لیبیا میں ایئر ڈیفنس نظام پر حملہ، ترکی کا 'بدلہ' لینے کا اعلان

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2020

ای میل

ترکی کی مدد سے جی این اے نے مئی میں الوطیہ پر دوبارہ قبضہ کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
ترکی کی مدد سے جی این اے نے مئی میں الوطیہ پر دوبارہ قبضہ کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

ترکی نے لیبیا میں ایئر ڈیفنس نظام پر ہونے والے حملے پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوں گے اور اس کا بدلہ لیا جائے گا۔

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ 'میں صرف جو بات کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ جس نے بھی یہ کیا ہے اس نے بڑی غلطی کی ہے'، انہوں نے مزید کہا کہ 'اس کا بدلہ لیا جائے گا'۔

مزید پڑھیں:لیبیا میں ’نامعلوم جنگی طیاروں‘ نے ترکی کے ایئر ڈیفنس کو تباہ کردیا

ایک اور عہدیدار نے کا کہنا تھا کہ ایئربیس کو نشانہ بنانے والے طیارے ڈیسالٹ میراج ہیں جو متحدہ عرب امارات کے پاس ہیں۔

خیال رہے متحدہ عرب امارات، اس اتحاد کا حصہ ہے جو لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت (جی این اے) کے خلاف لڑنے والے کمانڈر خلیفہ حفتر کا ساتھ دے رہا ہے۔

اس اتحاد میں مصر اور روس شامل ہیں جو خلیفہ حفتر کی عسکری مدد کررہے ہیں۔

ترک عہدیدار نے ایئربیس پر ہونے والے حملے سے متعلق کہا کہ 'کوئی جانی نقصان نہیں ہوا'۔

لیبیا کے الوطیہ ایئربیس پر حملے میں تباہ ہونے والے ترک ایئر ڈیفنس نظام کے حوالے سے آزاد ذرائع کا کہنا تھا کہ ترکی نے گزشتہ ہفتے خطے میں ایم آئی ایم-23 میزائل نظام میں شامل کیا تھا۔

اس سے قبل بھی رپورٹس تھیں کہ ترکی الوطیہ میں مستقل ایئربیس بنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے جبکہ ایئربیس پر حملہ ترک وزیر دفاع ہلوسی آکر کے دورہ لیبیا کے بعد کیا گیا۔

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق ترک فورسز کے خلاف ہونے والے اس حملے میں اور بھی اشارے ملے ہیں کہ اس میں متحدہ عرب امارات ملوث ہوسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے سیاسیات کے پروفیسر اور شاہی خاندان کے جزوقتی مشیر عبدالخالق عبداللہ نے ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'متحدہ عرب امارات نے ترکوں کو سبق سکھادیا ہے'۔

بعدازاں انہوں نے ٹوئٹ کو ہٹادیا۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی- طرابلس معاہدے: عرب لیگ کا لیبیا میں 'بیرونی مداخلت' روکنے پر زور

یاد رہے کہ 5 جولائی کو لیبیا کے الوطیہ ایئربیس پر نامعلوم جنگی طیاروں نے ترکی کے ایئرٖ ڈیفنس نظام کو تباہ کردیا تھا۔

جی این اے فورسز نے ترکی کی مدد سے مئی میں الوطیہ پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا تھا۔

لیبیا کے عسکری ذرائع نے بتایا تھا کہ الوطیہ فوجی اڈے پر جنگی طیاروں کی بمباری سے ترکی کا ایئر ڈیفنس نظام مکمل طورپر تباہ ہوگیا۔

دوسری جانب جی این اے کے مخالف گروپ لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے کہا تھا کہ ایئربیس پر حملہ نامعلوم جنگی طیاروں نے کیا۔

ایئربیس کے قریب واقع ٹاؤن کے رہائشیوں نے بتایا تھا کہ ایئربیس کی جانب سے دھماکوں کی آواز آرہی تھی۔

حملے کے بعد برطانیہ نے ردعمل میں کہا تھا کہ لیبیا میں غیر ملکی مداخلت کے باعث سیاسی تنازع کے حل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں اور متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

برطانوی سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ لیبیا میں تیل کی پیداوار میں جبری کمی، تیل کی بندرگاہوں کی مسلسل بندش اور غیر ملکی مداخلت کی اطلاعات باعث تشویش ہیں۔

مزید پڑھیں: ترکی اور روس کا لیبیا میں فریقین سے جنگ بندی کا مطالبہ

خیال رہے کہ لیبیا میں ایک طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے 2011 میں اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک میں انتشار کی فضا میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

لیبیا میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کی حکومت کو 2011 میں شروع ہونے والی مہم 'عرب بہار' کے دوران ختم کر دیا گیا تھا۔

معمر قذافی کے خلاف مغربی ممالک نے کارروائیوں میں حصہ لیا تھا تاہم ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد لیبیا میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور خانہ جنگی شروع ہوئی جہاں ایک طرف عسکریت پسند مضبوط ہوئے تو دوسری طرف جنرل خلیفہ حفتر نے اپنی ملیشیا بنائی اور ایک حصے پر اپنی حکومت قائم کر لی۔

جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا نے رواں برس اپریل میں طرابلس کا محاصرہ کر لیا تھا اور حکومت کے نظام کو درہم برہم کردیا تھا اور ان کو خطے کے اہم ممالک سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کا تعاون حاصل تھا۔