اس بار بقرعید یوں منائیں

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2020

ای میل

اب اس صورتحال سے بچنا محال ہے، چنانچہ ہمارا خیال ہے ایسی تدبیریں کی جائیں کہ تہوار کا دل بھی نہ ٹوٹے اور وبا بھی حملہ کرکے نہ لوٹےفوٹو: شٹر اسٹاک
اب اس صورتحال سے بچنا محال ہے، چنانچہ ہمارا خیال ہے ایسی تدبیریں کی جائیں کہ تہوار کا دل بھی نہ ٹوٹے اور وبا بھی حملہ کرکے نہ لوٹےفوٹو: شٹر اسٹاک

بقرعید آرہی ہے، ہر سال آتی ہے، مگر اس بار فرق یہ ہے کہ کورونا بھی آیا ہوا ہے، محض آیا ہوا ہی نہیں اس نے ہمیں ستایا ہوا، رُلایا ہوا، ہر منہ کو نصف چھپایا ہوا اور میل ملاپ سے ڈرایا ہوا ہے۔

مویشی منڈی جانے، جانوروں کو تھپتپانے، بیوپاری کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر انگلیوں کی تعداد سے سودے کا معاملہ نمٹانے، جانور خرید کر لانے، قصائی کی تھوڑی کو ہاتھ لگا لگا کر معاوضہ کم کرانے، اس کے پہلو میں بیٹھ کر گوشت بنوانے، کھانے کھلانے، ملنے ملانے اور گوشت لے کر گھر گھر جانے کا تہوار اور دوسروں سے ملنے جُلنے سے کترانے، دُور دُور سے ہاتھ ہلانے، گھر ہی میں ڈیرا جمانے، آنے جانے سے جان چھڑانے پر مجبور کرتی وبا۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہی دن میاں کی خوش دامن اور بیوی کی ساس اس جوڑے کے گھر آجائیں، مولانا فضل الرحمٰن اور عمران خان کسی تقریب میں بالجبر ایک ساتھ بٹھادیے جائیں، نوازشریف اور پرویز مشرف ایک دوسرے کو ہوائی جہاز میں برابر والی نشست پر پائیں۔

مزید پڑھیے: جب ہم ذبح ہوں گے، جانے کہاں ہوں گے

جو بھی ہے، اب اس صورتحال سے بچنا محال ہے، چنانچہ ہمارا خیال ہے ایسی تدبیریں کی جائیں کہ تہوار کا دل بھی نہ ٹوٹے اور وبا بھی حملہ کرکے نہ لوٹے۔ تو میرے بھائی اب قافیہ پیمائی ختم کرکے تدبیر آرائی شروع کرتے ہیں کہ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

جانور کی خریداری

پہلا مرحلہ تو جانور کی خریداری ہے۔ بہتر ہوگا کہ آپ مویشی منڈی نہ جائیں بلکہ جانور کو فون کرکے گھر بلالیں۔ مگر وہ کیوں آنے لگا، قربانی کا جانور ہے ہماری سیاسی جماعتوں کا ورکر تھوڑی ہے جو ’تیرے بیٹے ترے جانباز چلے آتے ہیں‘ کہتا دوڑا آئے گا۔ لہٰذا طے یہ پایا کہ آپ ہی کو منڈی جانا پڑے گا۔

منڈی پہنچ گئے؟ اب جانور سے کم از کم 6 فٹ کا فاصلہ رکھیں، یعنی:

پاس جانا نہیں بس دُور سے دیکھا کرنا

شیوہ عشق نہیں ’گائے‘ کو رسوا کرنا

گائے کی جگہ آپ ہم وزن الفاظ ’اونٹ‘، ’بھیڑ‘ اور ’بیل‘ بھی لگاسکتے ہیں، تاہم بکرا شعر میں باندھنا مشکل ہے، لیکن آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔

بہرحال، 6 فٹ کا فاصلہ آپ کو جانور ہی سے نہیں بیوپاری سے بھی رکھنا ہے۔ بعض بیوپاریوں سے یہ فاصلہ عام حالات میں بھی رکھنا چاہیے کیونکہ وہ ‘بیچ ہی کھائیں جو یوسف سا برادر پائیں’ کی تصویر ہوتے ہیں، کہ موقع ملنے پر دوست یا لیڈر جسے پائیں بیچ کھائیں۔ خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔

سودا کرتے وقت آپ دُور ہی سے انگلیوں کی مدد سے بھاؤ تاؤ کریں، مگر یاد رہے کہ کسی گائے یا بیل کی قیمت انگلیوں کے ذریعے ‘5’ لاکھ بتانے کی کوشش مت کیجیے گا، ورنہ بیوپاری خود کٹ کھنا بیل بن جائے گا۔

جانوروں کی خصوصیات اور صفات

لگے ہاتھوں ہم آپ کو منڈی میں موجود جانوروں کی خصوصیات اور اہم صفات بھی بتادیں تاکہ آپ کو فیصلے میں آسانی ہو۔ سب سے پہلے گائے کی بات کرتے ہیں۔

گائے

یہاں جو گائے ہے یہ مقدس گائے نہیں، ورنہ آپ کی قربانی لیتی، اس لیے بلا کھٹکے خرید لیجیے۔ گائے کی برادری میں ‘گڈ گائے اور بیڈ گائے’ نہیں ہوتیں، گائے بس گائے ہوتی ہے، جو انسانوں کو مستفید ہونے کے لیے بہت کچھ دیتی ہے، جیسے دودھ دیتی ہے، کھال دیتی ہے، گوشت دیتی ہے اور گوبر دیتی ہے۔ بھارت کے انتہا پسندوں نے گائے کے گوبر کے اتنے فوائد ڈھونڈ نکالے ہیں کہ اگر یہ بس گوبر ہی دیتی تب بھی بہت تھا۔

اونٹ

پشاور کے بی آر ٹی منصوبے کی طرح اونٹ کا بھی کچھ پتا نہیں ہوتا کہ یہ کس کروٹ بیٹھے گا۔ ویسے یہ اونٹ کا مسئلہ ہے، جس کروٹ بھی بیٹھے اللہ اسے کروٹ کروٹ جنت دے۔ آپ کو اس سے یہ پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں کہ ‘اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کَل سیدھی’ جواب میں اس نے کہہ دیا ‘تینوں کی’ یا اسی طرح کا سوال ہماری حکومتوں کے بارے میں پوچھ لیا تو خواہ مخواہ آپ کی بے عزتی ہوجائے گی۔

بھیڑ

بھیڑ کے بارے میں بے فکر رہیں منڈی میں کوئی کالی بھیڑ نہیں ہوگی، نہ یہاں بھیڑ کی کھال میں کوئی بھیڑیا ہوگا، ان کی منڈی الگ لگتی ہے، خاص کر انتخابات کے فوری بعد، تحریک عدم اعتماد کے موقع پر یا سینیٹ کے الیکشن میں۔ رہا بکرا تو اسے بکرا بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ قربان ہو۔ بس اتنی احتیاط کیجیے گا کہ کہیں بیوپاری آپ کو بکرا نہ بنادے۔

اگلا مرحلہ

جانور خرید لیا؟ اب پہلی فرصت میں اسے ماسک پہنادیں۔ پریشان نہ ہوں، ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے اور مارکیٹ میں بیٹھی صارفین کی سوتیلی ماؤں نے اب تک جانوروں کے ماسک ایجاد کرلیے ہوں گے۔

مزید پڑھیے: کوئی ہے جو ان ’4 پیر‘ والے گدھوں کو بچائے؟

جانور کے پاس سینیٹائزر رکھ دیں اور اسے ہدایت کردیں کہ میاں! (گائے ہو تو بی بی کہنا ہے) ہر چند گھنٹے بعد اپنے کُھر 20 سیکنڈ تک اچھی طرح دھونا ہے۔ اسے کورونا سے ڈرائیے اور زور دیجیے کہ ‘گھبرانا ہے’۔

جانور خرید لیا؟ اب پہلی فرصت میں اسے ماسک پہنادیں— فوٹو: شٹر اسٹاک
جانور خرید لیا؟ اب پہلی فرصت میں اسے ماسک پہنادیں— فوٹو: شٹر اسٹاک

آپ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ جانور آپ کی بات نہیں سمجھیں گے، کیونکہ جانور بہت سمجھ دار ہوتے ہیں تبھی تو انہیں زبردستی گرا کر ذبح کرنا پڑتا ہے ورنہ ملک و قوم کے نام پر خود لیٹ کر قربان نہ ہوجاتے۔

قربانی کا مرحلہ

اب آتا ہے قربانی کا مرحلہ۔ چونکہ سماجی فاصلہ لازمی ہے سو جو بھی کرنا ہے دُور رہ کر ہی کرنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ قصائی ذبح تو تلوار سے کرلے گا مگر جانور کو گرایا اور باندھا کیسے جائے گا؟ ہم اس کا طریقہ بتائے دیتے ہیں۔

جانور کے سامنے 6 فٹ کے فاصلے پر دو زانو ہوکر بیٹھ جائیں، پیار اور شفقت بھری نظروں سے جانور کی طرف یوں دیکھیں جیسے انتخابی امیدوار ووٹر کو دیکھتے ہیں۔ پھر دنیا سے بے رغبتی پر وعظ شروع کردیں، اس سے کہیں کہ تمہارے پاس نہ پہننے کو کپڑے، نہ رہنے کو گھر، یہ جینا بھی کوئی جینا ہوا لَلّو! اسے درد بھری آواز میں گانا سنائیں۔ یہ دنیا یہ محفل ‘ترے’ کام کی نہیں۔ آواز میں درد بھرنے کے لیے ملک اور اپنے معاشی حالات کے بارے میں چند لمحے سوچ لیں، اتنا درد بھریے گا کہ آواز بَھرّا جائے گی، زیادہ درد مت بھریے گا ورنہ کہیں جانور کی جگہ آپ خود قصائی کے سامنے نہ لیٹ جائیں۔

اس کے بعد روکر اور ہچکیاں لے کر زندگی کے لایعنی اور مصائب سے پُر ہونے پر تقریر شروع کردیں جس کا اختتام اس جملے پر ہو ‘سکون تو بس قبر میں ہے’۔ یقین کریں یہ سب سن کر جانور بھی روپڑے گا اور شدت جذبات میں بے زبان ہونے کے باوجود بول اٹھے گا ‘کہیں سے بھی خواب آور گولیوں کی پوری شیشی یا نیلا تھوتھا لادو بھیے! کیا رکھا ہے جینے میں’ بس یہی موقع ہے اسے قربانی کے لیے آمادہ کرنے کا۔

پیار سے چمکار کر کہیے، ’خودکشی حرام ہے پگلے/پگلی! ورنہ ہم پاکستانی جن کا جینا حرام کردیا گیا ہے اب تک کر نہ چکے ہوتے! چلو اُٹھو اور وہاں قصائی کے سامنے سکون سے لیٹ جاﺅ، وہ تمہیں حرام موت سے بچا کر حلال کردے گا’۔ شرطیہ کہتے ہیں جانور آپ کی بات سُن کر پوری تابع داری سے یوں جالیٹے گا جیسے ذبح ہونے نہیں ڈاکٹر سے پیٹ کا معائنہ کرانے لیٹا ہو۔

گوشت کی تقسیم کا معاملہ

اب بچا گوشت کا بانٹنا۔ گوشت کی کٹائی اور بنوائی سے نمٹتے ہی تمام قریب اور دُور کے رشتے داروں، دوست احباب اور محلے والوں کو فون کرکے کھانستے ہوئے کہیں، ’آپ کا گوشت لے کر آرہا ہوں۔ بس کھانسی تھمے تو نکلوں، بڑی زور کی کھانسی آرہی ہے، کھانس کھانس کر ہی بوٹیاں بنائی ہیں قسم سے‘۔

دوسری طرف سے چھوٹتے ہی کہا جائے گا، ’نئیں نئیں نئیں، خدا کے لیے آپ مت آئیں، ہم تو خود 2، 2 گائے کاٹ کر بیٹھے ہیں’۔ لیجیے صاحب! آپ سماجی فاصلہ اور تعلق برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

ہم نے کورونا میں بقرعید سارے لوازمات کے ساتھ منانے اور اس تہوار کی ساری سرگرمیاں وبا سے بچانے کے طریقے بتا دیے۔ آپ ان پر عمل کریں نہ کریں، آپ کا جانور آپ کی مرضی۔