چینی ہیکرز نے کووڈ-19 ویکسین کی ریسرچ چوری کرنے کی کوشش کی، امریکا

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2020

ای میل

امریکا نےچین کے دو شہریوں کے نام بھی بتادیے—فوٹو:اے ایف پی
امریکا نےچین کے دو شہریوں کے نام بھی بتادیے—فوٹو:اے ایف پی

امریکا کے وزارت انصاف نے کہا ہے کہ چین کے دو شہریوں نے امریکا اور دیگر ممالک میں سیکڑوں کمپنیوں کی جانب سے کی گئی کووڈ-19 ویکسین پر ریسرچ اور مواد کو چوری کرنے کی کوشش کی۔

نیشنل سیکیورٹی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز کا کہنا تھا کہ 34 سالہ لی شیاؤیو اور 33 سالہ ڈونگ جیاژی نے امریکا، چین اور ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: روس پر کورونا ویکسین کی معلومات چرانے کی کوشش کا الزام

انہوں نے کہا کہ ہیکرز چین میں موجود ہیں اور امریکی قانون کے دائرے سے دور ہیں اور انہوں نے اپنی ذاتی فائدے اور چین کی وزارت اسٹیٹ سیکیورٹی کے مفاد کے لیے کوششیں کیں۔

ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ باؤڈیچ کا کہنا تھا کہ 'چین کی سرکاری انٹیلی جنس سروس کی جانب سے سائبر کرائم کی ہدایات نہ صرف امریکا کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ہر اس ملک لیے خطرناک ہیں جو شفافیت، عالمی اقدار اور قانون کی بالادستی کا حامی ہے'۔

امریکا کے اٹارنی ولیم ہائسزلوپ نے کہا کہ ہیکرز نے دنیا بھر میں کمپنیوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ 'پورے امریکا اور دنیا بھر میں کئی کاروباری اداروں، انفرادی اور ایجنسیوں کے کمپیوٹر نظام کو ہیک کیا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حساس اور قیمتی کاروباری راز، ٹیکنالوجی، دستاویزی اور ذاتی معلومات چوری کی جارہی ہیں'۔

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا تھا کہ ہیکنگ کا شکار ہونے والوں میں 'امریکا میں سیکڑوں کمپنیاں، حکومتی اور غیر سرکاری اداروں، شخصیات، مذہبی رہنماؤں، ڈیموکریٹک اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں'۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے علاوہ 'ہانگ کانگ اور چین میں بھی انسانی حقوق کے رہنما، کئی شخصیات اور اداروں پر ہیکرز نے حملے کیے'۔

یہ بھی پڑھیں:ٹوئٹر کا ہیکرز کی جانب سے صارفین کے نجی ڈیٹا کو ڈاؤن لوڈ کیے جانے کا انکشاف

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا، کینیڈا اور برطانیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی خفیہ اداروں کے لیے کام کرنے والے ہیکرز کے گروپ نے دنیا کے متعدد ممالک کی دوا ساز کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کے نظام تک رسائی حاصل کرکے کورونا ویکسین سے متعلق معلومات چرانے کی کوشش کی۔

برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر (این سی ایس سی) نے 16 جولائی کو اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ متعدد ممالک سے کورونا ویکسین اور علاج کی معلومات کو چرانے کی کوشش کرنے والا ہیکرز گروپ روس کے خفیہ ادارے کے لیے کام کرتا ہے۔

تینوں ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ ہیکرز کا گروپ یقینی طور پر روسی خفیہ اداروں کے لیے کام کرتا ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہیکرز کے مذکورہ گروہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا، جاپان، چین اور افریقا کے متعدد اداروں کے مریضوں سے لی گئی معلومات کے مواد تک رسائی کی۔

دوسری جانب روسی حکومت نے مذکورہ الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا، کینیڈا اور برطانیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

کینیڈا، امریکا اور برطانیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ آیا روسی ہیکرز نے کورونا ویکسین سے متعلق کوئی معلومات چرائی یا نہیں، تاہم اتنا کہا گیا تھا کہ ہیکرز نے معلومات چرانے کی کوشش کی۔

تینوں ممالک کے سائبر سیکیورٹی ماہرین کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ روسی ہیکرز کا گروہ ابتدائی طور پر کورونا کے مرض اور ویکسین سے متعلق تحقیق کرنے والے اداروں کے ڈیٹا سسٹم میں ایک ای میل بھیج کر مواد کا جائزہ لیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں ہیکرز مزید تکنیک استعمال کرکے ڈیٹا سسٹم میں موجود مواد کو اسکین کرکے ایک اور ای میل کے ذریعے ڈیٹا کو اپ لوڈ کرکے چوری کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا ویکسین کی معلومات چرانے کیلئے دنیا بھر کے خفیہ ادارے متحرک

یاد رہے کہ امریکی و برطانوی خفیہ اداروں نے رواں برس مئی میں خبردار کیا تھا کہ دنیا کے متعدد ممالک کے خفیہ ادارے کورونا کی ویکسین سے متعلق معلومات چرانے کے لیے متحرک ہوچکے ہیں۔

امریکی خفیہ اداروں نے بتایا تھا کہ دنیا میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی معلومات چرانے کے لیے ایک خفیہ سائبر جاسوس جنگ شروع ہوچکی ہے اور ہر ملک کی کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس جنگ میں برتری حاصل کرے۔

دنیا بھر میں اس وقت 100 کے قریب بائیوٹیک ادارے اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں کورونا وائرس کی ویکسین بنانے میں مصروف ہیں اور اب تک امریکی اور برطانوی کمپنیوں کو اس ضمن میں اچھی کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔

امریکا، چین، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، آسٹریلیا، کینیڈا اور اسرائیل سمیت درجنوں ممالک کی ادویات تیار کرنے والی کمپنیاں اور بائیوٹیک کمپنیاں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی دوڑ میں مصروف ہیں اور عالمی ادارہ صحت کا خیال ہے کہ رواں برس ستمبر تک دنیا میں کورونا کی ویکسین دستیاب ہوجائے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔