کورونا وائرس سے زمین پر دنگ کردینے والے اثر کا انکشاف

اپ ڈیٹ 24 جولائ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

نئے کورونا وائرس کے نتیجے میں دنیا بھر میں معاشی اداروں کی بندش سے ارضیاتی ‘آوازوں’ کی شرح میں بے نظیر کمی دیکھنے میں آئی۔

کاروباری اداروں کی بندش کے اثرات کو زلزلہ پیما آلات میں دیکھا گیا جو کہ عام طور پر آدھی رات یا تعطیلات کے دوران نظر آتے ہیں۔

مگر اس بار یہ اثرات مارچ سے مئی تک برقرار رہے اور لگ بھگ دنیا کے ہر گوشے میں انہیں محسوس کیا گیا، جو کہ زلزلے کی سائنس کی تاریخ میں دنیا میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

جریدے جرنل سائنس میں شائع تحقیق میں 27 ممالک کے 7 سائنسدانوں نے زلزلہ پیما آلات سے زمین پر مرتب اثرات کا مشاہدہ کیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں جیسے جیسے وائرس دنیا میں پھیلنا شروع ہوا، زمین کی سطح غیرمعمولی حد تک پرسکون اور خاموش ہوگئی۔

معیشتوں کے بند ہونے سے انسانی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھیں جبکہ لوگوں کو زیادہ وقت گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

کیلیفورنیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہر کیلیسٹ لیبیڈیز کا کہنا تھا کہ آپ کبھی توقع بھی نہیں کرسکتے کہ کسی مرض کے اثرات زلزلہ پیما آلات پر نظر آسکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران دنیا بھر میں 268 ریسرچ اسٹیشنز کے ڈیٹا کو اکٹھا کرکے لگ بھگ دنیا کے ہر خطے میں کاروباری بندش کے اثر کو دیکھا گیا۔

ترکی، چلی، ایران، کوسٹاریکا، آسٹریلیا اور دیگر متعدد ممالک سے رپورٹس کو جمع کیا گیا۔

یہ اثرات سری لنکا میں ڈرامائی تھے جہاں ایک اسٹیشن میں آوازوں کی شرح میں 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ نیویارک شہر کے سینٹرل پارک میں یہ شرح رات کو 10 فیصد تک گھٹ گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا سے قدرتی آفات اور انسانی سرگرمیوں کے باعث آنے والی آفات کو فرق کرنے میں مدد مل سکے گی جبکہ یہ وبائی صورتحال میں انسانی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کا ایک ٹول بھی ثابت ہوگا۔

ارضیاتی ماہرین زلزلہ پیما آلات کو زمینی حرکت کے لیے استعمال کرتے ہیں، جیسے زمین کی سطح اندر سے ٹوٹنے یا کسی فالٹ لائن کے نتیجے میں زلزلے سے توانائی کا اخراج ہوتا ہے جس سے اوپری سطح کانپنے لگتی ہے۔

اس سے کم اثر اس وقت ہوتا ہے جب کسی ٹرک کی جانب سے اچانک بریک لگائی جاتی ہے تو توانائی کی ایک لہر زمین کے اندر جاتی ہے۔

کسی کے چلنے سے بھی ایک سیسمومیٹر پر گراف اوپر جاتا ہے، اس طرح کے گرافس رات کے وقت گر جاتے ہیں جب انسانی سرگرمیاں بہت کم رہ جاتی ہیں۔

ویسے تو شٹ ڈاؤنز سے آوازوں کا مدھم ہونا حیران کن نہیں مگر جتنے بڑے پیمانے میں ایسا ہوا وہ ضرور دنگ کردینے والا ہے۔