افغان فٹبال فیڈریشن کے سابق صدر کی گرفتاری کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2020

ای میل

افغان فٹبال فیڈریشن کے سابق سربراہ کریم الدین کریم پر جنسی استحصال سمیت دیگر الزامات ہیں— فوٹو: اے ایف پی
افغان فٹبال فیڈریشن کے سابق سربراہ کریم الدین کریم پر جنسی استحصال سمیت دیگر الزامات ہیں— فوٹو: اے ایف پی

افغانستان کی خواتین فٹبال ٹیم کی کھلاڑیوں نے افغان فٹبال فیڈریشن (اے ایف ایف) کے سابق سربراہ کریم الدین کریم کی جنسی استحصال کے اسکینڈل میں سزا برقرار رہنے کے بعد ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ہے۔

گزشتہ سال کریم الدین کریم ملک کی متعدد خواتین فٹبالرز کے جنسی استحصال کے مرتکب قرار پائے تھے جس پر کھیل کی عالمی گورننگ باڈی 'فیفا' نے ان پر تاحیات پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: جنسی ہراساں کرنے کا الزام، افغان فٹبال فیڈریشن کے سربراہ پر پابندی

کھیل کی عالمی ثالثی عدالت نے منگل کو فیفا کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ کریم الدین نے انسانی حقوق کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی اور نوجوان خواتین کھلاڑیوں کے ذہنی و جسمانی وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

کھیل کی عالمی ثالثی عدالت نے اپنے بیان میں کہا کہ اس عمل کے باعث انہوں نے ناصرف ان کھلاڑیوں کے کیریئر کو تباہ کردیا بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا۔

کریم الدین نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا اور اسے سازش قرار دیا تھا لیکن فیفا کی جانب سے سزا اور وارنٹ جاری ہونے کے بعد سے وہ مفرور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنسی ہراساں کرنے پر افغان فٹبال فیڈریشن کے سابق سربراہ پر تاحیات پابندی

افغان فٹبال فیڈریشن کے صدر کے خلاف مہم چلانے والی افغانستان کی خواتین ٹیم کی سابق کپتان خالدہ پوپل نے کہا کہ اس فیصلے سے واضح پیغام گیا ہے۔

انہوں نے خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مضبوط بیان ہے کہ فٹبال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور زیادتیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

پوپل نے اپنی ٹیم کی سابق کھلاڑیوں کے ہمراہ کریم کے خلاف جنسی استحصال، موت کی دھمکیوں اور ریپ سمیت دیگر ثبوت اکٹھے کیے۔

ایک اور خاتون فٹبالر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ کریم کو کافی عرصہ قبل گرفتار کر لیا جانا چاہیے تھا لیکن ہمیں اب بھی خوشی ہے کہ دنیا اسے نہیں بھولی ہے۔

مزید پڑھیں: خواتین فٹبالرز کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام، افغانستان کا تحقیقات کا حکم

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو کریم الدین کی گرفتاری کے لیے افغان حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔

اس اسکینڈل نے افغان خواتین فٹبال کے حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا کیونکہ متعدد کھلاڑیوں نے ٹریننگ ترک کردی تھی اور اہلخانہ کی جانب سے دباؤ کے سبب وہ کھیل چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔

ٹیم کے متعدد میچز منسوخ ہو گئے تھے کیونکہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد اسپانسرز نے معاہدے ختم کردیے تھے۔

ایک خاتون فٹبالر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے قدموں پر دوبارہ کھڑے ہو رہی ہیں، ہمیں بحال ہونے میں کچھ وقت لگا لیکن ہمیں خوشی ہے کہ کم از کم انصاف فراہم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جنسی ہراساں کرنے کا کیس: افغان فٹبال فیڈریشن کے سابق سیکریٹری پر بھی پابندی

افغان حکام ابھی بھی کریم الدین کریم کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کا کوئی اتا پتہ نہیں۔

افغان اٹارنی جنرل کے دفتر کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتہائی تفصیلی جانچ کی ہے لیکن کریم تفتیش کے لیے پیش نہیں ہوئے۔

اٹارنی جنرل کے ترجمان جمشید رسولی نے کہا کہ وہ مفرور ہیں، ہم نے پولیس کو ان کی گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے، جب کبھی بھی انہیں گرفتار کیا گیا تو عدالت ان کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔

اس معاملے پر افغان فٹبال فیڈریشن نے بیان دینے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ 2018 میں برطانوی اخبار 'گارجین' میں اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد فیڈریشن کے مزید متعدد عہدیداروں کو برطرف کردیا گیا تھا۔