امریکا میں ایک دن میں کورونا کے ریکارڈ 66 ہزار 500 سے زائد کیسز رپورٹ

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

امریکا میں مجموعی طور پر 32 لاکھ 42 ہزار 73 کیسز رپورٹ ہوئے—فوٹو:اے پی
امریکا میں مجموعی طور پر 32 لاکھ 42 ہزار 73 کیسز رپورٹ ہوئے—فوٹو:اے پی

امریکا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے کیسز کی ریکارڈ تعداد رپورٹ ہوئی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد وشمار میں دکھایا گیا کہ امریکا میں ایک دن میں مجموعی طور پر 66 ہزار 528 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس: ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ عوام کے سامنے ماسک پہن لیا

جانز ہوپکنز یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ امریکا بھر میں اس وقت کیسز کی مجموعی تعداد 32 لاکھ 42 ہزار 73 ہوچکی ہے۔

امریکا میں 760 مزید ہلاکتوں کے بعد اموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 34 ہزار 729 ہوگئی ہے۔

امریکا میں گزشتہ 5 میں سے 4 دنوں میں 60 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکا، دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جس کے بعد برازیل اور تیسرے نمبر پر بھارت ہے۔

فلوریڈا میں ایک دن میں نیویارک سے بھی زیادہ کیسز رپورٹ

خبرایجنسی رائٹرز نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا کہ فلوریڈا کورنا وائرس کے آغاز سے اب ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہونے والی ریاست بن گئی ہے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق فلوریڈا میں 15 ہزار 299 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا جبکہ مجموعی کیسز 2 لاکھ 69 ہزار 811 ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جاپان کے علاقے اوکیناوا میں درجنوں امریکی میرینز کورونا کا شکار

اس سے قبل 10 اپریل کو نیویارک میں ایک دن میں سب سے زیادہ 12 ہزار 847 کیسز سامنے آئے تھے، کیلی فورنیا میں ایک دن میں 11 ہزار 694 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ نیویارک میں 15 اپریل کو 11 ہزار 571 کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔

فلوریڈا میں مزید 514 ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کی دیگر 40 ریاستوں میں بھی کیسز میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مجموعی طور پر 4 دنوں سے روزانہ 60 ہزار کیسز کے ساتھ امریکا میں کیسز کی بڑی تعداد رپورٹ ہورہی ہے جو سب سے زیادہ ہے۔

ایریزونا، کیلی فورنیا، فلوریڈا اور ٹیکساس میں کیسز میں اضافہ تیزی سے ہورہا ہے۔

صحت کے حکام نے شہریوں سے اپیل کی کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ماسک ضرور پہنیں لیکن ماسک پہننے کا معاملہ بھی امریکا میں سیاست کی نذر ہوگیا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی ہسپتال کے دورے کے دوران پہلی مرتبہ ماسک پہنا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے مضافاتی علاقے میں قائم والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کیا اور وہاں صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے افراد سے ملاقات کی۔

وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'جب آپ کسی ہسپتال میں ہوتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ ماسک پہننا بہت اچھا ہے'۔

امریکی صدر اس وبائی مرض کے دوران ماسک پہننے والوں میں بہت دیر سے شامل ہوئے۔

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس سمیت زیادہ تر ممتاز ری پبلیکنز ماسک پہننے کی تائید کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی فوج کورونا وائرس کو ’ووہان‘ لے کر آئی، چین کا دعویٰ

ریپبلکن گورنرز بھی ریاستوں میں صورت حال سنگین ہونے پر اب ماسک کے استعمال کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز کانفرنسز، کورونا وائرس ٹاسک فورس اپ ڈیٹس، ریلیوں اور دیگر عوامی تقریبات میں ماسک پہننے سے انکار کردیا تھا۔

ان کے قریبی لوگوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ صدر کو خدشہ ہے کہ ماسک انہیں کمزور دکھائے گا اور ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات پر تشویش ہے کہ اس نے معاشی بحالی کی بجائے صحت عامہ کے بحران کی طرف توجہ مرکوز کردی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کو ماسک پہنے پر ان کا مذاق بھی اڑایا اور یہ تاثر دیا کہ جو بائیڈن کمزور دکھائی دیتے ہیں۔

امریکا میں ماسک پہننا ایک اور سیاسی تقسیم کا سبب بن گیا ہے جہاں ریپبلکن ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ماسک پہننے سے کتراتے ہیں۔