قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیلِ نو، مشیر خزانہ کو نکال دیا گیا

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2020

ای میل

12 مئی کو تشکیل دیا گیا کمیشن 11 اراکین پر مشتمل تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
12 مئی کو تشکیل دیا گیا کمیشن 11 اراکین پر مشتمل تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اپوزیشن جماعتوں کے اعتراض کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 10ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کی تشکیل نو کردی تاہم وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو کمیشن سے نکال دیا گیا۔

اس حوالے سے وزارت خزانہ سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیر خزانہ 9 ارکان پر مشتمل کمیشن کی سربراہی کریں گے جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ بھی اس کا حصہ ہوں گے۔

کمیشن کے دیگر اراکین میں پنجاب سے طارق باجوہ، سندھ سے ڈاکٹر اسد سعید، خیبرپخونخوا سے مشرف رسول سیان اور بلوچستان سے قیصر بنگالی شامل ہوں گے۔

مزید پڑھیں: جاوید جبار سیاسی مخالفت کے باعث این ایف سی ایوارڈ سے مستعفی

خیال رہے کہ نئے مالیاتی کمیشن میں 9 اراکین شامل ہیں جبکہ 12 مئی کو تشکیل دیا گیا کمیشن 11 اراکین پر مشتمل تھا، اب حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن سے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور وفاقی سیکریٹری خزانہ کو نکال دیا ہے۔

علاوہ ازیں پہلے کمیشن میں شامل بلوچستان کے رکن سابق سینیٹر جاوید جبار مئی کے اواخر میں اپنی نامزدگی پر سیاسی مخالفت کے باعث این ایف سی سے علیحدہ ہوگئے تھے۔

این ایف سی کے خلاف درخواست نمٹادی گئی

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کے خلاف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کی درخواست نمٹادی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کے خلاف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل جاوید خان نے این ایف سی کی تشکیل کا نیا نوٹی فکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت نے این ایف سی کی تشکیل کیلئے ہونیوالی مشاورت کا ریکارڈ طلب کرلیا

انہوں نے کہا کہ جس نوٹی فکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا وہ حکومت نے واپس لے لیا اور نیا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے لہذا خرم دستگیر کی درخواست غیر مؤثر قرار دی جائے۔

جس پر مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ہمارا اعتراض تھا کہ ہم سے مشاورت کے بغیر مالیاتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرانے مالیاتی کمیشن کی تشکیل کے نوٹی فیکیشن پر مجھے بھی اعتراض تھا جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کی تعریف کی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہر اٹارنی جنرل اس طرح بات نہیں کرتا۔

مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کا این ایف سی کا 'غیرقانونی' نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلا نوٹی فکیشن غیر مؤثر ہو گیا اور اب یہ نوٹی فکیشن آن فیلڈ ہے جس کے مطابق مشیر خزانہ کو کمیشن میں شامل نہیں کیا گیا۔

اس پر محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ہماری یہ کامیابی ہے کہ ہم نے حکومت کو آئین کے تحت کام کرنے پر مجبور کیا۔

بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کی استدعا پر قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواست نمٹا دی۔

پاکستان کے چاروں صوبوں میں رہنے والے عوام کی فتح ہوئی، خرم دستگیر

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں محسن شاہ نواز رانجھا اور خرم دستگیر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں رہنے والے عوام کی فتح ہوئی ہے۔

خرم دستگیر خان نے کہا کہ حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن کا نوٹس جاری کیا تھا جو غیر آئینی تھا اور وفاق کی جانب سے صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نوٹی فکیشن چیلنج کیا تھا، ہمارا پہلا اعتراض تھا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ کوئی بھی مشیر اس کا رکن ہو سکتا ہے، ہم نے چیلنج کیا تھا کہ اراکین کا تعین کرنے سے پہلے صوبوں کے گورنرز سے مشاورت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'صوبوں سے اختیارات واپس نہیں لینا چاہتے،این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی ہونی چاہیے'

خرم دستگیر نے کہا کہ گورنرز نے بھی صوبے کی کابینہ سے مشاورت کے بعد نام تجویز کرنا ہوتے ہیں، وزارت خزانہ نے مشاورت کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیا نوٹی فکیشن جاری کیا ہے، ہم نئے نوٹس کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) صوبوں کے وسائل کی نگہبان ہے۔

ان کے بعد گفتگو کرتے ہوئے محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے نوٹی فکیشن میں آئین کی بے توقیری کی گئی، اگر ہم پاکستان کے آئین کا دفاع نہیں کریں گے تو ہم پاکستان کو کمزور کریں گے۔

محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جدو جہد آئین میں دیے گئے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے، وفاق کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ صوبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالے۔

10ویں مالیاتی کمیشن کی تشکیل

واضح رہے کہ آئین کے مطابق ہر 5 سال بعد این ایف سی تشکیل دیا جاتا ہے جس میں وفاق اور صوبوں کے وزرا قانونی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ کمیشن میں ہر صوبے سے ایک غیر حکومتی رکن کی شمولیت بھی لازمی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 12 مئی کو 10واں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ تشکیل دیا تھا۔

وزارت خزانہ میں قائم این ایف سی سیکریٹریٹ سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 160 (1) کے تحت 23 اپریل 2020 سے 10ویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل کی تھی۔

مزید پڑھیں: صدر نے 10واں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ این ایف سی ایوارڈ کے چئیرمین ہوں گے جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کمیشن کے ارکان ہوں گے۔

کمیشن کے دیگر اراکین میں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور، پنجاب سے طارق باجوہ، سندھ سے ڈاکٹر اسد سعید، خیبر پختونخوا سے مشرف رسول سیاں اور بلوچستان سے جاوید جبار شامل ہیں۔

تاہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کمیشن کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا اور عمر گیلانی کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئین کی دفعہ 160 کے تحت صدر نے نوٹیفکیشن جاری کیا جن کی ذمہ داری ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اور صوبائی وزیر خزانہ اور ان افراد پر مشتمل کمیشن تشکیل دیں جنہیں صوبوں کے گورنرز سے مشاورت کے بعد مقرر کیا گیا ہو۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ کمیشن میں 2 قسم کے اراکین ہونے چاہیے ایک قانونی اراکین اور دوسرا متفقہ اراکین، قانونی اراکین وہ 5 اراکین ہوتے ہیں جن کی موجودگی کمیشن کے لیے لازم ہے جس میں وفاقی اور صوبائی وزرائے خزانہ شامل ہیں جبکہ متفقہ اراکین وہ ہوتے ہیں جنہیں گورنرز سے مشاورت کے بعد شامل کیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی متفقہ رکن کو صدر اور صوبوں کے گورنرز (ان کی کابینہ کی تجویز) کے درمیان اس بات پر اتفاق ہونے پر شامل کیا جاتا ہے کہ اس رکن کی مہارت این ایف سی کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت این ایف سی ایوارڈ کی از سر نو تشکیل کیلئے فعال

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ صدر نے وزیراعظم کے مشیر خزانہ کو این ایف سی کے اجلاس کی سربراہی کا اختیار دیا۔

پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ چنانچہ محسوس ہوتا ہے کہ ایسی کوئی تجویز لی ہی نہیں گئی بالخصوص ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا تقرر اس بات پر یقین کی وجہ ہے کہ کسی بھی صوبائی کابینہ سے مشاورت نہیں کی گئی، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ 12 مئی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔