بحریہ ٹاؤن کراچی میں تمام تعمیراتی سرگرمیاں غیرقانونی ہیں، ایس بی سی اے

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2020

ای میل

پلاٹس کی بکنگ کے لیے میڈیا پر بحریہ گرینز کی تشہیری مہم شروع کرنے سے قبل مطلوبہ این او سی حاصل نہیں کیا گیا تھا—فائل فوٹو: بحریہ ٹاؤن
پلاٹس کی بکنگ کے لیے میڈیا پر بحریہ گرینز کی تشہیری مہم شروع کرنے سے قبل مطلوبہ این او سی حاصل نہیں کیا گیا تھا—فائل فوٹو: بحریہ ٹاؤن

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں تمام تعمیراتی سرگرمیاں غیر مجاز اور غیر قانونی ہیں اور اس کے 'بحریہ گرینز' پروجیکٹ کو اتھارٹی سے فروخت اور اشتہار سے متعلق تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) حاصل کیے بغیر شروع کیا گیا۔   ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جب بحریہ ٹاؤن کی نئی اسکیم کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس خادم حسین شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ڈیزائن اور شکایت) نے بیان جمع کرایا۔

بیان میں کہا گیا کہ پلاٹس کی بکنگ/فروخت کے لیے میڈیا پر 'بحریہ گرینز' کی تشہیری مہم شروع کرنے سے قبل بحریہ ٹاؤن نے ایس بی سی او 1979 کے سیکشن 5 کے تحت مطلوبہ این او سی حاصل نہیں کیا تھا۔

 اس میں مزید کہا گیا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی جانب سے اگست 2014 میں 4696.685 ایکڑ اراضی کے لیے ایک پلان جاری کیا گیا تھا اور بحریہ ٹاؤن نے اس کے لیے ایک نظر ثانی شدہ این او سی جاری کرنے کی درخواست دی تھی لیکن پہلے جاری کردہ این او سی کی شرائط پوری نہ ہونے کے باعث اس درخواست پر غور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن فنڈز کے مستقبل سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا

ایس بی سی اے نے کہا کہ ایم/ایس بحریہ ٹاؤن (پرائیوٹ) لمیٹڈ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر ایجنسیز کی جانب سے درست منظوریوں/ این او سیز کے بغیر کثیرالمنزلہ عمارتوں/ بنگلوں کی تعمیر اور اس منصوبے کی ترقی جاری رکھی اور اب اس معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام انکوائری کررہے ہیں جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے زیرالتوا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مزید کہا کہ 14 جنوری 2018 کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے 6 سے زیادہ منزلوں کی تعمیر پر پابندی عائد کردی تھی جو بحریہ ٹاؤن کراچی پر بھی لاگو کی گئی تھی جبکہ مئی 2018 کے اپنے ازخود نوٹس کے حکم میں سپریم کورٹ نے ہدایت بھی کی تھی کہ منصوبے کے الاٹیز اپنی اقساط کراچی رجسٹری میں ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے کھولے گئے خصوصی اکاؤنٹ میں جمع کروائیں۔   بیان میں کہا گیا کہ چونکہ ایس بی سی اے کی جانب سے کسی تعمیراتی منصوبے کی منظوری نہیں دی گئی لہٰذا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نقطہ نظر سے بحریہ ٹاؤن میں تمام تعمیراتی سرگرمیاں غیر مجاز اور غیر قانونی ہیں۔

ایس بی سی اے نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کو مورخہ 2018-11-20 کو ایک لیٹر جاری کیا گیا تھا جبکہ ایس بی سی اے کے قانونی سیکشن کے ذریعے قانونی جانچ پڑتال کے بعد عام لوگوں کو آگاہی دینے کے لیے 2018-11-28 کو اخبارات میں عوامی نوٹس شائع کیا گیا تھا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کہا کہ 2018-11-30 کے خط کے مطابق فروخت اور اشتہار کے لیے این او سی غلط ہے۔   یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرلی

ایس بی سی اے نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں بحریہ ٹاؤن کے ایک وفد کے ساتھ جولائی 2019 میں ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں بلڈر کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اسکیم میں موجود پلاٹس کی تعداد کے ساتھ تعمیر شدہ عمارتوں کے اعداد و شمار سے متعلق مکمل معلومات مقررہ مدت میں فراہم کی جائیں گی لیکن اس سلسلے میں مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔   سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس بی سی اے کے سربراہ کو بحریہ سینٹرل پارک اپارٹمنٹس کے اشتہار کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی جو اخبارات میں شائع ہوئی تھی، اس کے علاوہ ایک اور رپورٹ بھی پیش کی گئی تھی اور اس معاملے میں ایک حکم کا انتظار ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ڈائریکٹر ڈیزائن کی جانب سے مارچ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کا معاملہ ایس بی سی اے کے سربراہ نے پرنسپل لا افسر کو ارسال کردیا تھا۔

10 جون کو ڈپٹی ڈائریکٹر (گڈاپ) کو ایک خط جاری کیا گیا تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ وہ سائٹ کی پوزیشن اور عدالتی مقدمات سے متعلق تفصیلات اور رپورٹ فراہم کریں لیکن ابھی تک ان کی جانب سے کوئی معلومات موصول نہیں ہوئیں۔

مزید پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی کیلئے 450 ارب روپے کی پیشکش، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

درخواست گزار طارق اشتیاق نے اپنے وکیل خواجہ نوید احمد کے توسط سے عرض کیا کہ بحریہ ٹاؤن نے متعلقہ اتھارٹیز کی منظوری کے بغیر 'بحریہ گرینز' منصوبہ شروع کیا تھا اور اس کے پاس بھی اس طرح کی اسکیم کے لیے کوئی زمین موجود نہیں تھی۔

خیال رہے کہ 21 مارچ 2019 کو سابق جج شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے 4 مئی 2018 کے فیصلے کے تحت پیش کی جانے والی 460 ارب روپے کی پیش کش کو منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو سندھ حکومت کی طرف سے دی گئی اراضی کی گرانٹ، بحریہ ٹاؤن کی اراضی کے ساتھ اس کا تبادلہ اور سندھ حکومت کی جانب سے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈ ایکٹ 1912 کی دفعات کے تحت غیر قانونی تھا اور اس کا کوئی قانونی وجود نہیں تھا۔

فیصلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ زمین انکریمنٹ ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کے لیے دی گئی تھی تاہم ایم ڈی اے نے اسے بحریہ ٹاؤن کی اسکیم کے ساتھ بدل دیا تاکہ وہ اپنی اسکیم شروع کرسکے۔

واضح رہے کہ یہ تصفیہ بحریہ ٹاؤن کراچی منصوبے سے متعلق ہے جو 16 ہزار 896 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔