امریکا کا معاہدے کے 'اگلے مرحلے' میں داخل ہونے کے ساتھ طالبان پر تشدد میں کمی پر زور

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

زلمے خلیل زاد کے مطابق  حالیہ دنوں میں بہت زیادہ پُرتشدد کارروائیاں ہوئیں —فائل فوٹو: اے پی
زلمے خلیل زاد کے مطابق حالیہ دنوں میں بہت زیادہ پُرتشدد کارروائیاں ہوئیں —فائل فوٹو: اے پی

امریکا نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ اہم معاہدہ 'اگلے مرحلے' میں داخل ہو گیا ہے اس کے ساتھ ہی طالبان پر افغان امن مذاکرات کے آغاز کے لیے تشدد میں کمی پر زور بھی دیا ہے۔   فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق رواں برس فروری میں دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں واشنگٹن نے آئندہ برس کے وسط میں افغانستان سے تمام فوجیوں کے انخلا کے عزم کا اظہار کیا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افغان حکومت سے مذاکرات کا وعدہ کیا تھا۔

معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت امریکا نے کہا تھا کہ 135 روز کے اندر فوجیوں کی تعداد کم ہو کر 8 ہزار 600 ہوجائے گی جبکہ 5 فوجی اڈوں سے فورسز کو مکمل طور پر ہٹادیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: افغانستان: سرکاری کمپاؤنڈ پر کار بم دھماکے، جھڑپ میں 10 افراد ہلاک

امریکی نمائندہ خصوصی برائے امن عمل زلمے خلیل زاد، جنہوں نے واشنگٹن کی جانب سے امن معاہدے پر مذاکرات کیے تھے، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ معاہدے کے 135ویں روز دونوں فریقین ایک ' اہم سنگِ میل' پر پہنچ گئے ہیں۔

اس حوالے سے کیے گئے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کا پہلا مرحلہ مکمل کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔   زلمے خلیل زاد نے خبردار کیا کہ جب معاہدہ اپنے 'اگلے مرحلے' میں داخل ہوگا تو واشنگٹن کا نقطہ نظر کچھ شرائط پر مبنی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم قیدیوں کی رہائی کی تکمیل، تشدد میں کمی اور بین الافغان مذاکرات کے آغاز اور اس میں پیشرفت کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔   خیال رہے کہ کابل اور طالبان کے درمیان مذاکرات معاہدے میں اتفاق کردہ قیدیوں کے تبادلے کے باعث رکاوٹ کا شکار ہے، یہ تبادلہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔

کابل حکومت نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار کے قریب مغوی اہلکاروں کو رہا کرنا تھا۔

افغان حکومت اب تک 4 ہزار سے زائد طالبان قیدیوں کو رہا کرچکی ہے جبکہ طالبان نے 600 سے زائد افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو آزاد کیا ہے۔

تاہم جب سے یہ معاہدہ طے پایا ہے طالبان نے افغانستان کے بیشتر علاقوں میں حملوں میں اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مشرقی افغانستان میں طالبان کے حملے میں 14 افغان فوجی ہلاک   زلمے خلیل زاد نے بھی افغانستان میں تشدد میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے 'بڑی تعداد میں' افغان شہری مرتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس معاہدے کے بعد سے اب تک کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔

انہوں نے گزشتہ روز افغانستان کی انٹیلی ایجنسی کے دیہی دفتر پر طالبان کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر حالیہ دنوں اور ہفتوں میں بہت زیادہ پُرتشدد کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سمنگان صوبے کے دارالحکومت ایبَک میں سرکاری کمپاؤنڈ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔   امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ طالبان کا حملہ بین الافغان مذاکرات میں مستقل طور پر جنگ بندی کے اتفاق تک تشدد میں کمی سے متعلق ان کے عہد کے منافی ہے۔