نیپرا کا کراچی میں زیادہ لوڈشیڈنگ کی شکایات پر عوامی سماعت کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2020

ای میل

کراچی میں زائد لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے—فائل فوٹو: ڈان
کراچی میں زائد لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے—فائل فوٹو: ڈان

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے زیادہ لوڈشیڈنگ سے متعلق شکایات پر نوٹس لیتے ہوئے عوامی سماعت کا فیصلہ کرلیا۔

اس حوالے سے جاری ایک بیان کے مطابق نیپرا نے کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی شکایات پر سنجیدگی سے نوٹس لیا۔

ساتھ ہی یہ بتایا گیا کہ اس سلسلے میں اتھارٹی کی جانب سے جمعہ (10 جولائی 2020) کو بذریعہ ویڈیو لنک ایک عوامی سماعت منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

اس عوامی سماعت میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور شہری شریک ہوسکتے ہیں اور کراچی میں لوڈ شیڈنگ سے متعلق اپنی شکایات اور تاثرات بیان کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیپرا کا غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ، زائد بلنگ پر 'کے الیکٹرک' کو نوٹس

علاوہ ازیں اخبارات میں شائع اشتہارات میں نیپرا کی جانب سے کہا گیا کہ جو لوگ اس سماعت میں شرکت کرنے کے خواہش مند ہیں وہ رجسٹرار آفس کو ([email protected]) پر ای میل کرسکتے ہیں تاکہ انہیں ویڈیو لنک آئی اور پاس ورڈ فراہم کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی نیپرا نے کراچی میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور زائد بلنگ پر کے الیکٹرک کو نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کے-الیکٹرک کو فوری طور پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ کئی روز سے شدید گرم اور مرطوب موسم میں کراچی کے مکینوں اور تاجروں کو طویل دورانیے کی بجلی کی بندش اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے علاوہ کے-الیکٹرک کی جانب سے زائد بلنگ کے مسائل کا بھی سامنا ہے جبکہ تونائی کی تقسیم کار کمپنی نے بجلی کی بندش کو طلب و رسد میں فرق اور فرنس آئل کی قلت سے منسلک کیا تھا۔

کراچی میں بجلی کی اس صورتحال پر شہریوں کا کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک نے یا تو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بحال کردی ہے یا ایس ایم ایس بھیجا جاتا ہے کہ آپ کے علاقے میں بجلی کے تعطل کا سامنا ہوسکتا ہے اور اس کے اوقات کار میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

عوام کا کہنا تھا کہ جب بجلی کے غیر اعلانیہ تعطل کی شکایت کی جاتی ہے تو متوقع وقت بتانے کے ساتھ جواب ملتا ہے کہ ’ٹیم بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے کام کررہی ہیں‘۔

شہر میں جاری بجلی کی طویل بندش اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں توانائی کمپنی نے بجلی کی طلب میں اضافے، فرنس آئل کی کمی اور ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کی فراہمی میں 50 ایم ایم سی ایف ڈی کمی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر بجلی کی فراہمی 3 ہزار 150 میگا واٹ سے کم ہو کر 2800 میگا واٹ رہ گئی ہے۔

تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے-الیکٹرک کے دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے کہا تھا کہ ’کے-الیکٹرک جھوٹا دعویٰ کررہی ہے کہ ایس ایس جی سی نے گیس کی فراہمی کم کردی ہے‘۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ اس وقت گیس کمپنی کے الیکٹرک کو 240 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کررہی ہے جو معمول کے 190 ایم ایم سی ایف ڈی سے بھی 50 ایم ایم سی ایف ڈی زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: شدید گرمی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے پریشان شہری کے الیکٹرک کے خلاف سراپا احتجاج

دوسری جانب وزارت توانائی نے کے-الیکٹرک (کے ای) کی جانب سے کراچی میں بجلی کی طویل بندش کو مارکیٹ میں فرنس آئل کی کمی کا ذمہ دار قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیاں اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

وزارت توانائی کے ترجمان نے ایک جاری بیان میں کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کے الیکٹرک نے اپنے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے میں سرمایہ کاری نہیں کی جس کی وجہ سے طلب عروج پر پہنچنے کے وقت اسے مشکلات کا سامنا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'وفاقی حکومت کراچی کے رہائشیوں کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے'۔