چین نے کورونا وائرس پر تنقید کرنے والے پروفیسر کو گرفتار کرلیا

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2020

ای میل

سو ژانگرون  کو گزشتہ روز بیجنگ کے  مضافات میں واقع ان کے گھر سے 20 سے زیادہ افراد لے گئے — فائل فوٹو: اے پی
سو ژانگرون کو گزشتہ روز بیجنگ کے مضافات میں واقع ان کے گھر سے 20 سے زیادہ افراد لے گئے — فائل فوٹو: اے پی

چینی حکام نے ایک مضمون میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے متعلق چینی صدر شی جن پنگ پر تنقید اور ان پر 'ظالم' حکمران ہونے کا الزام لگانے والے قانون کے پروفیسر کو حراست میں لے لیا۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے ' اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق سو ژانگرون چین کے سنسرڈ نظام تعلیم میں ٖحکومت کے ایک غیرمعمولی ناقد ہیں۔

ان کے ایک دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سو ژانگرون کو گزشتہ روز بیجنگ کے مضافات میں واقع ان کے گھر سے 20 سے زیادہ افراد اپنے ہمراہ لے گئے۔

سو ژانگرون نے رواں برس فروری میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں انہوں نے شی جن پنگ کی جانب سے فروغ دی گئی دھوکا دہی اور سنسرشپ کی ثقافت کو کوورنا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

مزید پڑھیں: چین سے کورونا وائرس کے نقصانات کا ہرجانہ طلب کرسکتے ہیں، ٹرمپ

بیرون ملک ویب سائٹس پر شائع ہونے والے مضمون میں انہوں نے کہا تھا کہ چین کا 'قائدانہ نظام خود حکمرانی کے ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے'۔

انہوں نے مزید لکھا تھا کہ وائرس کے مرکز صوبے ہوبے میں افراتفری نے چین کے نظام میں موجود مسائل کی عکاسی کی۔   سو ژانگرون نے لکھا کہ چین صرف ایک شخص کے زیر قیادت ہے لیکن یہ شخص اندھیرے میں ہے جو ظالمانہ حکمرانی کرتا ہے اور حکمرانی کا کوئی طریقہ نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگرچہ وہ طاقت کے ساتھ کھیلنے میں مہارت رکھتا ہے جس کی وجہ سے پورے ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔   اپنے مضمون میں سو ژانگرون نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ چین میں جاری معاشی سست روی 'سیاسی و علمی برہمی اور معاشرتی کشمکش' کے ساتھ ساتھ 'قومی اعتماد کے خاتمے' کا سبب بنے گی۔

سنگ ہوا یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر نے، جو ملک کے اعلی اداروں میں سے ایک ہے، اس سے قبل بھی 2018 میں آن لائن گردش کرنے والے مضمون میں صدارتی مدت کی حدود کے خاتمے کے خلاف اظہار خیال کیا تھا۔   ان کے ایک دوست نے بتایا تھا کہ پولیس ہونے کا دعوی کرنے والے ایک شخص نے سو ژانگرون کی بیوی جو یونیورسٹی کی رہائش گاہ پر علیحدہ رہائش پذیر تھی کو یہ کہنے کے لیے بلایا تھا کہ ان کے شوہر کو جنوب مغربی شہر چینگدو میں مبینہ طور پر جسم فروشی پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

چینی پروفیسر کے دوست نے بتایا کہ سو ژانگرون نے گزشتہ موسم سرما میں متعدد لبرل چینی اسکالرز کے ساتھ چینگدو کا دورہ کیا تھا اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتاری کا تعلق اس سفر سے تھا یا نہیں، لیکن ان کے دوست نے اس الزام کو 'مضحکہ خیز اور بے شرمی' قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: چین حساس لیبارٹریز کی انسپیکشن کی اجازت دے، امریکا کا مطالبہ

ان کے مطابق سو ژانگرون کو گزشتہ ہفتے گھر میں نظربند کیا گیا تھا۔

سنگ ہوا کی جانب سے 2019 میں مبینہ طور پر انہیں پڑھانے اور تحقیق کرنے سے روکنے کے بعد دنیا بھر سے سنگ ہوا کے سیکڑوں طلبہ اور ماہرین تعلیم نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے تھے جس میں انہیں دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سنگ ہوا اور بیجنگ میں عوامی تحفظ کے حکام نے رابطہ کرنے پر اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے چین میں آزادی اظہار پر ہمیشہ سختی سے کنٹرول کیا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ برس چین کی ایک عدالت نے سائبر مخالف 'ہوانگ کی' کو 12 سال قید کی سزا سنائی تھی، جن کی ویب سائٹ پر انسانی حقوق سمیت حساس موضوعات پر ریاست کے راز افشا کرنے کا الزام تھا۔  


یہ خبر 7جولائی، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی