سربیا: کورونا وائرس کے باعث کرفیو کے نفاذ پر احتجاج، پارلیمنٹ پر چڑھائی

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2020

ای میل

پولیس نے مظاہرین کو 15 منٹ میں پارلیمنٹ کی عمارت سے بے دخل کردیا—فوٹو:بشکریہ بی بی سی
پولیس نے مظاہرین کو 15 منٹ میں پارلیمنٹ کی عمارت سے بے دخل کردیا—فوٹو:بشکریہ بی بی سی

سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر کرفیو کے نفاذ پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا اور پارلیمنٹ پر چڑھائی کردی۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق بلغراد میں قومی اسمبلی کے باہر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مزید پڑھیں:عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار جوکووچ کورونا وائرس کا شکار

رپورٹ کے مطابق شہریوں نے ایک روز قبل پرامن احتجاج شروع کیا تھا جس میں طلبہ اور خواتین بھی شریک تھیں تاہم جب حکومت کی جانب سے دوبارہ ہفتہ وار کرفیو کا اعلان کیا گیا تو عوام کے غصے میں شدت آگئی۔

مظاہرین اسمبلی میں داخل ہوگئے جبکہ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں روکنے کی کوشش کی جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

رپورٹ کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے قوم پرستوں پر اسمبلی کی عمارت کو نقصان پہنچانے اور کشیدگی کا الزام عائد کیا گیا۔

سربیا کے میڈیا کا کہنا تھا کہ مظاہرین میں ایک رکن پارلیمنٹ بھی شامل تھے جو ویکسین مخالف اور اینٹی فائیوجی سازش کے نظریات کو پروان چڑھانے والوں میں شامل ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج فوری نوعیت کا تھا جو دوبارہ کرفیو کے نفاذ کے خلاف ہے جبکہ کئی مظاہرین ماسک پہنے ہوئے اور سماجی فاصلے سمیت دیگر تدابیر پر عمل پیرا نظر آئے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ اس وقت ہوئی جب مظاہرین اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوگئے اور نعرے لگائے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا کا انکار کرنے والے برازیلی صدر کا ٹیسٹ مثبت آگیا

پولیس نے 15 منٹ کے اندر اسمبلی کی عمارت کو خالی کروایا لیکن عمارت کے باہر جھڑپیں جاری رہیں، پتھراؤ کیا گیا جبکہ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی۔

سربیا کے وزیراعظم نے پارلیمنٹ پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ سربیا اور اس کا نظام صحت کو وبا میں بدترین حالات کا سامنا ہے لیکن پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ سربیا میں 7 جولائی کو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات ہوئی تھیں۔

سربیا کے صدر ووسک نے ٹی وی خطاب میں کہا تھا کہ 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 120 افراد کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا جبکہ پہلے ہی 4 ہزار افراد ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلغراد میں تقریباً ہنگامی صورت حال پیدا ہوئی ہے، جس کے بعد انہوں نے 5 سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی کا اعلان کردیا اور کہا کہ جمعے کی شام 6 بجے سے پیر کی صبح 5 بجے کرفیو نافذ ہوگا۔

سربین صدر کا کہنا تھا کہ کرفیو کا نفاذ صرف دارالحکومت بلغراد تک محدود ہوگا لیکن ملکی سطح پر توسیع کے اشارے بھی دیے۔

سربیا میں کورونا وائرس سے حالات میں ڈرامائی انداز میں تبدیلی آئی ہے اور حکام نے کئی شہروں اور قصبوں میں ہنگامی حالات کا نفاذ کردیا ہے۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس ہوا کے ذریعے پھیل سکتا ہے، طبی ماہرین کا دعویٰ

دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا تھا کہ صدر نے لاک ڈاؤن میں قبل ازوقت نرمی کردی تھی اور مئی میں ہی تماشائیوں کی میدان میں موجودگی میں فٹ بال میچوں کو شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

حکومت نے 21 جون کے انتخابات کے پیش نظر شہریوں کی نقل و حرکت بھی بحال کردی تھی اور ان انتخابات میں صدر ووسک کی جماعت نے ملک بھر میں شان دار کامیابی حاصل کرلی۔

ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت کورونا وائرس کی ہلاکتوں سے متعلق صحیح اعداد وشمار بھی جاری نہیں کررہی ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک میں روزانہ کی بنیاد پر 300 کیسز کا اضافہ ہوتا ہے۔

حکام کے مطابق سربیا میں 16 ہزار 719 کیسز جبکہ 330 متاثرین ہلاک ہوچکے ہیں۔