ایران میں کورونا وائرس سے 3 کروڑ 50 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں، حسن روحانی

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2020

ای میل

حسن روحانی نے کہا کہ اندازے کے مطابق ڈھائی کروڑ ایرانی کورونا سے متاثر ہوئے ہیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی
حسن روحانی نے کہا کہ اندازے کے مطابق ڈھائی کروڑ ایرانی کورونا سے متاثر ہوئے ہیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی

ایران کے صدر حسن روحانی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 3 کروڑ 50 لاکھ ایرانی کورونا وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ تاحال کیسز سامنے آرہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حسن روحانی نے کورونا سے متعلق خطاب میں کہا کہ ملک کو کورونا سے چھٹکارا نہیں ملا ہے اور ایک چوتھائی آبادی اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا اندازہ ہے کہ اب تک 2 کروڑ 50 لاکھ ایرانی اس وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں:ایران میں وائرس سے ڈیڑھ ہزار سے زائد ہلاکتیں، 20 ہزار متاثرین

حسن روحانی نے کہا کہ 'ہم اس امکان کو خارج نہیں کر رہے ہیں کہ 3 کروڑ سے 3 کروڑ 50 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں'۔

ایرانی وزارت صحت کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ہم تاحال کورونا وائرس کو روک نہیں پائے ہیں اور ہمارے پاس کوئی صورت بھی نہیں ہے لیکن متحد ہو کر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سلسلے کو توڑ سکتے ہیں'۔

خیال رہے کہ ایران میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے جبکہ اس سے قبل مئی میں بڑی حد تک کمی آگئی تھی۔

ایران میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 14 ہزار ہے اور 8 کروڑ سے زائد آبادی کے حامل ملک میں متاثرین کی تعداد 2 لاکھ 69 ہزار 400 سے زائد ہے۔

ایرانی حکومت نے کورونا وائرس کے کیسز میں ابتدائی طور پر کمی آنے کے بعد اپریل میں بندشوں میں نرمی کی تھی تاہم اب دوبارہ زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں پابندیاں عائد کردی ہیں۔

صدر حسن روحانی کےنائب ترجمان علی رضا معیزی نے ٹوئٹر پر کہا کہ 2 کروڑ 50 لاکھ افراد نے وائرس کا مقابلہ کیا اور کامیاب ہوئے۔

وزارت صحت کے مطابق صدر نے کہا کہ ایران کو ہسپتالوں میں داخل ہونے والے متاثرین کی دوگنی تعداد کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا اور گزشتہ 5 ماہ میں وہ مشکل حالات کا سامنا کرچکا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران میں کورونا وائرس کے علاج کیلئے زہر کھانے سے اموات 700 تک پہنچ گئیں

ایرانی وزارت صحت نے ہسپتال میں داخل متاثرین کی مجموعی تعداد سے میڈیا کو آگاہ نہیں کیا۔

یاد رہے کہ ایران میں کورنا وائرس کا پہلا کیس فروری میں سامنے آیا تھا اور ایک وقت میں دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر تھا جبکہ مشرق وسطیٰ میں اب بھی کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

ایران نے ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے باعث مکمل طور پر لاک ڈاؤن سے گریز کا منصوبہ اپنایا لیکن تمام اسکولوں کو بند کردیا تھا اور اس کے علاوہ بڑے اجتماعات بھی منسوخ کردیے تھے۔

کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ایرانی حکومت نے مارچ میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی تھی تاہم معمولی بہتری کے بعد اپریل میں بندشیں ہٹادی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں چین میں رپورٹ ہونے والے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 6 لاکھ 2 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔