سعودی شاہ کی طبیعت ناساز، ہسپتال منتقل

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2020

ای میل

سعودی فرمانرواں کا طبی معائنہ جاری ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
سعودی فرمانرواں کا طبی معائنہ جاری ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

سعودی عرب کے 84 سالہ حکمران شاہ سلمان بن عبد العزیز کو پتے میں سوزش کی تکلیف پر دارالحکومت ریاض کے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے تیل کے برآمد کنندہ اور 2015 سے امریکا کے قریب اتحادی ملک کے فرماں روا کا طبی معائنہ جاری ہے۔

مزید پڑھیں: حج 2020: صرف سعودی عرب میں موجود افراد کو حج کی اجازت دینے کا فیصلہ

وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا کہ اس خبر کے بعد عراقی وزیر اعظم مصطفی الخادمی نے سعودی عرب کا دورہ ملتوی کردیا۔

دنیا میں اسلمام کے مقدس ترین مقامات کے متولی شاہ سلمان نے بادشاہ بننے سے قبل جون 2012 سے ڈھائی سال کے لیے سعودی ولی عہد اور نائب وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، انہوں نے 50 سے زائد برسوں تک ریاض کے گورنر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ انہیں بادشاہ کی صحت کے بارے میں سخت تشویش لاحق ہے۔

انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ عوام اور سعودی عرب کی قیادت کا ہمارے دلوں میں خاص مقام ہے، میں ان کی جلد صحتیابی اور مکمل صحت کے لیے دعا گو ہوں!۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، پاکستان کو 3ارب ڈالر امداد دینے پر رضامند

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سلطنت میں اصلاحات متعارف کرائی تھیں تاکہ ملک کے صرف تیل پر انحصار کو کم کرتے ہوئے معیشت کی بہتری کے لیے دیگر ذرائع بھی متعارف کرائے جا سکیں۔

مقامی سطح پر سعوی عرب کے نوجوان میں مقبول 34 سالہ شہزادہ محمد بن سلمان نے قدامت پسند مسلم مملکت میں معاشرتی پابندیوں کو کم کرنے، خواتین کو زیادہ سے زیادہ حقوق کی فراہمی اور معیشت کو تنوع بخشنے کے لیے جو اصلاحات کی تھیں اس پر انہیں مقامی سطح پر بہت پذیرائی ملی تھی۔

بادشاہ کے حامیوں کی نظر میں کئی دہائیوں کی احتیاط، جمود اور عدم استحکام کے بعد اندرون اور بیرون ملک یہ بے باکی ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔

لیکن میڈیا پر ریاستی کنٹرول اور بادشاہت میں اختلاف رائے کے خاتمے کے سبب یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس بارے میں مقامی سطح پر کتنا جوش و جذبہ ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: 160 ممالک کے شہریوں کو حج کیلئے منتخب کرلیا گیا

ولی عہد شہزادے نے اصلاحات کے ساتھ بدعنوانی کے الزامات کے تحت اعلیٰ شاہی اور کاروباری افراد کے خلاف کارروائی کی تھی اور یمن میں ایک جنگ کا بھی حصہ بن گئے تھے جس کے سبب بادشاہت کے کچھ مغربی اتحادیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی تھی۔

ان کا یہ اعتماد اس وقت مزید مجروح ہوا تھا جب مبیبنہ طور پر سعودی عرب کے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کو قتل کروا دیا گیا تھا۔