بلوچستان کے شہر تربت میں دھماکا، ایک شخص جاں بحق، 7 زخمی

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2020

ای میل

دھماکے سے دکانوں میں آگ لگ گئی—فوٹو: ڈان نیوز
دھماکے سے دکانوں میں آگ لگ گئی—فوٹو: ڈان نیوز
دھماکا خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا ، پولیس—فوٹو: ڈان نیوز
دھماکا خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا ، پولیس—فوٹو: ڈان نیوز

صوبہ بلوچستان کے شہر تربت کے بازار میں دھماکے کے نتیجے میں ایک فرد جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہوگئے۔

دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ریسکیو ٹیمیں بھی جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی علاج کے لیے تربت کے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ڈان نیوز ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ دھماکے سے نہ صرف قریبی گاڑیوں کو نقصان پہنچا بلکہ کچھ دکانوں میں آگ بھی لگ گئی۔

پولیس کے مطابق شرپسندوں نے ایک موٹر سائیکل میں امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی) نصب کی تھی جیسے انہوں نے تربت میں دکانوں کے باہر کھڑا کرکے دھماکے سے اڑا دیا۔

مزید پڑھیں: پنجگور میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ، 3 جوان شہید، 8 زخمی

ادھر پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ اس بات کی ابھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ دھماکے کا ہدف کون تھا لیکن دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام شہری ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا اظہار افسوس

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بھی تربت کے بازار میں ہونے والے دھماکے اور اس میں قیمتی جان کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

جام کمال خان کا کہنا تھا کہ مذموم مقاصد کے حصول کے لیے بے گناہ لوگوں کا خون بہانے والے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ چند عناصر اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بدامنی پیدا کرکے بلوچستان کو پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں لیکن صوبے میں ترقی اور امن کا عمل ہر صورت جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن عوام کے تعاون سے سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پُرعزم اور متحرک ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے، دہشت گرد عناصر اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو علاج و معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔

دھماکے کے بعد ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے فرد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ امن کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

خیال رہے کہ بلوچستان گزشتہ کچھ عرصے سے بدامنی کا شکار ہے، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔

اس سے قبل مئی کے مہینے میں بلوچستان میں ایک بم دھماکے اور عسکریت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت 7 جوان شہید ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں خود کش دھماکا، 8 افراد جاں بحق

اس بارے میں بتایا گیا تھا کہ ضلع بولان میں گاڑی کے قریب آئی ای ڈی پٹھنے سے 6 جوان شہید ہوئے جبکہ ضلع مکران میں عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک جوان نے جام شہادت نوش کیا۔

اپریل کے مہینے میں قلعہ عبداللہ کے علاقے ٹوبہ اچکزئی میں ایک دھماکے کے نیتجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید اور 2 زخمی ہوگئے تھے۔

قبل ازیں 18 فروری کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے قریب احتجاج کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔