا نام، پتہ پوچھ کر، شناخت دیکھ کر ان کے مذہب کا پتہ لگانا تھا۔

چارج شیت کے مطابق انہوں نے کئی مرتبہ لوگوں سے جے شری رام کے نعرے بھی لگوائے، جن لوگوں نے نعرے نہیں لگائے یا جو جانچ میں مسلمان پائے گئے، ان کا قتل کر کے لاش کو باگیرتھی وہاڑ نالے میں پھینک دیا گیا۔

پولیس نے کہا کہ مذکورہ ملزمان نے دنگائیوں کے ساتھ مل کر 9مسلمانوں کا قتل کیا اور کئی کو زخمی بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر بولی وڈ شخصیات کا اظہار افسوس

عدالت کی جانب سے ابھی اس چارج شیٹ کا ادراک باقی ہے اور ملزمان اپنے وکیل کے ذریعے الزامات کا جواب دیں گے، عدالت کی جانب سے چارج شیٹ کے ادراک کے بعد ملزمان کے وکلا عدالت میں پیش ہوں گے۔

واضح رہے کہ دہلی پولیس اب تک فسادات کے سلسلے میں کم از کم 111چارج شیٹ فائل کر چکی ہے جس میں 650افراد کے نام شامل تھے۔

یاد رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف دسمبر 2019 سے مظاہرے کیے جا رہے تھے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورہ بھارت کے دوران 24 فروری کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اچانک یہ مظاہرے مذہبی فسادات کی شکل اختیار کر گئے تھے۔

مذہبی فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ہزاروں افراد نے نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کیا جہاں ان پر اچانک انتہاپسند اور شرپسند افراد نے حملہ کردیا جس کی وجہ سے مظاہرے مذہبی فسادات میں تبدیل ہوگئے۔

مزید پڑھیں: 'مذہبی تہوار منانے بھارت گئے، زبردستی پاکستان مخالف بیان دلوایا گیا'

ان فسادات کے دوران کم از کم 53 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جبکہ دہلی میں مسلمانوں کی آبادی کو بڑی تعداد میں نشانہ گیا تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ 'اگر پولیس اپنا فرض ادا کرتی تو مشتعل افراد بچ نہیں سکتے تھے'۔