ایک عام دوا کورونا وائرس کا شکار ہونے سے بچانے میں مددگار قرار

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

خون پتلا کرنے والی ایک دوا ممکنہ طور پر نئے کورونا وائرس کا شکار ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

رینسیلیر پولی ٹیکنیک انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکا کے ادارے فوڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے منظور شدہ ایک عام دوا کووڈ 19 کے خلاف کے لیے طاقتور ٹول ثابت ہوسکتی ہے۔

کووڈ 19 کا باعث بننے والا یہ وائرس اپنی سطح کے اسپائیک پروٹین کو استعمال کرکے انسانی خلیات کو جکڑتا ہے اور پھر بیماری کا باعث بن جاتا ہے۔

مگر تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پیپارین (Heparin) نامی خون پتلا کرنے والی دوا اس اسپائیک پروتین کو سختی سے جکڑ لیتی ہے اور بیماری کا شکار ہونے کے عمل کو بلاک کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

جریدے اینٹی وائرل ریسرچ میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ اس دوا سے کووڈ 19 کا شکار ہونے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے، یہ بالکل ان حکمت عملیوں سے ملتا جلتا ہے جو دیگر وائرسز بشمول زیکا اور ڈینگی کی روک تھام میں حوصلہ افزا ثابت ہورہی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے ابتدا میں مداخلت کرکے ایسے افراد میں بھی بیماری کو کم کیا جاسکتا ہے جن میں وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے مگر علامات سامنے نہیں آئیں، مگر ہم اسے ایک بڑی اینٹی وائرل حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یقیناً ہم ایک ویکسین چاہتے ہیں مگر یہاں ایسے متعدد ذرائع ہیں جن سے کسی وائرس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، جیسا ہم نے ایچ آئی وی میں ادویات کے درست امتزاج کے ساتھ دیکھا، ہم اس وقت تک بیماری کو کنٹرول کرسکتے ہیں جب تک ایک ویکسین تیار نہیں ہوجاتی۔

کسی خلیے کو متاثر کرنے کے لیے ایک وائرس پہلے خلیے کی سطح پر ایک مخصوص ہدف کو نشانہ بناتے ہیں، پھر خلیے کی جھلی سے گزر کر اپنی جینیاتی ہدایات کو داخل کرکے مشینری کو ہائی جیک کرکے اپنی نقول بنانے لگتے ہیں۔

مگر وائرس کو آسانی سے ایک ایسے مالیکیول کی جانب دھوکا دے کر لایا جاسکتا ہے جو اس کے لیے خلیاتی ہدف کی شکل اختیار کرتا ہے، اگر بار وہاں پھنسنے پر وائرس کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے اور وہ کسی خلیے کو متاثر یا خود کو آزاد نہیں کراپاتا، جبکہ بتدریج ناکارہ ہونے لگتا ہے۔

انسانوں میں نیا کورونا وائرس ایس 2 نامی ریسیپٹر کو جکڑتا ہے اور محققین کے مطابق پیپارین بھی اس وائرس کے لیے اتنا ہی پرکشش ہدف ثابت ہوتا ہے۔

محققین نے وائرس کے جکڑنے کے عمل کے تجزیے میں دریافت کیا کہ یہ دوا کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کو 73 پکو مولز (2 مالیکیولز کے درمیان رابطے کا پیمانہ) تک جکڑ لیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بہت زیادہ سخت جکڑ ہوتی ہے، یہ کسی اینٹی باڈی اینٹی جن کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ سخت جکڑ ہوتی ہے، جب ایک بار وائرس جکڑا جاتا ہے تو پھر وہ نکل نہیں پاتا۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے اس دوا کی 3 اقسام میں دیکھا تھا کہ وہ وائرس کو کتنی سختی سے پکڑتی ہیں اور پھر کمپیوٹینشنل ماڈل کو استعمال کرکے ان مخصوص حصوں کا تعین کیا جہاں یہ مالیکیول وائرس کو جکڑ سکتا ہے۔

تمام نتائج سے تصدیق ہوئی کہ یہ دوا وائرس کو دھوکا دینے والی کامیاب حکمت عملی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ واحد وائرس نہیں جس کا سامنا ہم کسی وبا کے دوران کررہے ہیں، ہمارے پاس بہترین اینٹی وائرلز نہیں مگر آگے بڑھنے کا ایک راستہ موجود ہے، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پیپارین جیسی چزیں اور متعلقہ مرکبات وائرس کو داخلے سے روک سکتے ہیں۔