امریکا، چین کے خلاف عالمی سطح پر اتحاد کا خواہاں

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2020

ای میل

پومپیو نے کہا کہ چین کورونا وائرس کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کررہا ہے—فائل/فوٹو:اے ایف پی
پومپیو نے کہا کہ چین کورونا وائرس کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کررہا ہے—فائل/فوٹو:اے ایف پی

امریکا کے سکیریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے چین پر کورونا وائرس کی وبا کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر اتحاد کا خواہاں ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو امریکا کا مرکزی حریف قرار دیا تھا اور صدر شی جن پنگ کو تجارتی معاملات میں برتری حاصل کرنے کے لیے کورونا وائرس کے باعث پورا سچ نہ بولنے کا الزام عائد کردیا۔

مزید پڑھیں:چینی ہیکرز نے کووڈ-19 ویکسین کی ریسرچ چوری کرنے کی کوشش کی، امریکا

ٹرمپ نے کورونا کو چینی وبا سے بھی تعبیر کیا تھا۔

مائیک پومپیو نے لندن کے دورے میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے ہواوے کی 5جی سروس کو بند کرنے کے احکامات کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ درست فیصلہ ہے کیونکہ اس کے باعث اہم مواد چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھوں میں جانے سے بچ گیا۔

چین کوجارحیت پسند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے میری ٹائم سے متعلق غیرقانونی دعوے کیے، ہمالیائی ممالک کو بے وقوف بنایا، کورنا کی وبا کو چھپایا اور شرم ناک طریقے سے اس کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔

برطانوی خارجہ سیکریٹری ڈومینک راب کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں پومپیو نے کہا کہ 'ہمیں امید ہے کہ ہم ایک اتحاد تشکیل دے سکیں گے جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے خطرے کو سمجھے اور اس کو سمجھا سکیں کہ اس طرح کا رویہ ان کے بہتر مفاد میں نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم آزادی اورجمہوریت پسند اقوام کے حوالے سے چاہتے ہیں کہ وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے خطرے کو سمجھیں'۔

پومپیو نے چین پر کورونا وائرس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے لیکن اس سےمتعلق کوئی ثبوت دینے سے قاصر رہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا کو 'چینی وائرس' کہنے پر ٹرمپ کو تنقید کا سامنا

خیال رہے کہ ہانگ کانگ اور کورونا وائرس کے وبا کے معاملات پر برطانیہ نے بھی چین کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے اور ایسے وقت میں پومپیو لندن کا دورہ کررہے ہیں۔

مائیک پومپیو اس دورے میں ممکنہ طور پر برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ کے بعد نئے سطح پر تجارتی معاہدے کرں گے۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ وقت ضائع کیے بغیر معاہدہ ہوسکتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دورہ رواں ماہ کے آخر میں رکھا گیا ہے اور امریکا کا بنیادی زور پیش رفت اور فوری طور پر اس کو ممکن بنانے پر ہے۔

دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ امریکا اورمغرب چین کی مخالفت میں ہیجان کا شکار ہیں اور کمیونسٹ ریاست کے حوالے سے نوآبادیاتی سوچ کو ابھار رہے ہیں۔

برطانیہ سے 5 گنا بڑی معیشت کے حامل ملک چین کا کنہا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کو خارج کرنے سے برطانیہ کی معیشت کو نقصان ہوگا اور اس سے تجارت اور سرمایہ کار پر ضرب پڑے گی۔

لندن میں موجود پومپیو کی جانب سے ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند رہنما ناتھن لا اور برطانوی دور کے آخری گورنر کرس پیٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔

مزید پڑھیں:امریکا کا چین اور روس پر وائرس کی سازشوں میں ’ہم آہنگی‘ کا الزام

خیال رہے کہ امریکا کے وزارت انصاف نے الزام عائد کیا تھا کہ چین کے دو شہریوں نے امریکا اور دیگر ممالک میں سیکڑوں کمپنیوں کی جانب سے کی گئی کووڈ-19 ویکسین پر ریسرچ اور مواد کو چوری کرنے کی کوشش کی۔

نیشنل سیکیورٹی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز کا کہنا تھا کہ 34 سالہ لی شیاؤیو اور 33 سالہ ڈونگ جیاژی نے امریکا، چین اور ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ہیکرز چین میں موجود ہیں اور امریکی قانون کے دائرے سے دور ہیں اور انہوں نے اپنی ذاتی فائدے اور چین کی وزارت اسٹیٹ سیکیورٹی کے مفاد کے لیے کوششیں کیں۔

ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ باؤڈیچ کا کہنا تھا کہ 'چین کی سرکاری انٹیلی جنس سروس کی جانب سے سائبر کرائم کی ہدایات نہ صرف امریکا کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ہر اس ملک لیے خطرناک ہیں جو شفافیت، عالمی اقدار اور قانون کی بالادستی کا حامی ہے'۔

امریکا کے اٹارنی ولیم ہائسزلوپ کا کہنا تھا کہ ہیکرز نے دنیا بھر میں کمپنیوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ 'پورے امریکا اور دنیا بھر میں کئی کاروباری اداروں، انفرادی اور ایجنسیوں کے کمپیوٹر نظام کو ہیک کیا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حساس اور قیمتی کاروباری راز، ٹیکنالوجی، دستاویزی اور ذاتی معلومات چوری کی جارہی ہیں'۔